کراچی کی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی “را” ملوث نکلی

 

 

 

کراچی میں پے در پے ہونے والے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ تازہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق  بھارتی خفیہ ایجنسی را کراچی کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کے لیے “زینبیون بریگیڈ” نامی دہشت گرد گروہ کو فنڈنگ فراہم کر رہی ہے، جس کے ذریعے فرقہ ورانہ فسادات پھیلانے کیلئے مختلف مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق را کی یہ مکروہ سرگرمیاں صرف مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ دہشتگرد گروہ کو را کی طرف سے ہدفی کارروائیوں کے لیے سہولیات، معلومات اور لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر میں را کے نیٹ ورک کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے ہیں۔ متعدد مشتبہ افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ کئی سہولت کاروں سے تفتیش جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کئی گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں را کی جانب سے فنڈنگ کے اشارے دئیے ہیں۔ جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے اپنی تحقیقات کو وسیع کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے بڑی گرفتاریاں متوقع ہیں تاہم، اس تمام صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تمام شرپسندانہ کارروائیاں واقعی صرف بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہیں، یا داخلی نظام کی وہ کمزوریاں ہیں جنہیں دشمن قوتیں آسانی سے استعمال کر رہی ہیں؟

 

مبصرین کے مطابق کراچی میں ماہ اکتوبر میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا پہلا واقعہ یونیورسٹی روڈ پر پیش آیا، جہاں قاری انس معاویہ نامی شخص کو با قاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وہاں بلایا گیا اور پروفیشنل انداز میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے چند روز بعد ناگن چورنگی پر صدیق اکبر مسجد کے قریب قائم عطر و ٹوپی فروخت کرنے والی دکان پر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے ۔ دونوں افراد کا تعلق دیو بند مکتب فکر سے بتایا جاتا ہے۔ جس کے بعد اہلسنت والجماعت نے با قاعدہ احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت کو ڈیڈ لائن دی کہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی تو وہ احتجاجی تحریک شروع کردیں گے۔ دباؤ بڑھنے پر سی ٹی ڈی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قاری انس معاویہ کے قتل میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جنہیں پڑوسی ملک کی کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کی حمایت حاصل تھی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ناگن چورنگی کے واقعے میں بھی ملوث افراد کی نشاندہی ہوچکی ہے اور ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

 

اہلسنت والجماعت نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشتگردوں نے اس سال اب تک ان کے 6افراد کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پڑوسی ملک کی تنظیم زینبیون کا کراچی میں مختلف انجمنوں میں اہم نیٹ ورک قائم ہے اور اس تنظیم کو بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ شہر میں فرقہ ورانہ دہشت گردی کیلئے فنڈنگ اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔ جس کا مقصد شہر میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔ زینبیون بریگیڈ کے شوٹر ہر قسم کے ہتھیار چلانے کے ماہر ہیں اور ان کے ٹارگٹ کی ریکی کراچی کے مقامی افراد کر رہے ہیں اور وہی انہیں سلیپر سیل کی سہولیات بھی دیتے ہیں۔ ان مقامی افراد کا تعلق ایک فرقہ سے ہے جو کسی زمانے میں کالعدم سپاہ محمد کے کارندے بتائے جاتے ہیں۔ زینبیون بریگیڈ کے سیلپر سیل سچل ، گلشن اقبال، گلستان جوہر، رضویہ، گلبہار، انچولی, ملیر جعفر طیار سوسائٹی، طارق روڈ پر قائم ہیں۔ اس دہشت گرد گروپ کے ٹارگٹ کلر پڑوسی ملک سے قافلوں کی آڑ میں کراچی آتے ہیں اور انہی قافلوں کی آڑ میں واپس بھی چلے جاتے ہیں۔

 

تحقیقات کرنے والے افسران کے مطابق فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت کا یہ سلسلہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل سمن آباد کے علاقے میں ابو ہاشم نامی شخص کی ٹارگٹ کلنگ میں زینبیون بریگیڈ سے وابستہ کارندے رنگے ہاتھوں گرفتار کیے گئے تھے۔ جس کے بعد اس نوعیت کے واقعات میں کمی واقع ہوئی تھی۔ مگراب یہ سلسلہ دوبارہ سراٹھا رہا ہے۔ را کی جانب سے کراچی میں ایک بار پھر مذہبی بنیادوں پرتصادم کی فضا پیدا کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔ جس کا مقصد شہر کے امن کو تباہ کرنا اور عوامی سطح پر انتشار پھیلانا ہے۔ سی ٹی ڈی اور پولیس حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات کے پیچھے سر گرم نیٹ ورک کو ختم کرنے کیلئے شہر بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیئے گئے ہیں۔

مذاکرات کے باوجود پاک افغان تعلقات میں بہتری ممکن کیوں نہیں؟

دوسری جانب مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ “را” کی جانب سے پاکستان میں خفیہ کارروائیوں کے شواہد نئے نہیں، مگر کراچی جیسے حساس شہر میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہدفی قتل صرف بیرونی سازش سے ممکن نہیں۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ فرقہ وارانہ تشدد کی جڑیں خود پاکستان کے اندر کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ مذہبی عدم برداشت، فرقہ وارانہ نفرت، اور مسلکی تنظیموں کا پھیلاؤ دشمن قوتوں کے لیے ایک تیار پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث متعدد نیٹ ورکس بروقت بے نقاب نہیں ہو پاتے۔ اس کے علاوہ، غربت، بیروزگاری اور عوام میں موجود احساس محرومی دشمن قوتوں کے لیے بھرتی اور فنڈنگ کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ یوں اگرچہ “را” کے مبینہ ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، لیکن اس کامیابی کی بنیادیں وہ داخلی کمزوریاں ہیں جو برسوں سے ریاست دشمن عناصر کو ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔

 

 

Back to top button