لیبیا میں مسلح گروپوں کےمابین جھڑپوں میں 32 افراد ہلاک ہوگئے

لیبیا میں مسلح جھڑپ میں مجموعی طور پر 32 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیبیا پر حکمرانی کے دعویداروں عبدالحمید دبیبہ اور فتحی باشآغا کے حامی ایک دوسرے پر بل پڑے۔ مسلح گروپوں کی جھڑپوں کے دوران فائرنگ کے تبادلے اور دھماکوں میں اسپتالوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

رپورٹس کے مطابق یہ لڑائی دارالحکومت تریپولی میں 2020 کی جنگ بندی کے بعد کی بدترین لڑائی ہے جس میں اب تک 32 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 159 افراد زخمی ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ جنگ زدہ لیبیا میں گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جانب سے امن عمل کی بحالی کی کوششوں میں حکومت عبدالحمید دبیبہ کو دی گئی تھی تاہم وزیر داخلہ فتحی باشآغا نے اسے قبول نہیں کیا اور سخت مزاحمت کی۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض جاری کرنے کی منظوری دیدی

خیال رہےکہ لیبیا کے دارالحکومت اور چند بڑے شہروں میں اقوام متحدہ کی قائم کی گئی عبدالحمید دبیبہ کی حکومت ہے جب کہ مشرقی حصے میں واقع پارلیمان میں حکمرانی فتحی باشآغا کی ہے جنھیں فوجی سربراہ خلیفہ حفتر کی حمایت حاصل ہے۔

Related Articles

Back to top button