امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی ری پبلکن پر واضح برتری

امریکا میں انتخابات کےلیے مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے،ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری ہے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد مختلف ریاستوں سے نتائج بھی آنا شروع ہوگئےہیں،ابتدائی نتائج کے مطابق 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کےلیے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار ہے،ایوان نمائندگان میں ابتدائی نتائج کےمطابق 132 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 77 پر ری پبلیکنز نے کامیابی حاصل کی ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جب کہ کئی رہنماؤں نے اپنی نشستوں کا کامیابی سے دفاع کرلیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کو تاحال واضح برتری حاصل ہے، ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو 46 نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جب کہ ری پبلیکن نے 37 سیٹوں پر فتح سمیٹی ہے۔
ابتدائی نتائج کےمطابق کینٹکی کے ڈسٹرکٹ 5 سے ریپبلکن امیدوار ہال راجرز کامیاب قرار پائے جب کہ ڈسٹرکٹ 3 کی نشست ڈیموکریٹ امیدوار مورگن میک گیروی نے جیت لی۔
فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ 12 سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈیبی واسرمین شلٹز نے ریپبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر مسلسل 12ویں مرتبہ کانگریس کی رکنیت حاصل کرلی،فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ 19 سے ریپبلکن امیدوار جم شوارٹزل بھی کامیاب قرار پائے جب کہ ڈسٹرکٹ 23 سے ڈیموکریٹ امیدوار لوئس فرینکل نے کامیابی حاصل کی۔
ریاست جارجیا میں بھی ڈیموکریٹس نے متعدد نشستیں جیت لیں،ڈسٹرکٹ 5 سے نکیما ولیمز،ڈسٹرکٹ 13 سے جیسمین کلارک،ڈسٹرکٹ 6 سے لوسی میکبتھ اور ڈسٹرکٹ 4 سے ہینک جانسن نے ایوان نمائندگان کی نشستیں اپنے نام کرلیں۔
ورمونٹ کے ڈسٹرکٹ 1 سے ڈیموکریٹ امیدوار بیکا بالنٹ نے ریپبلکن حریف کو شکست دےدی جب کہ ریاست اوہائیو کی ایوان نمائندگان کی تین نشستیں بھی ڈیموکریٹس کے حصے میں آئیں۔
ٹیکساس کے ڈسٹرکٹ 30 سے ڈیموکریٹ امیدوار فریڈرک ڈی نے کامیابی حاصل کی، فلوریڈا سے سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان کی 4 جب کہ ریپبلکنز نے 5 نشستیں جیتیں۔
دوسری جانب سینیٹ کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے متعدد اہم کامیابیاں حاصل کیں،جارجیا سے ڈیموکریٹ امیدوار جان اوسوف نے سینیٹ کی نشست جیت لی جب کہ ڈیلاویئر، نیوجرسی،رہوڈ آئی لینڈ، میساچوسٹس اور الینوائے سے بھی ڈیموکریٹ امیدوار کامیاب ہوئے۔
نیو ہیمپشائر سے ڈیموکریٹ امیدوار کرس پاپاس نے سینیٹ کی نشست اپنے نام کی جبکہ نارتھ کیرولائنا سے ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر بھی سینیٹ کےلیے منتخب ہوگئے، ڈیموکریٹس اب تک سینیٹ کی 9 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
تاہم فلوریڈا سے ریپبلکن امیدوار ایشلے موڈی نے سینیٹ کی نشست جیت لی، ایشلے موڈی نے 2025ء میں مارکو روبیو کے امریکی وزیر خارجہ بننے کے بعد خالی ہونے والی نشست سنبھالی تھی۔
صرف یہی نہیں بلکہ گورنر کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے کامیابیاں حاصل کی ہیں، پینسلوینیا، میری لینڈ،میساچوسٹس اور الینوائے میں ڈیموکریٹ امیدوار گورنر منتخب ہوگئے۔
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کےلیے ہونےوالے ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے کم از کم 218 نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو اکثریت ملےگی،ڈیموکریٹس کو ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کےلیے درکار نشستوں کے حصول کی امید ہے جب کہ ریپبلکنز اپنی اکثریت برقرار رکھنے کےلیے میدان میں ہیں۔
انتخابی نتائج واضح ہونے کےبعد ہی یہ فیصلہ ہوسکے گا کہ صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرکے امریکی سیاست میں نئی صورت حال پیدا کرتے ہیں۔
