عمران خان کے اپنی مرشد بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کیلئے ترلے

اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اپنی رہائی سے زیادہ اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت اور ان کی مشکلات کی فکر ستانے لگی۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی رہنماؤں اور اپنے وکلا کو ہدایت کی ہے کہ ان کی رہائی کی کوششوں کی بجائے بشریٰ بی بی کو قانونی ریلیف دلانے اور انھیں قید سے چھٹکارہ دلانے کیلئے کوششیں مزید تیز کی جائیں تاکہ وہ جلد از جلد جیل کی چاردیواری سے باہر ہوں۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت تسلی بخش ہے، تاہم اہلیہ بشریٰ بی بی کو آنکھوں کے مسئلے کا سامنا ہونے پر وہ تشویش کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے اپنے وکیل سے ملاقات کے دوران ہدایت کی ہے کہ بشریٰ بی بی کے معاملے میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کیا جائے۔ طویل وقفے کے بعد ہونے والی اس ملاقات میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور وفاقی حکومت کے حالیہ اقدامات سمیت سیاسی پیش رفت کا معاملہ بھی پس منظر میں موجود رہا، تاہم ملاقات کو طے شدہ اتفاق کے مطابق سیاسی گفتگو کے بجائے قانونی اور پیشہ ورانہ امور تک محدود رکھا گیا۔
روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی سینئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پیر کے روز اڈیالہ جیل میں اپنے وکیل سے ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سمیت حالیہ آئینی و سیاسی تبدیلیوں سے پہلے ہی آگاہ تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وکیل نے ملاقات میں انہیں ان پیش رفتوں پر بریفنگ نہیں دی، کیونکہ ملاقات کو سیاسی گفتگو سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ملاقات کے دوران عمران خان کی صحت کے بارے میں بھی بات ہوئی، جسے ذرائع نے تسلی بخش قرار دیا۔ تاہم بشریٰ بی بی کی آنکھوں سے متعلق بیماری ان کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ عمران خان نے مبینہ طور پر اپنے وکیل کو ہدایت کی کہ اس معاملے میں کسی سیاسی دباؤ یا غیر رسمی راستے کے بجائے عدالتوں سے قانونی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور متعلقہ عدالتی فورمز پر مناسب درخواستیں دائر کی جائیں۔
خیال رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کو ایک نئی سیاسی اور انتظامی صورتحال کا سامنا ہے۔ صوبے میں پارٹی کی سابقہ حکومت کے خاتمے اور وفاقی اقدامات نے اس کی آئندہ حکمت عملی، قیادت کے کردار اور سیاسی سرگرمیوں کے مستقبل سے متعلق کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات کی اہمیت صرف عمران خان کی صحت سے متعلق وضاحت تک محدود نہیں بلکہ بشریٰ بی بی کے معاملے میں قانونی راستہ اختیار کرنے کی ہدایت بھی قابلِ توجہ ہے۔ ایک طرف عمران خان اپنی اہلیہ کی بیماری پر فکرمند ہیں، تو دوسری جانب ان کی ہدایت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس معاملے کو عدالتی کارروائی کے ذریعے آگے بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
