پاکستان نے افغان طالبان کو انڈین پراکسی کیوں قرار دیا؟

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کو جس امن و استحکام کی توقع تھی، وہ پوری ہونے کے بجائے دونوں ملکوں کے تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔ دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے افغان سرزمین کو دہشت گردی اور دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں اب اس کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار افغان انتظامیہ سے ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، مگر ان تحفظات کے مؤثر ازالے کے بجائے کابل کی جانب سے الزامات کی تردید اور جوابی مؤقف سامنے آتا رہا۔ اب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی افغان طالبان رجیم کو بھارت کی پراکسی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ کیا افغانستان کی موجودہ انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھارت کے اثرورسوخ کو ترجیح دے رہی ہے؟
مبصرین کے مطابق دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس یقین دہانی پر عمل درآمد نہیں ہوا اور سرحد پار سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بارہا افغان انتظامیہ سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے، تاہم کابل ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی اختلاف دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے بحران کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں امن کو پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیتا رہا ہے۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے عمل میں بھی پاکستان نے سہولت کاری کی، جبکہ لاکھوں افغان مہاجرین کی کئی دہائیوں تک میزبانی کی۔ لیکن اب پاکستان خود افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ حال ہی میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان پاکستان کے دیرینہ تحفظات کو عالمی سطح پر ملنے والی اہمیت کا عکاس ہے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور موجودہ سکیورٹی چیلنجز کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جبکہ 90 ہزار سے زائد شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور فوجی جوانوں نے جانیں قربان کیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف طویل کارروائیوں کے ذریعے ملک میں امن بحال کیا، لیکن اب مغربی سرحد سے پیدا ہونے والا خطرہ دوبارہ اس کی سلامتی اور استحکام کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور مغربی ممالک کو بھی پاکستان کے ان تحفظات کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تعاون کی صورت میں دیکھنا ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں افغان طالبان رجیم پر الزام عائد کیا کہ وہ غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھارت کی پراکسی تنظیمیں ہیں اور افغان سرزمین سے انہیں اسلحہ، پناہ اور اہداف فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے مطلوب دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ ملنے کا دعویٰ بھی کیا اور خبردار کیا کہ اگر طالبان رجیم نے پاکستان کے تحفظات دور نہ کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف اس خدشے کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اب محض داخلی مسئلہ نہیں رہے بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان کی جانب سے یہ خدشات سامنے آتے رہے ہیں کہ نئی دہلی براہ راست دباؤ کے بجائے بالواسطہ ذرائع سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان اور بھارتی خفیہ ادارے را کے درمیان روابط اور دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی کے الزامات بھی اسی تناظر میں عائد کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے اندرونی اختلافات اور مختلف دھڑوں کے اثرورسوخ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ تقسیم دہشت گردی کے خلاف مؤثر پالیسی بنانے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے اپنے تحفظات کو عملی شکل بھی دی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں، جبکہ افغان انتظامیہ انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق سرحد پار کارروائیوں اور جوابی اقدامات کا تسلسل دونوں ملکوں کو ایک ایسے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ پاکستان نے چین، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ وہ اپنے اثرورسوخ کے ذریعے طالبان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات پر آمادہ کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے سامنے اس وقت سفارتی دباؤ، علاقائی تعاون اور ضرورت پڑنے پر محدود فوجی کارروائی سمیت مختلف راستے موجود ہیں۔ تاہم افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ سے گریز پاکستان کی پالیسی کا ایک اہم پہلو رہا ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل سرحد، تاریخی تعلقات اور افغان عوام سے روابط اس تنازع کو مزید حساس بناتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ترجیح اب بھی یہی ہونی چاہیے کہ طالبان انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ لیکن اگر سرحد پار سے دہشت گرد حملے جاری رہتے ہیں اور افغان انتظامیہ ان کے سدباب کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات نہیں کرتی تو دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
