لاہور، محبت سے سموگ تک

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
آج کل سموگ نے لاہوریوں کی حالت خراب کی ہوئی ہے۔ ویسے تو سموگ کا مسئلہ ہر سال سر اٹھاتا ہے لیکن اس سال صورتحال زیادہ خراب لگ رہی ہے۔ تو کیا میرے جیسوں کو لاہوریوں کی اس حالت پر خوش ہونا چاہیے کہ دیکھا! ہم نہ کہتے تھے کہ ایک دن آپ کا فضائی آلودگی کے ہاتھوں جینا حرام ہو جائے گا۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے کالموں میں کئی دفعہ لکھا کہ محکمہ موسمیات کے ایک اعلیٰ افسر نے خطرناک پیشگوئی کی تھی کہ پنجاب کے تین شہر دس پندرہ برس بعد رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ انہوں نے لاہور‘ فیصل آباد اور گوجرانوالہ کا نام لیا تھا اور کہا تھا کہ آلودگی اتنی بڑھ جائے گی کہ لوگ دھیرے دھیرے ان شہروں سے ہجرت کرنا شروع کر دیں گے یا کم از کم تین سے چھ ماہ ان شہروں سے دور رہیں گے۔ اس وقت اُس ماہرِ موسمیات کو اندازہ نہ تھا کہ ان تین شہروں کے علاوہ ملتان کا نمبر بھی لگے گا‘ جو اس وقت لاہور کے بعد فضائی آلودگی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اگلی باری اسلام آباد کی ہے۔ جب میں نے لاہور میں بڑھتی آلودگی اور سبزے کی بربادی کے بارے میں اپنے کالموں اور ٹی وی شوز میں شور مچانا شروع کیا کہ لاہور کی ترقی کا یہ نیا ماڈل اس شہر کو تباہ کر دے گا کیونکہ فضائی آلودگی کے خطرناک انڈیکیٹرز سامنے آنا شروع ہو گئے تھے‘ تو میرے خلاف سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلوائی گئی کہ جنوبی پنجاب سے تعلق ہونے کی وجہ سے اسے لاہور کی ترقی چبھ رہی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اپنے ایک کالم میں اس پر یہی بات لکھی تھی کہ کیا میں یہ بات کرکے لاہور کی ترقی کا دشمن بن رہا ہوں‘ یا میں یہ بات اس لیے کر رہا ہوں کہ لاہور مجھے بہت عزیز ہے‘ ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کی طرح جو لاہور میں رہتے ہیں‘ یا جنہوں نے 80ء اور 90ء کی دہائیوں کا لاہور دیکھ رکھا ہے اور وہ آج تک اس کے رومانس سے نہیں نکل سکے۔ ایسے تو نہیں کہا گیا تھا کہ لہور لہور اے‘ جنیں لہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ لاہور سے محبت تو سرحد پار بھی موجود ہے۔ انڈین فلموں میں لاہور پر گائے گئے گیت آج بھی مقبول ہیں۔ وہ لاہور جس پر شاعروں نے شعر لکھے‘ ادیبوں نے کہانیاں لکھیں‘ مصنفوں نے کتابیں لکھیں‘ اس کی خوبصورتی اور حسن کے قصیدے لکھے‘ جو مغلوں کا سب سے پسندیدہ شہر تھا‘ آج اس لاہور میں لوگ سانس نہیں لے پا رہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی دفعہ 1985ء میں ہائی سکول کی چھٹیوں میں لیہ سے لاہور آیا تھا اور پہلی بار اپنی خالہ سائرہ اور خالو میجر نواز ملک کے کینال روڈ پر واقع گھر پہنچا تھا‘ تو یہ کیسا خوبصورت‘ خوشبوؤں اور پھولوں والا شہر تھا۔ مون سون کا موسم تھا ‘ تقریباً روز ہی تھوڑی تھوڑی بارش ہوتی تو سڑکیں دھل جاتیں اور ہر طرف پھولوں کی خوشبو سی پھیل جاتی۔ پورا شہر اچانک بہت پیارا اور زندگی خوبصورت لگنے لگتی۔ میں اُس لاہور کی محبت میں آج تک گرفتار ہوں کہ کیسے خالہ اپنے بچوں اور میرے کزنز کے ساتھ مجھے مال روڈ پر فیروز سنز لے جا کر کہانیوں کی کتابیں لے کر دیتی تھیں۔ پھر دس گیارہ برس بعد‘ 1996ء میں مَیں صحافی بن کر لاہور گیا تو پتا چلا کہ یہ غریب پرور شہر بھی ہے‘ یہاں آپ بھوکے نہیں مرتے۔ میرے ساتھ خان پور کا عبیداللہ تھا اور میں فکشن ہاؤس کے ظہور احمد خان‘ رانا عبدالرحمن اور محمد سرور کی مہربانی سے تراجم کرتا تھا‘ جو عبیداللہ ٹائپ کرتا تھا۔ انارکلی میں آپ اس وقت چند روپوں میں پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے تھے۔ لیکن بعد ازاں لاہور کی ترقی کا جو ماڈل اپنایا گیا وہ دھیرے دھیرے اس شہر کو نگلتا چلا گیا۔ پھر ترقی کا یہی ماڈل پورے پنجاب میں بیچا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ نواز شریف صاحب راجن پور کے ایک جلسے میں تقریر کر رہے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کر دیکھیں۔ پورے ہجوم نے تالیاں بجائیں کہ چلیں لاہور ترقی کر گیا ہے‘ ہماری خیر ہے۔ سارا بجٹ لاہور کی کھدائی‘ انڈرپاسز‘ فلائی اوورز اور سریا سیمنٹ پر لگا کر داد تو سمیٹ لی گئی اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کے لوگوں نے بھی تالیاں بجائیں‘ لیکن یہ طے تھا کہ اب پورا پنجاب لاہور کا رخ کرے گا تاکہ نواز شریف صاحب کے دعوے کی تصدیق کر سکے۔ یوں پورے پنجاب سے عمومی طور پر اور ہمارے سرائیکی علاقوں سے خصوصی طور پر لوگوں نے لاہور کا رخ کیا اور آبادی کا دباؤ بڑھا تو شہر اس کے نیچے دبتا ہی چلا گیا۔ میٹرو بس ضروری تھی لیکن اس کیلئے آسمان پر کنکریٹ کی چھتیں ڈالنا ضروری نہ تھا۔بظاہر وجہ ان پراجیکٹس کی لاگت بڑھانا تھی تاکہ ٹھیکیداروں کے ساتھ حکمرانوں اور سرکاری افسران کا بھی بھلا ہو سکے‘ اور وہی ہوا۔ اب تو ایسی لت لگ گئی ہے کہ لگتا ہے ہر شہر کی افسر شاہی سب کام چھوڑ کر شہروں کی کھدائی پر لگ گئی ہے کہ کھدائی ہوگی تو ٹھیکیدار کچھ چونچ گیلی کرائے گا۔
اتنی دولت ہمارے حکمرانوں نے بیورو کریسی کے ساتھ مل کر اکٹھی کر لی ہے کہ اب ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف برملا کہتے ہیں کہ پاکستان کے بڑے بڑے افسران پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ پولیس افسران نے کینیڈا کو اپنا گھر بنا لیا ہے تو ڈی ایم جی کلاس نے آسٹریلیا‘ پرتگال‘ سپین اور نیوزی لینڈ کی شہریتیں لے لی ہیں۔ پچھلے ہفتے کابینہ کی سینیٹ کمیٹی کا اجلاس تھا جس کی صدارت ہمارے ملتانی سینیٹر رانا محمود الحسن کر رہے تھے۔ اس میں انکشاف ہوا کہ اس وقت گریڈ سترہ سے بائیس تک 2700 سی ایس ایس افسران حاضر سروس ہیں‘ ان میں سے 1100نے بتایا ہے کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت ہے یا نہیں‘ لیکن بقیہ 1600 افسران نے جواب ہی نہیں دیا‘ جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس دہری شہریت ہے اور وہ چھپا رہے ہیں۔ تاہم جن گیارہ سو نے جواب دیا ہے ان میں سے صرف 91 افسران نے تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس دہری شہریت ہے۔ ان کی مہربانی کہ انہوں نے بتا دیا‘ اگر نہ بتاتے تو کوئی انہیں ٹریس نہیں کر سکتا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان 91 افسران کی شہریت کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ برطانیہ‘ امریکہ اور یورپ کی ہی نکلی۔ اب آپ کہیں گے کہ بات لاہور اور آلودگی سے شروع ہو کر دہری شہریت تک کیسے پہنچ گئی؟ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ گریڈ سترہ سے بیس تک کے ایک افسر کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آ جاتے ہیں کہ وہ کینیڈا‘ امریکہ‘ اٹلی یا پرتگال میں گھر اور جائیداد لے کر بچوں کو وہاں شفٹ کر دیتا ہے اور ہر ماہ انہیں پاکستان سے کما کر خرچہ بھی بھیجتا ہے؟ ان میں سے کوئی ارب پتی خاندانوں میں سے سول سروس میں نہیں آیا۔ اکثریت نے انہی ترقیاتی منصوبوں سے کمایا۔ کھدائی کلچر نے انہیں امیر کر دیا۔ ہر خالی جگہ‘ پلاٹ‘ جنگل‘ پارک یا سبزہ دیکھ کر اس پر بلڈوزر چلا کر چونچ گیلی کی گئی۔ اچانک اربوں کے پراجیکٹس شہروں کے اندر شروع ہوئے اور آلودگی کا لیول بڑھتا چلا گیا۔ پورے صوبے میں ہر ضلع کو اس کے فنڈز دینے کے بجائے لاہور پر سب کچھ خرچ دیا گیا‘ جیسے آج کل اسلام آباد میں بے تحاشا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ یہ فنڈز شہروں کی ترقی کی غرض سے خرچ نہیں ہوئے بلکہ اس میں بابوؤں اور ان کے سیاسی آقاؤں کا فائدہ تھا۔ عوام کے حصے میں صرف آلودگی آئی‘ جبکہ اس ایلیٹ کے حصے میں پرتگال کی جائیدادیں اور مغربی ملکوں کی شہریت آئی۔ پہلے لاہور تباہ ہوا‘ اب ترقی کے نام پر اسلام آباد کی بربادی شروع ہے۔ جیسے شہباز شریف کے دور میں کہا جاتا تھا کہ مخالفین نواز لیگ کے ماڈل اور ویژن سے جلتے ہیں‘ ویسے ہی آج کل اسلام آباد میں محسن نقوی کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی ترقی اور ان کے ویژن کے مخالف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ پہلے شہباز شریف کو لاہور کے بارے میں ہر بات پروپیگنڈا لگتی تھی‘ اب نقوی صاحب کو اسلام آباد کے بارے میں یہی لگتا ہے۔ اب لاہوری سانس لیتے وقت تازہ ہوا کے بجائے آلودہ ہوا اندر کھینچ رہے ہیں۔ یہی کچھ بہت جلد اسلام آباد میں بھی ہوگا۔

 

Back to top button