کیا واقعی حکومت اور پی ٹی آئی میں کوئی ڈٖیل ہونے والی ہے؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے سامنے آنے والی پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطے شروع ہو چکے ہیں؟ کیا یہ ملاقاتیں کسی بڑے سیاسی سمجھوتے کی ابتدائی کڑی ہیں یا محض قانونی اور انتظامی معاملات میں محدود پیش رفت؟ حکومتی شخصیات کے بیانات، پی ٹی آئی قیادت کے نسبتاً محتاط رویے اور مختلف تجزیہ کاروں کی متضاد آرا نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تاہم اب تک سامنے آنے والی معلومات کسی حتمی معاہدے یا باقاعدہ مذاکرات کی تصدیق نہیں کرتیں۔

عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات کو موجودہ سیاسی حالات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل جیل میں ملاقاتوں پر پابندی اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا اب پارٹی کی سینئر قیادت کو بھی اپنے بانی سے ملاقات کی اجازت مل سکتی ہے؟ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر یا دیگر اہم رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات ممکن ہوتی ہے تو اس سے پارٹی کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل اور حکومتی حلقوں سے رابطوں کی نوعیت سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم محض ملاقات کی اجازت کو کسی سیاسی ڈیل کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ملاقاتوں پر پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سے جیل میں ہونے والی ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور ان کے بعد ایسے بیانات سامنے آتے تھے جن سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا تھا۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے ملاقاتوں پر پابندی لگائی گئی۔ رانا ثنا اللہ نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ آئندہ چند روز میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کی عمران خان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوتی ہے اور اس دوران عمران خان سے ملاقات کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو اس سلسلے میں پیش رفت ممکن ہے۔

رانا ثنا اللہ نے عمران خان کو ممکنہ ریلیف کے سوال پر کہا کہ اگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹ کر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں تو ریلیف کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ مؤقف برقرار رہنے کی صورت میں ریلیف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس بیان سے حکومتی حلقوں کا یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن حکومت اسے عمران خان اور پی ٹی آئی کے سیاسی رویے میں تبدیلی سے مشروط کر رہی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان نے بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات کو اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ ملاقات کسی عدالتی حکم کے نتیجے میں نہیں ہوئی تو اسے ممکن بنانے میں پسِ پردہ رابطوں کا کردار ہو سکتا ہے۔ منصور علی خان نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورت حال کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں پی ٹی آئی کو درپیش حالات کے باوجود پارٹی کی جانب سے کسی بڑے احتجاجی ردِعمل کا سامنے نہ آنا قابلِ غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے نسبتاً محتاط رویہ اختیار کیا ہے، جسے ممکنہ سیاسی رابطوں اور مستقبل کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق نے ان قیاس آرائیوں سے اختلاف کیا ہے کہ سلمان صفدر کی ملاقات عمران خان کے لیے کسی بڑے ریلیف یا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ڈیل کا اشارہ ہے۔ ان کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد پی ٹی آئی کے ان تحفظات کو دور کرنا تھا کہ عمران خان سے ملاقاتیں نہیں کرائی جا رہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ منیب فاروق کا کہنا ہے کہ اس وقت عمران خان کو ریلیف دینے یا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی سیاسی معاہدے پر بات چیت کے کوئی واضح آثار نہیں، اس لیے ایک ملاقات کو بڑی سیاسی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔منیب فاروق نے بشریٰ بی بی کے معاملے کو عمران خان اور پی ٹی آئی کے سیاسی معاملات سے الگ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی کو ریلیف دینے اور اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے کے امکان پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر 27 ستمبر سے پہلے بھی بات چیت جاری تھی، تاہم پی ٹی آئی کے احتجاج کے بعد یہ پیش رفت رک گئی تھی۔ اب بیرسٹر گوہر اور بعض دیگر رہنماؤں کی کوششوں سے اس معاملے پر دوبارہ رابطوں کی اطلاعات ہیں۔ تاہم بشریٰ بی بی کے لیے ممکنہ ریلیف کو عمران خان کی رہائی یا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی سیاسی ڈیل سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

تجزیاتی طور پر اس وقت صورت حال کے تین الگ پہلو سامنے آتے ہیں: عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے میں ممکنہ نرمی، بشریٰ بی بی کو قانونی ریلیف دینے کی کوششیں اور حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی مذاکرات کا امکان۔ ان معاملات کو ایک ہی پیش رفت سمجھنے کے بجائے الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات اور حکومتی شخصیات کے مذاکرات سے متعلق بیانات سیاسی رابطوں کے امکانات پر بحث ضرور پیدا کرتے ہیں، لیکن ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دونوں فریق کسی حتمی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا محمود خان اچکزئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ممکنہ رابطہ عمران خان سے ملاقات اور وسیع تر سیاسی مذاکرات کا راستہ کھول سکتا ہے؟ یا موجودہ پیش رفت صرف جیل میں ملاقاتوں اور بشریٰ بی بی کے قانونی معاملات تک محدود رہے گی؟ سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ چند روز میں ہونے والی ملاقاتیں، حکومتی بیانات اور پی ٹی آئی قیادت کا طرزِ عمل اس بحث کو مزید واضح کر سکتے ہیں۔ فی الحال حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی باقاعدہ معاہدے یا ڈیل کے آثار واضح نہیں۔

Back to top button