BLAمیں بغاوت پھوٹ پڑی، بشیر زیب کو زہر دے دیا گیا؟

تنظیم کے اندر سے بغاوت پھوٹنے کے بعد کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سرکردہ کمانڈر بشیر زیب کو افغانستان کے شہر قندھار میں زہر دیے جانے اور حالت تشویش ناک ہونے کے بعد علاج کے لیے بھارت منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق زہر دینے کا الزام ان کے ایک انتہائی قریبی ساتھی پر عائد کیا جا رہا ہے، جبکہ اس واقعے نے تنظیم کے اندر جاری اختلافات، مالی تنازعات اور قیادت کی رسہ کشی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض ایک کمانڈر پر حملے کا واقعہ نہیں بلکہ بی ایل اے کے اندرونی بحران کی سنگینی کا بھی اظہار ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بشیر زیب اور تنظیم کے دیگر اہم رہنماؤں کے درمیان اختلافات کافی عرصے سے شدت اختیار کر رہے تھے۔ ان تنازعات کی بنیادی وجوہات میں مبینہ مالی بے ضابطگیاں، تنظیمی فنڈز کے استعمال اور کارروائیوں کے طریقہ کار پر اختلافات شامل ہیں۔ بشیر زیب کے بعض قریبی ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے یورپ کے شہروں اسٹاک ہوم اور پیرس میں لاکھوں ڈالر منتقل کیے، جس کے باعث تنظیم کے اندر بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔ بلوچ خواتین کو تنظیمی کارروائیوں میں استعمال کرنے کے معاملے پر بھی قیادت کے مختلف حلقوں میں اختلافات کی اطلاعات ہیں۔

مبصرین کے مطابق بی ایل اے کے اندر بڑھتی ہوئی دھڑے بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تنظیم کو صرف بیرونی دباؤ ہی نہیں بلکہ اندرونی اختلافات اور قیادت کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ تنظیم کے ایک بڑے دھڑے میں نام نہاد آپریشن ’’ہیروف 3‘‘ کی ناکامی پر شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کی مبینہ مالی معاونت کے باوجود اس کارروائی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر تنظیم کے اندر غصہ اور اختلافات بڑھے ہیں۔ تاہم ان الزامات اور مالی معاونت کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بشیر زیب کو زہر دینے کے پیچھے تنظیم کی اندرونی دھڑے بندی کارفرما تھی یا کسی بیرونی انٹیلی جنس نیٹ ورک نے کارروائی کی۔ اطلاعات میں رحمان گل گروپ کا نام بھی لیا جا رہا ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ مبینہ حملے میں اس گروپ کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔ اسی طرح بشیر زیب کی بھارت منتقلی کی اطلاعات بھی آزاد ذرائع سے تصدیق طلب ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بشیر زیب کی بھارت منتقلی کی اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے کالعدم تنظیموں کو مبینہ بیرونی معاونت فراہم کیے جانے کے معاملے پر نئے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اس واقعے نے بہرحال بی ایل اے کی اندرونی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات اور تنظیمی انتشار کو بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

Back to top button