ممتا کے نرالے انداز

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا
ہمارے ہاں بہت سی اصطلاحوں میں ایک یہ ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے۔ ضرور ہو گی لیکن اس کے نٹ کھٹ عجیب ہیں۔ پولیس کا محکمہ رشوت پہ چلتا ہے۔ تہمت نہیں حقیقت ہے۔ ہر قدم پہ کچھ پیش کرنا پڑتا ہے نہیں تو چھوٹے سے چھوٹا کام نہ ہو۔ یہ کوئی چھپی ہوئی حقیقت نہیں پاکستان کا ہر باسی جانتا ہے۔ پٹوار یا مال کا محکمہ رشوت پہ چلتا ہے۔ کوئی راز افشا نہیں ہو رہا یہ بھی سب جانتے ہیں۔ دیگر باتوں کو چھوڑیے‘ جب یہ دو اہم ستون ریاست کے رشوت پر چل رہے ہوں تو ریاست پیچھے کیا رہ جاتی ہے؟ پنجاب میں محکمہ تعلیم آؤٹ سورس ہو رہا ہے۔ مَت محکمے کی پہلے ہی ماری ہوئی تھی‘ جو کسر باقی تھی وہ آؤٹ سورسنگ پوری کر دے گی۔ آؤٹ سورسنگ یہ کہ سرکاری سکول پرائیویٹ ہاتھوں میں دیے جا رہے ہیں۔ انگریز کے زمانے میں ایلیمنٹری‘ مڈل اور ہائی سکول سرکار چلاتی تھی‘ کالج بھی۔ فرنگی یہاں کے نہیں تھے باہر سے آئے تھے۔ تلوار کے زور پر حاکم اور فاتح تھے لیکن پھر بھی ان کے وقت سکول اور ہسپتال سرکار چلاتی تھی۔ آزادی کے 79 سال ہم نے خوب گزارے کہ اب سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں سے جان چھڑائی جا رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت اب وہ ہوگئی ہے کہ کوئی جانے پر مجبور ہو تو توبہ کرے یا آسمان کی طرف دیکھے۔
ویسے تو ماشاء اللہ حالت یہ ہے کہ پاکستان کے کسی سرکاری دفتر میں قائداعظم کی تصویر کی جھلک دکھائے بغیر کام نہیں ہوتا۔ لیکن جو کسی سرکاری بندوبست کے بنیادی محکمے سمجھے جاتے ہیں ان کی حالت یہ ہو یا پولیس یا محکمہ مال کی طرح رشوت پر چل رہے ہوں تو ٹیکس دینے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ میں ٹیکس گزار ہوں اور ٹیکس ادا کرنے کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اس کے بدلے سرکار کچھ بنیادی سروسز مہیا کرے گی۔ جب تھانے میں رپٹ درج کروانے کیلئے مجھے پیسے دینے ہوں‘ تفتیشی کو ٹرانسپورٹ کا بندوبست مہیا کرنا ہو‘ تفتیشی کا مزاج درست رکھنے کیلئے پیشگیاں دینی ہوں‘ اور پٹوار اور تحصیل کے ہر کام کیلئے پہلے شیرینی یا جسے ایک زمانے میں بخشیش کہتے تھے‘ دینی ہو تو کہاں کی ریاست اور کہاں کے ٹیکس۔
جواب میں یہ آ سکتا ہے کہ ریاست کی ممتا ریل گاڑی چلاتی ہے اور سڑکیں بناتی ہے۔ ہماری ممتا سے تو ریل کا نظام نہ چلایا گیا۔ اب کباڑ کے بھاؤ بیچیں تو کوئی نہ لے۔ جہاں تک سڑکوں اور موٹرویوں کا تعلق ہے تو سارے قرضہ لے کر بنائے جاتے ہیں۔ قرضہ وہاں پہنچ چکا ہے کہ سود کی مد ریاست سے بمشکل پوری ہوتی ہے اور وہ بھی مزید قرضے لے کر۔ ممتا ہماری ایئر پورٹ چلاتی ہے اور ایک ایئر لائن بھی چلاتی تھی۔ ایئر لائن بک چکی اور ایئر پورٹوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ ممتا ہماری بجلی بھی مہیا کرتی ہے لیکن اس انداز سے کہ بجلی کے قرضے خود ممتا کا پھندا بنے ہوئے ہیں۔
بظاہر زرعی ملک کے کسان کا تو حال مت پوچھیے۔ بری ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی رہی لیکن جو اس سنہری دور کے پچھلے تین چار سالوں میں ہوئی ہے وہ اپنے میں ایک کہانی ہے۔ جیسے کسان کے ساتھ کوئی ذاتی بیر ہو‘ یہ حال اس کا ان سالوں میں ہوا۔ بجلی سستی اس کو دے نہیں سکتے‘ کھاد مناسب داموں پر اس کے ہاتھ آتی نہیں اور پھر قیمتیں بھی جو مقرر ہیں اس سے خرچہ پورا نہ ہو۔ گندم باہر سے منگوا لیں گے‘ اب تو کپاس بھی باہر سے آنے لگی ہے۔ انڈسٹری یہاں ہے نہیں‘ ٹیکسٹائل کے علاوہ مینوفیکچرنگ اس دیس میں کیا ہے۔ اوپر سے زراعت کے ساتھ یہ رویہ! تو بتائیے پھر ریاستِ پاکستان نے مصنوعی ذہانت سے کام نکالنا ہے؟ کیا ایلون مسک یہاں ڈیٹا سنٹر لگانے آ رہے ہیں اور چاند اور مریخ کی طرف ان کے راکٹ یہیں سے اڑان بھریں گے؟ مذاق کی کوئی حد ہوتی ہے لیکن ہماری ممتا ہے کہ اس کا حسِ مزاح ختم ہی نہیں ہوتا۔
شہروں کی جائیدادوں پر پراپرٹی ٹیکس لگتا ہے۔ اور یہ ٹیکس سیدھا میونسپل کمیٹیوں یا کارپوریشنوں کو منتقل ہوتا ہے‘ اس مقصد سے کہ وہ اپنی میونسپل سروسیں پوری کریں گے۔ میونسپل سروسوں میں سب سے پہلے آتا ہے صفائی کا نظام‘ یعنی پراپرٹی ٹیکس ادا ہوا اور میونسپل کمیٹی یا کارپوریشن کا فرض بنا کہ وہ گلیوں اور سڑکوں کو صاف رکھے اور کچرا اٹھایا جائے۔ 79سال کی آزادی میں کم از کم اتنا تو ہوتا کہ شہروں میں سالڈ کچرا یا جسے انگریزی میں سالڈ ویسٹ کہتے ہیں اس کو تلف کرنے کا کوئی نظام وضع کیا جاتا۔ یہاں کے حالات ملاحظہ ہوں کہ چھوٹے شہر تو ایک طرف رہے اسلام آباد جو دارالحکومت ہے اس میں سالڈ کچرے کو تلف کرنے کا کوئی نظام نہیں۔ سی ڈی اے کوئی جگہ منتخب کرتا ہے اور وہاں کچرا جمع شروع ہونے لگتا ہے۔ وہ جگہ بدبو اور غلاظت سے بھر جائے تو کوئی اور جگہ منتخب کر لی جاتی ہے۔ اسلام آباد کے بننے سے لے کر آج تک یہی سلسلہ جاری ہے۔ یہی نظام نہ صرف لاہور اور کراچی بلکہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں چل رہا ہے۔ ایٹم بم بن گیا‘ میزائل ٹیکنالوجی پر دسترس ہو گئی لیکن ریاست پاکستان سے سالڈ کچرا تلف نہ ہو سکا۔
پنجاب کے باسی خوش ہوئے کہ ستھراپنجاب کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ شہروں سے تو کچرا اٹھایا جاتا تھا دیہات میں یہ سلسلہ پہلی بار شروع ہوا۔ لیکن اب کسی ذہنی جھٹکے کے نتیجے میں حکومت پنجاب کا فرمان آیا ہے کہ گھروں اور دکانوں سے ستھرے پنجاب کا ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس اقدا م کی ابھی تک پوری طرح آگاہی نہیں ہوئی‘ نہیں تو مناسب شورشرابا مچتا۔ شہروں کے دکانداروں اور باسیوں کو پتا چلے کہ پراپرٹی ٹیکس تو دیتے ہی تھے اب یہ ستھرا ٹیکس بھی دینا پڑے گا تو دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ پنجاب کے وزرا خاص طور پر متحرک خواتین وزرا تو اسی کام پر مامور لگتے ہیں کہ چیف منسٹر پر ہر تنقید کا مع سود جواب دینا ہے۔ کوئی عقل کی بات سمجھانے والا نہیں کہ گاؤں گاؤں اور گلی محلوں میں یہ ستھرا ٹیکس لینے محکمہ ایکسائز پہنچے گا تو آگے سے عوامی ردعمل کیا ہو گا۔ محکمہ ایکسائز اپنا اصل کام بمشکل ادا کر پاتا ہے‘ اوپر سے یہ بے عقل کا کام۔
امن و امان کے سلسلے میں پنجاب تو باقی صوبوں سے ویسے ہی سبقت لے چکا ہے۔ باہر سے آئے ہوئے حاکم انگریز ایک ہی پولیس اور ایک سپیشل برانچ سے کام چلاتے تھے۔ ہمارے ہاں اب یہ حالت ہو چکی ہے کہ ہر تحصیل میں ہر ایجنسی نے اپنا دفتر کھول لیا ہے۔ پنجاب نے اور بھی پہل کی ہے کہ یہاں سی سی ڈی یا کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کا محکمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ اگر اس محکمے نے کرائم کنٹرول کرنا ہے تو ریگولر پولیس کا کام کیا رہ جاتا ہے؟ سی سی ڈی کی کارکردگی دیکھی جائے تو یہ نہ صرف علیحدہ پولیس فورس ہے پر اس نے اپنا الگ عدالتی نظام بھی قائم کر لیا ہے۔ جو دھر لیا جائے اگلے روز ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو جاتا ہے اور سی سی ڈی کے کسی فرد کو خراش تک نہیں آتی۔ دکانوں اور تجاوزات کیلئے ایک پیرا فورس قائم ہوئی ہے۔ امن و امان کے اتنے محکمے بن گئے لیکن سرکاری ہسپتال دوائیوں سے خالی اور سرکاری سکولوں سے جان چھڑانے کی انتھک کوشش۔
جہاز کی بات نہیں کرتے‘ موڈ خراب ہو جاتا ہے۔ البتہ مری اور مظفرآباد کیلئے وہ شیشے کی ٹرین کہاں گئی؟ قومی ترقی میں بس وہ ایک کسر رہ گئی تھی‘ اُسے پورا کر دیجیے۔

 

Back to top button