کراچی کے ’ بنیادی مسائل‘ اور حل

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ:روزنامہ جنگ
اگر کوئی جماعت مسلسل 18 سال سے کسی صوبے میں بلاروک ٹوک حکومت کررہی ہو چاہے مرکز میں اس کی حکومت ہو یا نہ ہو تواس صوبے کو باقی پاکستان کیلئے ایک ’مثالی صوبہ‘ ہونا چاہئے تھا۔ تین ادوار سے حکومت کرنے کے بعد یہ نہیں کہا جاسکتا کہ’ہم نے یہ کام شروع کیا ہے، اس پر جلد کام مکمل ہوجائیگا، 165سڑکوں کی تعمیر کا حکم دے دیا ہے۔ کسی بھی صوبے کا دارالحکومت دراصل اس کا اصل چہرہ ہوتاہے۔ بدقسمتی سے سندھ حکومت ’کراچی‘ کو دوسرے صوبوں کیلئے ایک ’مثال‘ کے طور پر پیش نہیں کرسکتی۔ کراچی تو چندسڑکوں کی کہانی ہے اگر آپ آج تک ان سڑکوں کو ہی نہیں بناسکے تو ناکامی کا اعتراف تو بنتا ہے۔
اگر اتنے برسوں میں صوبہ اور اسکے سب سے بڑے شہر کےپانی، بجلی، سیوریج،ٹرانسپورٹ اورسڑکوں کے مسائل آج بھی موجود ہیں تو حساب تو بنتا ہے۔ ان سوالوں کا جواب بہرحال صوبے کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صاحب کو دینا ہے جن کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری ہے۔ وہ اب بھی کبھی این ای ڈی یونیورسٹی جاتے ہیں تو اسی راہ سے جاتے ہونگے جو پانچ سال سے منتظر ہے ایک مثالی سڑک کا۔یقین جانیں صرف ایک سڑک سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ابھی تین دن پہلے ہی وہاں سے گزرا اور جو دیکھا وہ کسی بھی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ افسوس ہے تو اس بات کا کہ صرف پانچ سال پہلے ہی یہ واقعی ایک مثالی سڑک بن گئی تھی۔جون بھائی کا شہر ہے۔
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
اُسی رات کراچی کی مشہور سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک اچھی فوڈ اسٹریٹ دیکھنے کو ملی۔ واقعی بہت اچھی بنی ہے اور یہ جان کربھی خوشی ہوئی کہ اسے ٹاؤن نے بنایا ہے اسی لئے تو ہم اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بات کرتے ہیں۔ ’کھانا‘ ویسے بھی اب اس شہر کی واحد تفریح رہ گیا ہے ایک سمندر ہے جس کوماشاء اللہ اب ’غائب‘ کیا جارہا ہے بس سال بھر اور انتظار کریں پھر سی ویو عام آدمی کیلئے نہیں رہیگا بس بلند و بالا عمارتیں ہونگی اور 25-20 کروڑ کے فلیٹس۔
آخر کراچی کے بنیادی مسائل ہیں کیا اور ان کا حل کیا ہے۔ انکے بارے میں لکھتے ہوئے اسلئے بھی زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ کراچی تو اسلام آباد سے بہتر شہرتھا۔ وہ شہر تو بنایا گیا یہ شہر توبنا بنایا تھا۔ یقین نہ آئے تواس شہر کا بنیادی ’ماسڑ پلان‘ سامنے رکھ لیں۔حکومتوں کوصرف اس کو مزید بہتر بنانا تھا۔ سچ پوچھیں تو ہماری حکومتوں نے ایک بنے بنائے شہر کو بدتر بنادیا چاہے وہ ٹرانسپورٹ ہو سڑکوں کی تعمیر ہو تعلیم ہو، پینے کا پانی تو چھوڑیں نہانے کا پانی بھی خرید نا پڑتا ہے۔
اس شہر کا کوئی بھی ایک بڑا پروجیکٹ ایسا نہیں جو وقت پر مکمل ہوا ہو۔اب اس میں ایسی کیا رکاوٹیں حائل رہیں سمجھ سے بالاتر ہے۔ کسی پروجیکٹ کی مالیت اگر سو سے دوسوفیصد زیادہ اوپر گئی ہے تواس کو بنانیوالے کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟۔ وزیر اعلیٰ سے لے کر صوبے کے حکمران یہ تو بتائیں کہ آخر یہ پروجیکٹ وقت پر مکمل کیوں نہیں ہوتے۔ پچھلے دنوں مراد علی شاہ صاحب نے درست کہا،’’ سندھ کی ترقی کراچی سے ’جڑی ہے‘ توپھر روڈ، ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، کے مسائل جوں کے توں کیوں ہیں اور اسکی بنیادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔سیف سٹی پروجیکٹ کی مالیت 2010ء میںجب یہ شروع ہوا تھا کیا تھی اور آج کیا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں اب یہ پروجیکٹ لگ رہے ہیں لاہور اور اسلام آباد میں اُسی سال لگ چکے تھے تو جس شہر میں امن وامان کا مسئلہ سب سے زیادہ رہا وہاں اب تک کیوں مکمل نہیں ہوا۔ شاہ صاحب، معذرت کے ساتھ کیا یہ آپ کی ناکامی ہے۔؟
کراچی میں ویسے تو کئی ایک مافیا موجود ہیں کاروں کی چوری سے لیکر گاڑیوں کی پارکنگ اورگاڑیوں کی صفائی کرنے والوں کے مافیاز تک مگر اس وقت سب سے طاقتور مافیا ’ٹینکر مافیا‘ ہے جس کی رسائی اور پشت پناہی اوپر تک ہے۔ اس مافیا کو ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ آخرکیا وجہ تھی کہ 80اور90کی دہائی تک نلکوں میں پانی آتا تھا، اب تو ان نلکوں سے ہوا بھی نہیں آتی۔
اس شہر کا نوحہ اس صوبے کا نوحہ ہے۔ سیوریج کا نظام بد سے بدترین ہوتا جارہا ہے جسکی بڑی وجہ یہ بلندوبالا عمارتیں ہیں۔400گز کے پلاٹ پر اگر16 سے20منزلہ عمارت کھڑی کردی جائے گی تو سیوریج کا مسئلہ تو پیدا ہوگا۔ اب پورے شہر کو بغیر سیوریج لائنیں ڈالے ان عمارتوں کی تعمیر کی اجازت ملتی رہی کمیشن اور کرپشن کی بنیاد پر تو مسئلہ پیچیدہ تو ہوسکتا ہے حل نہیں ہوسکتا ۔
پھر اس شہر کی’ مدر آف آل پرابلم‘،اس کی نہ رکنے والی آبادی ہے۔ ایک وقت تھاجب دیگر شہروں سے آنے والوں کا اندراج کیا جاتا تھا، چاہے وہ ٹرین سے آرہے ہوں یا ہائی وے سے۔پھر تمام دکانوں یہاں تک کے ٹھیلوں پربھی نمبر لگائے جاتے تھے۔رکشوں اور ٹیکسیوں کے میٹر لازمی ہوتے تھے۔ اب یہ عالم ہے کہ اس شہر کی آبادی کا درست تعین ہی نہیں کیا جاتا مردم شماری کے نام پر صرف معذرت کے ساتھ ’’ دونمبری‘‘ کی جاتی ہے۔ اسی لیے خود اس ملک کے صدر نے شہر کی آبادی چار کروڑ بتائی، کوئی تین کروڑ توکوئی ڈھائی کروڑ کہتا ہے مطلب کوئی بھی ’ مردم شماری‘ کو درست نہیں سمجھتا۔ اس کی وجہ ’’ سیاسی‘‘ ہے کہ کہیں اس کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ نہ ہو جائے تو اگر کسی شہر کی آبادی کا ہی صحیح تعین نہیں کیا جاتا تو مسائل کا انبار تو لگا رہے گا۔
کچی آبادیوں کا ایک جال پھیلا دیا گیا ہے جس میں لاکھوں لوگ رہ رہے ہیں ان کو ریگولر کرنے کے نام پربھی سیاست کی جاتی ہے۔صحت کے معاملات سنگین ہیں۔ اس شعبے میں کچھ بنیادی کام بھی ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کئی اداروں کی مالی معاونت بھی کررہی ہے مگر سندھ کے سرکاری اسپتالوں کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ کراچی میں جناح، سول، عباسی، لیاری جنرل اسپتالوں میں صرف ایمرجنسی اورOPDمیں چلے جائیں اندازہ ہوجائے گا۔
سوال یہ ہے کہ ان نہ ختم ہونے والے مسائل کا آخر حل کیا ہے؟(1) مردم شماری صاف وشفاف کرائی جائے ، بلندوبالا زیر تعمیر عمارتوں کا این او سی اس وقت تک معطل کیا جائے جب تک پانی اور سیوریج کی لائنیں نہ ڈالی جائیں(2) ہنگامی بنیادوں پر مزید فلائی اوور اور انڈرپاس روک کرپہلے سڑکیں تعمیر کی جائیں، ہر طرح کی تجاوزات ختم کرائی جائیں۔ ایک سڑک کی گارنٹی کم ازکم10 سال ہوسڑک کھودنے پر پابندی ہو۔ اور خدا کیلئےحکمرانو! کراچی ائیر پورٹ کے اردگرد بلند عمارتوں کی تعمیر کو فوراً روکو، کیوں کسی اور حادثے کا انتظار کررہے ہو کیا ابھی چند سال پہلے جہاز کا حادثہ یاد نہیں۔
کراچی میں امن وامان بہتر ہوا مگر تقریباً ایک لاکھ(80سے آج تک) جانوں کے بعد جن میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔ کراچی کی جین زی تو شہر کی نذر ہوگئی۔
