ایران جنگ،امریکی فوج کو بحری وسائل کی کمی کاسامنا

امریکی اخبار نےدعویٰ کیاہے کہ یورپ میں تعینات امریکا کے سینیئر ترین جنرل نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ ان کے پاس اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے درکار بحری وسائل موجود نہیں ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج کی یورپیئن کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گرینکیوچ نے اس ہفتے نجی طور پر پینٹاگون کو تحریری اطلاع دی کہ اگر انہیں مزید ایک ڈسٹرائر بحری جہاز فراہم نہ کیا گیا تو انہیں امریکا کے دفاع اور اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔
امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ گرینکیوچ کی یہ وارننگ اس نوعیت کے سابقہ پیغامات سے مطابقت رکھتی ہے جو اعلیٰ فوجی افسران اس وقت دیتے ہیں جب انہیں ایسے خطرات کا سامنا ہو جن پر واشنگٹن کی توجہ کی ضرورت ہو۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیے جانے کی وجہ سے امریکی بحریہ اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔
اخبار کے مطابق مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات امریکی بحری ڈسٹرائرز کئی برسوں سے اسرائیل کے دفاع میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ جنگی جہاز طاقتور ریڈار اور مختلف میزائلوں سے لیس ہوتے ہیں اور نہ صرف ایران بلکہ یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل بھی مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل کے دفاع میں امریکی فوج کی یورپیئن کمانڈ مرکزی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ بحیرۂ روم میں فوجی آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے، اسی کے ساتھ اس کے دستوں کو نیٹو اتحاد کے زیرِ تحفظ علاقوں میں ممکنہ روسی مداخلت کے لیے بھی تیار رہنا ہوتا ہے۔
