کیا سفارتی سرمائے سے پاکستان پر معاشی ترقی کے دروازے کھلنے والے ہیں؟

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو جن چیلنجز کا سامنا رہا، ان کے تناظر میں ایران امریکہ امن معاہدے کی صورت میں حالیہ سفارتی پیش رفت ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمت کے عمل میں پاکستان کے کردار نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق آج دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار ثالث، امن کے داعی اور تنازعات کے پرامن حل کے حامی ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ تاثر اس ماضی سے خاصا مختلف ہے جب پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار قرار دیا جاتا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا، تھنک ٹینکس اور مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات، علاقائی استحکام اور عالمی تنازعات کے حل میں شراکت داری کے لیے مدعو کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال بلاشبہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی سرمایہ ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں بھی تبدیل کیا جا سکے گا؟

تاریخ گواہ ہے کہ سفارتی کامیابیاں اس وقت تک پائیدار نتائج پیدا نہیں کرتیں جب تک انہیں معاشی ترقی، سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی توسیع سے نہ جوڑا جائے۔ عالمی سطح پر مثبت ساکھ کسی ملک کو مواقع ضرور فراہم کرتی ہے، مگر ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اندرونی استحکام، مضبوط معیشت اور مؤثر ادارہ جاتی نظام ناگزیر ہوتا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سفارتی کامیابیوں کو اقتصادی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔

مبصرین کے مطابق اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت اندرونی سیاسی اور معاشی استحکام کی ہے۔ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار اسی صورت میں اعتماد کا اظہار کریں گے جب ملک میں پالیسیوں کا تسلسل، قانون کی حکمرانی اور کاروبار دوست ماحول موجود ہوگا۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ، شفافیت اور تیز رفتار فیصلہ سازی بنیادی شرائط ہیں۔

معاشی میدان میں ٹیکس اصلاحات بھی ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، زراعت سمیت مختلف شعبوں کو مناسب انداز میں ٹیکس دائرے میں لانا، محصولات میں اضافہ اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی حوصلہ افزائی قومی معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف قومی آمدنی میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے اور قرضوں پر انحصار میں بھی کمی آئے گی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ معاشی تعاون کے وسیع امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کو دس ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سرحدی بنیادی ڈھانچے، بینکنگ نظام اور سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ توانائی، گیس اور پٹرولیم کے شعبوں میں تعاون پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور معاشی استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ترکی، وسط ایشیائی ریاستوں اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی روابط کو مزید وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ علاقائی تعاون کے ذریعے پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو اقتصادی طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے ساتھ معدنیات، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات موجود ہیں۔ چین کے ساتھ پہلے سے قائم تزویراتی تعلقات کو بھی مزید اقتصادی منصوبوں اور صنعتی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے اگر نئی رفتار کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو پاکستان خطے میں ایک اہم اقتصادی مرکز بن سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس تمام عمل میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اس پلیٹ فارم کو مزید فعال، بااختیار اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک ہی جگہ تمام سہولیات فراہم کی جا سکیں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ممکن ہو۔ مبصرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ سفارتی کامیابیاں خود بخود سرمایہ کاری، قرضوں میں ریلیف یا معاشی خوشحالی کی ضمانت نہیں بنتیں۔ دنیا انہی ممالک پر اعتماد کرتی ہے جو اپنے اندرونی مسائل حل کرنے، مؤثر اقتصادی حکمت عملی اختیار کرنے اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کے پاس اس وقت ایک نادر موقع موجود ہے کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کو معاشی ترقی کا ذریعہ بنائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آج عالمی برادری پاکستان کی جانب مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے۔ اگر حکومت سفارتی کامیابیوں کو سرمایہ کاری، علاقائی تجارت، صنعتی ترقی اور اقتصادی اصلاحات سے جوڑنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ دور پاکستان کے لیے ایک نئے اقتصادی باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ کامیابیاں وقتی سرخیوں اور سفارتی تعریفوں تک محدود رہ جائیں گی۔ آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ پاکستان اپنے اس سفارتی سرمائے کو معاشی خوشحالی میں تبدیل کر پاتا ہے یا نہیں۔

Back to top button