نواز شریف کی تصویر کرنسی نوٹ پر: نون لیگ نے توبہ کر لی

پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسلم لیگ نون کے ایک رکن کی جانب سے پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی تصویر شامل کرنے کی تجویز نے سیاسی حلقوں، سوشل میڈیا اور پارلیمانی ایوانوں میں غیر معمولی بحث چھیڑ دی۔ تاہم جس تیزی سے یہ تجویز سامنے آئی، اسی تیزی سے حکمران جماعت نے اس سے لاتعلقی بھی اختیار کر لی، یہاں تک کہ تجویز پیش کرنے والے رکن ارشد ملک اپنی رائے کے ساتھ تقریباً تنہا رہ گئے۔
خیال رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری تھی۔ اپوزیشن کی جانب سے پنجاب حکومت پر یہ تنقید کی جا رہی تھی کہ مختلف منصوبوں، سڑکوں اور اداروں کو نواز شریف اور مریم نواز کے ناموں سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ اگر منصوبے شریف خاندان کے نام سے منسوب کیے جا رہے ہیں تو ان کی مالی معاونت بھی ذاتی وسائل سے ہونی چاہیے۔
اسی بحث کے دوران مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی ارشد ملک نے نواز شریف کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ تجویز دی کہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ نواز شریف کی تصویر بھی شامل کی جائے۔ ان کا استدلال تھا کہ اگر قائداعظم نے پاکستان بنایا تو نواز شریف نے پاکستان کو ترقی اور جدید انفراسٹرکچر دیا، اس لیے انہیں "معمارِ پاکستان” کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
ابتدائی طور پر چند اراکین نے میزیں بجا کر اس تجویز کا خیرمقدم کیا، مگر جلد ہی ایوان میں خاموشی چھا گئی۔ بعد ازاں جب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آیا تو عوامی ردعمل خاصا سخت سامنے آیا۔ ناقدین نے اسے سیاسی خوشامد، شخصیت پرستی اور قومی روایات سے انحراف قرار دیا۔اس عوامی ردعمل کے بعد مسلم لیگ نون کی قیادت اور اراکین اسمبلی نے واضح طور پر اس تجویز سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ پارٹی کے بیشتر اراکین نے یا تو تبصرہ کرنے سے گریز کیا یا اسے ایک فرد کی ذاتی رائے قرار دیا۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے بھی اس بارے میں کسی تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز دینے والے رکن سے ہی اس کے بارے میں پوچھا جانا چاہیے۔
مسلم لیگ نون کے چیف وہپ رانا ارشد نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز پارٹی پالیسی یا ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی۔ ان کے مطابق ارشد ملک نے یہ بات اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں اپنے قائد سے عقیدت کے اظہار کے طور پر کہی تھی اور اس پر عملدرآمد کا کوئی عملی یا سیاسی امکان موجود نہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کرنسی نوٹ پر نواز شریف کی تصویر چھاپنے کا معاملہ نہ تو پارٹی کے زیر غور ہے اور نہ ہی اسے مسلم لیگ نون کا مؤقف سمجھا جانا چاہیے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی اجلاس میں ایک اور تجویز بھی سامنے آئی تھی جس میں لاہور۔اسلام آباد موٹروے کو نواز شریف اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کو شہباز شریف کے نام سے منسوب کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس تجویز کو نسبتاً زیادہ پذیرائی ملی، لیکن کرنسی نوٹ والی تجویز کو سیاسی اور عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہ ہو سکی۔
حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس تجویز پر سخت ردعمل دیا۔ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ چاند نے اسے "خوشامد کی انتہا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکن اپنے قائد کی تعریف ضرور کرتے ہیں لیکن قومی علامتوں کو سیاسی وابستگیوں سے جوڑنا مناسب نہیں۔
مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کرنسی نوٹوں پر صرف بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر شائع کرنے کی روایت قائم ہے۔ حتیٰ کہ تحریک پاکستان کے دیگر ممتاز رہنماؤں، سابق صدور، وزرائے اعظم یا قومی ہیروز کی تصاویر بھی کبھی کرنسی نوٹوں کا حصہ نہیں بن سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارشد ملک کی تجویز کو سیاسی حلقوں میں غیر عملی اور غیر سنجیدہ قرار دیا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ اگرچہ سیاسی جماعتوں میں اپنے قائدین کے لیے عقیدت اور وفاداری کا اظہار عام بات ہے، لیکن جب معاملہ قومی علامتوں، ریاستی شناخت اور تاریخی روایات کا ہو تو سیاسی جماعتیں بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ مسلم لیگ نون کی جانب سے فوری لاتعلقی دراصل اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ عوامی ردعمل اور قومی روایت کے مقابلے میں ایسی تجاویز سیاسی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔
