آزاد کشمیر الیکشن: اقتدار کا تاج کس کے سر سجے گا؟

آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی 2026 کو ہونے والے عام انتخابات نے ریاست کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے۔ کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آچکی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔ اس مرتبہ کا انتخابی معرکہ کئی حوالوں سے منفرد ہے کیونکہ سابق وزرائے اعظم، سابق صدور، سپیکرز اور سینئر سیاسی رہنما ایک بار پھر عوامی عدالت میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان متوقع ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف، مسلم کانفرنس، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار بھی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کے آمدہ الیکشن میں دیو ہیکل امیدوار کون کون سے ہیں اور وہ اس بار کس سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر ایک مرتبہ پھر مظفرآباد کے حلقہ کھاوڑہ سے میدان میں ہیں۔ دس انتخابات میں حصہ لے کر سات بار کامیابی حاصل کرنے والے لطیف اکبر اس بار اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر کامیابی کے لیے پُرامید ہیں۔ ان کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے راجا ثاقب مجید سے ہوگا جو گزشتہ انتخاب میں معمولی فرق سے شکست کھا گئے تھے۔

دوسری جانب دو مرتبہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم رہنے والے راجا فاروق حیدر چکار جہلم ویلی سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں۔ ان کا شمار ریاست کے مضبوط ترین سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ان کی انتخابی پوزیشن خاصی مستحکم سمجھی جا رہی ہے۔

موجودہ وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ حویلی کہوٹہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگیں گے۔سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان باغ کے حلقہ ایل اے 14 سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ مسلم کانفرنس کے اس قدآور رہنما کو اپنے آبائی حلقے میں مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح سابق وزیراعظم عبدالقیوم نیازی، جنہیں 2021 میں عمران خان نے وزیراعظم نامزد کیا تھا، ایک بار پھر عوام کے سامنے ہیں۔ جبکہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے سیاسی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے بعض حلقوں میں انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ ہوگیا ہے۔سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق ان شخصیات میں شامل ہیں جن پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ وہ بھمبر سے الیکشن لڑ رہے ہیں تاہم ابھی تک ان کی جماعتی وابستگی حتمی طور پر سامنے نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق وہ استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ سکتے ہیں، جس سے کئی حلقوں میں انتخابی مساوات تبدیل ہو سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب خان ایک مرتبہ پھر راولاکوٹ سے میدان میں ہیں۔ اسی طرح پارٹی کے ریاستی صدر چوہدری محمد یاسین، جو مسلسل عوامی حمایت حاصل کرتے آرہے ہیں، کوٹلی سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔سردار قمرالزمان بھی پیپلز پارٹی کے اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔ گزشتہ انتخاب میں معمولی مارجن سے شکست کے بعد وہ ایک بار پھر کامیابی کے لیے پُرعزم ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر نیلم ویلی کے دونوں حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ 2016 کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز رکھنے والے شاہ غلام قادر پارٹی کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔چوہدری طارق فاروق، راجا مشتاق منہاس اور نورین عارف بھی مسلم لیگ (ن) کے ان امیدواروں میں شامل ہیں جنہیں اپنی اپنی نشستوں پر مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ انتخابی منظرنامے میں مسلم لیگ (ن) کو نسبتاً برتری حاصل دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم آزاد کشمیر کی سیاست ہمیشہ غیر متوقع نتائج کے لیے مشہور رہی ہے جہاں کئی مرتبہ بڑے بڑے سیاسی برج الٹ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حتمی نتائج کے بارے میں پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے جبکہ مسلم کانفرنس اتحادی جماعت کے طور پر کابینہ میں شامل ہوسکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ 27 جولائی کو عوام کے ووٹ سے ہوگا۔مبصرین کے بقول آزاد کشمیر کے یہ انتخابات صرف اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ ریاست کی آئندہ سیاسی سمت، ترقیاتی ترجیحات اور عوامی توقعات کے تعین کا بھی اہم مرحلہ ثابت ہوں گے۔

Back to top button