کرپشن کیسز: کیا اسرائیلی وزیر اعظم ٹھکنے والے ہیں؟

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ تقریباً 18 ماہ پر محیط عدالتی کارروائی اور 98 سماعتوں کے بعد ان کی جرح اور گواہی کا مرحلہ اختتام پذیر ہو گیا۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے عدالت میں اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مقدمات کو سیاسی انتقام اور کردار کشی کی منظم مہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے انتہائی کٹھن ثابت ہوئی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ تفتیشی اداروں نے ان کے خاندان، قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں سے بارہا پوچھ گچھ کی، لیکن بدعنوانی ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ ان کے بقول تفتیش کا مقصد حقائق تلاش کرنا نہیں بلکہ انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچانا تھا۔اسرائیلی وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف مقدمات کا مقصد انہیں اقتدار سے ہٹانا، سیاسی میدان سے باہر کرنا اور اسرائیلی عوام کی منتخب قیادت کو کمزور کرنا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انھوں نے معروف فلم پروڈیوسر آرنون ملچن سے مہنگے تحائف، قیمتی سگار، مشروبات اور دیگر مراعات حاصل کیں اور بدلے میں انہیں سرکاری سطح پر سہولتیں فراہم کیں۔استغاثہ کے مطابق نیتن یاہو نے اخبار "یدیعوت احرونوت” کے مالک آرنون موزیس کے ساتھ خفیہ مفاہمت کی کوشش کی، جس کے تحت مثبت میڈیا کوریج کے بدلے ایک حریف اخبار کے خلاف قانون سازی کی حمایت کی گئی۔ نیتن یاہو کے خلاف کیس 4000 سب سے سنگین مقدمہ تصور کیا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی "بیزیک” کے مالک شاؤل ایلووچ کو مالی فوائد پہنچانے کے لیے حکومتی اختیارات استعمال کیے جبکہ بدلے میں نیوز ویب سائٹ "والا” پر اپنے حق میں مثبت خبریں شائع کروائیں۔ اسی مقدمے میں ان پر رشوت لینے کا الزام بھی عائد ہے۔

واضح رہے کہ عدالت میں استغاثہ کی جرح مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کے وکیل امیت حداد نے چند اضافی نکات کی وضاحت کے لیے انہیں دوبارہ طلب کیا تھا۔ دفاعی ٹیم کے مطابق اب وزیراعظم کی گواہی مکمل ہو چکی ہے۔ اگلے مرحلے میں دفاعی گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جائیں گے، جس کے بعد حتمی دلائل سنے جائیں گے اور پھر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کے حتمی فیصلے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو نے پہلی مرتبہ دسمبر 2024 میں عدالت کے سامنے گواہی دی تھی۔ دورانِ سماعت بیماری، بیرون ملک دوروں اور سکیورٹی وجوہات کے باعث متعدد مرتبہ کارروائی ملتوی یا مختصر کی گئی۔ وزیراعظم کی سکیورٹی کے پیش نظر زیادہ تر سماعتیں تل ابیب میں منعقد ہوئیں، تاہم آئندہ عدالتی کارروائی دوبارہ یروشلم منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ قانونی ماہرین کے بقول یہ مقدمات اسرائیل کی سیاسی تاریخ کے اہم ترین قانونی معاملات میں شمار کیے جا رہے ہیں، جن کے نتائج ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

Back to top button