خام تیل کی قیمتیں زمین بوس، پاکستان میں بڑی کمی کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے برینٹ کروڈ ایران اسرائیل جنگ سے پہلے والی کم ترین سطح پر واپس آ گیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

عالمی مالیاتی جریدوں کے اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت کاروباری اوقات میں 74.80 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ بعد ازاں مزید کمی کے بعد یہ تقریباً 73.80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بھی دیکھی گئی۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ برینٹ کروڈ کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی ہے، جو فروری کے آخر میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے قبل موجود سطح کے قریب سمجھی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کمی کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے بعد آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کا بحال ہونا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں سپلائی کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد عالمی منڈی میں ایرانی خام تیل کی فراہمی بڑھنے کی توقع بھی قیمتوں میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار اور سپلائی میں اضافے کے ساتھ بعض کارگو رعایتی نرخوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں رسد مزید مستحکم ہوئی ہے۔

ان عوامل کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے خام تیل کی قیمتوں میں شامل اضافی جیو پولیٹیکل رسک پریمیم نکالنا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بھی نرمی دیکھی گئی جبکہ بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت رجحان سامنے آیا، جسے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے سے جوڑا جا رہا ہے۔

تاہم توانائی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھی یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔

Back to top button