کشمیریوں بارے متنازع بیان، خواجہ آصف رگڑے میں آ گئے

وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ادا کئے گئے چند جملوں نے نہ صرف سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا ہے بلکہ قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ راولاکوٹ اور میرپور کے باشندوں کے بارے میں خواجہ آصف کے ریمارکس نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے کالعدم عوامی ایکشن کے پلیٹ فارم سے مختلف سیاسی اور آئینی معاملات کو بنیاد بنا کر مختلف شہروں میں احتجاجی تحریک جاری ہے۔
خیال رہے کہ خواجہ آصف والے معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ راولاکوٹ اور میرپور کے لوگوں کو "اتنا لمبا چوڑا کشمیری” نہیں مانتے کیونکہ ان علاقوں میں پوٹھوہاری زبان بولی جاتی ہے۔ اگرچہ ان کا بیان ایک مخصوص سیاسی تناظر میں دیا گیا تھا، تاہم اس کے الفاظ نے کشمیری شناخت کے حساس مسئلے کو چھیڑ دیا اور ردعمل فوری طور پر سامنے آیا۔
مبصرین کے مطابق کشمیر میں شناخت، ثقافت اور سیاسی وابستگی کا معاملہ ہمیشہ سے جذباتی نوعیت کا رہا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ کسی علاقے کی زبان یا ثقافتی مماثلت کو اس کی تاریخی اور سیاسی شناخت کے تعین کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے مطابق راولاکوٹ، میرپور، مظفر آباد یا وادی کشمیر کے دیگر علاقوں کے لوگ اپنی مقامی زبانوں، ثقافتوں اور لہجوں کے باوجود ایک وسیع تر کشمیری شناخت کا حصہ ہیں۔
یہ تنازع صرف سوشل میڈیا تک محدود نہ رہا بلکہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خواجہ آصف کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسا وزیر اب بھی وفاقی کابینہ کا حصہ کیوں ہے جو راولاکوٹ کے کشمیریوں کی شناخت پر سوال اٹھاتا ہے اور پھر اپنے بیان سے رجوع بھی نہیں کرتا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک وفاقی وزیر کے الفاظ عام سیاسی کارکن یا احتجاجی رہنما کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ایسے بیانات قومی یکجہتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اسی دوران جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر پارلیمانی رہنماؤں نے بھی وزیر دفاع کے ریمارکس کو غیر مناسب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کشمیر پہلے ہی سیاسی تناؤ اور احتجاجی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، لہٰذا ذمہ دار سیاسی قیادت کو الفاظ کے انتخاب میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔
دوسری جانب خواجہ آصف نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کشمیری شناخت صرف پیدائشی سرٹیفکیٹ سے وابستہ نہیں بلکہ اس کا تعلق جدوجہد، قربانیوں اور تاریخی شعور سے ہے۔ قومی اسمبلی میں وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور ان کا مقصد ان عناصر کا جواب دینا تھا جو پاکستان اور کشمیر کے تعلق پر سوال اٹھاتے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں نے قربانیاں دی ہیں لیکن پاکستان نے بھی کشمیر کے مسئلے پر جنگیں لڑی ہیں اور جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اور کشمیر کا تعلق ناقابلِ جدا ہے اور کوئی بیان یا سیاسی اختلاف اس رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید تقسیم دیکھنے میں آئی۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسے کشمیری شناخت کی توہین قرار دیا جبکہ بعض افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر دفاع کے الفاظ کا اصل مقصد کشمیری عوام کی قربانیوں کو اجاگر کرنا تھا لیکن ان کی ترجمانی غلط انداز میں ہوئی۔ کئی صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ زبان اور ثقافت کی بنیاد پر کسی خطے کی شناخت کو محدود کرنا تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مبصرین کے بقول اس تنازع کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں "مہاجرین مقیم پاکستان” کی بارہ نشستوں کے معاملے پر شدید سیاسی کشیدگی موجود ہے۔ حکومت اور احتجاجی حلقوں کے درمیان مذاکراتی تعطل پہلے ہی فضا کو کشیدہ بنائے ہوئے ہے، لہٰذا ناقدین کے مطابق وفاقی سطح پر آنے والے متنازع بیانات حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک حساس قومی، سیاسی اور جذباتی مسئلہ ہے۔ ایسے میں سیاسی قیادت کے الفاظ محض رائے نہیں رہتے بلکہ ان کے وسیع سیاسی اور سماجی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ آصف کے چند جملوں نے ایک وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے جس میں شناخت، نمائندگی، سیاسی ذمہ داری اور قومی بیانیے جیسے اہم سوالات شامل ہو گئے ہیں۔
