کیاعمران خان قیدتنہائی کاٹ رہے ہیں؟سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ آگئی

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کو جیل میں تین سال مکمل ہونے پر اہم رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کی گئی اس رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی یا غیر مساوی سلوک کی تردید کر دی۔
رپورٹ کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ جیلوں میں قید تنہائی کا نظام ختم ہو چکا ہے، اب یہ رائج ہے اور نہ عدالتیں ایسی سزا دیتی ہیں، عمران خان سمیت کسی بھی قیدی کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا، وہ سزا یافتہ ہیں اور قانون کے مطابق اپنی قید کاٹ رہے ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق عمران خان کے ساتھ دیگر قیدیوں کی طرح قانونی اصولوں کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے، ان کے ساتھ کوئی امتیازی یا غیر مساوی برتاؤ نہیں کیا جا رہا، بہتر کلاس قیدی ہونے کی وجہ سے ان کو کچھ اضافی سہولتیں فراہم کی ہیں، سابق وزیر اعظم اور سیاسی رہنما ہونے کی وجہ سے سکیورٹی کے انتظامات کیے۔
انہوں نے رپورٹ میں مزید بتایا کہ سکیورٹی وجوہات پر عام قیدیوں کو عمران خان کے بلاک تک رسائی نہیں، عمران خان کو میسر سہولتیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ قید تنہائی میں نہیں ہیں، سابق وزیر اعظم 7 سیلوں پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں اور صرف رات کے مخصوص اوقات میں اپنے سیل میں رہتے ہیں۔
’جیل افسران اور عملہ عمران خان کی ضروریات سے متعلق ان سے رابطے میں رہتا ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ معمول کے مطابق اور ضرورت پڑنے پر خصوصی ملاقات کرتے ہیں۔ جیل کے ڈاکٹر روزانہ 3 مرتبہ ان کا معائنہ اور کھانے کی جانچ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ان کا بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سمیت دیگر طبی امور چیک کرتے ہیں جبکہ ضرورت پیش آنے پر اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک سزا یافتہ قیدی عمران خان کے پسندیدہ مینو کے مطابق روزانہ 3 وقت کا کھانا تیار کرتا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس خادم حسین سومرو کل قید تنہائی سے متعلق درخواست پر سماعت کریں گے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے کیس میں جواب جمع کروا دیا گیا ہے۔
