انسان کو سور کا دل لگانا اسلام میں جائز یے یا نہیں؟
امریکہ میں مقیم ایک مسلمان ڈاکٹر کی جانب سے انسانی جسم میں سور کے دل کی کامیاب پیوندکاری کی خبر نے جہاں طب کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے وہیں پاکستان میں اس حوالے سے حلال اور حرام کی بحث چھڑ گئی ہے جس پر طبی ماہرین اور انسانیت پر یقین رکھنے والے افسوس کا اظہار کرر ہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 40 سے پچاس سال کے عرصے میں نئی ٹیکنالوجیز نے سوسائٹی کی شکل تو بظاہر بدل دی ہے لیکن ہمارے اجتماعی رویے ابھی جذباتی سطح سے اوپر نہیں اُٹھے کیونکہ ان کی تیاری میں ہمارا حصہ صفر ہے اور وہ بے چین روحیں، جن کو یہاں ترقی میں حصے لینے کے مواقع نہیں ملتے وہ ڈاکٹر منصور محی الدین بن کر انسانی خدمت میں ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے سائنس ترقی کر رہی ہے، میدان طب میں بھی حیرت انگیز کارنامے سامنے آ رہے ہیں، آج سے پچاس برس قبل انسان میں جانور کا دل لگانے والے کی بات کو شاید دیوانے کا خواب ہی سمجھا جاتا ہوگا لیکن آج ڈاکٹروں نے اسے ممکن کر دکھایا ہے۔7جنوری 2022 کو یہ کارنامہ بالٹی مور ہسپتال میں انجام پایا، جہاں مسلم ڈاکٹر محی الدین نے انسانی جسم میں خزیر کا دل آپریشنل کر دیا ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن نے اس منفرد آپریشن کی اجازت اس لیے دی کیونکہ مریض کی زندگی بچانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں بچا تھا، ایسا نہ کرنے پر اس کی جلد موت یقینی تھی۔ امریکی ادارے کے مطابق ایک سال میں 3800 افراد میں دل کی پیوند کاری کی گئی لیکن آج کے دور میں جدید میڈیکل سہولتوں کی موجودگی میں عطیہ کردہ انسانی اعضاء کی کمی ہے، جس کو موثر حکمت عملی کیساتھ پورا کیا جا سکتا ہے۔
بالغ مریض میں عطیہ کردہ انسانی دل کی پیوند کاری کا کامیاب تجربہ 1967 میں ہو چکا ہے۔ 2021 میں نیویارک شہر میں دو ایسے دماغی طور پر مرے ہوئے مریضوں میں سور کے گردے لگائے گئے جنہیں ان انسانی جسموں نے قبول کرلیا تھا۔ ان چند مثالوں کے علاوہ باقی تمام تحقیق صرف غیرانسانی پرائیمیٹ جانوروں میں ہی ہوئی ہے، اور سات جنوری کے آپریشن سے پیدا ہونے والی ابھی تک کی حوصلہ افزاء صورت احوال اس ضمن میں پیشرفت کے لیے مہمیز کا کام دے سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا قدرتی مدافعاتی نظام جسم میں داخل شدہ کسی بھی عضو یا مواد کو رد کر دیتا ہے اور انسانی اعضاء کی پیوند کاری میں یہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے تاہم اب اس حوالے سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ڈاکٹروں نے اس مخصوص آپریشن کیلئے کسی عام ریوڑ میں سے اس خنزیر کو علیحدہ کر کے اس کا دل نہیں نکالا تھا بلکہ یہ جانور تو پہلے ہی ایک خاص ٹیکنالوجی کے ذریعے پرورش کیے گئے تھے
جس میں اس کے مختلف اعضاء کے خلیات کی سطح پر پائے جانے والے اینٹی جنز کو تبدیل کر دیا گیا تھا تاکہ انسانی مدافعاتی نظام ان کو رد نہ کر سکے۔ 67 کلوگرام سے لے کر 80 کلوگرام کے انسانی جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسانی دل کا سائز بھی اس کی مطابق ہے اور اس کا اوسط وزن تقریباً 300 گرام ہے اور اس کا سائز ایک بند مٹھی کے برابر ہوتا ہے، ایک جانور سے دوسرے جانور میں پیوند کاری کے ایک آپریشن کی لاگت کم از کم پانچ لاکھ ڈالر آتی ہے جس کا انتظام کو اتنا آسان نہیں۔
Is it permissible in Islam to put pig’s heart on human being or not? video
