کیا وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے والی ہے؟

پاکستان میں 27 ستمبر کے مجوزہ تحریک انصاف لانگ مارچ سے پہلے سیاسی کشیدگی اب ایک نئے اور انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ اسلام آباد کی طرف آنے والے اہم راستے بند کیے جارہے ہیں، موٹرویز پر ٹریفک کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، دارالحکومت میں سرکاری تعلیمی ادارے بند کرکے وہاں سکیورٹی اہلکاروں کے قیام کا انتظام کیا گیا ہے، مختلف صوبوں سے اضافی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے اور سکیورٹی پلان کو 26 ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس تمام صورتحال کے درمیان حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے آپشن کا ذکر سامنے آنے نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت حکومت اس آپشن پر ایک مرحلے پر غور کر رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق 27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے پاکستان کی سیاسی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اسلام آباد جانے والے اہم راستے بند کیے جارہے ہیں، موٹرویز پر ٹریفک محدود ہے، دارالحکومت کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے سکیورٹی اہلکاروں کے قیام کے لیے بند کردیئے گئے ہیں، جبکہ پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں سے ہزاروں پولیس اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے بجائے گرفتار کرنے کی حکمت عملی بھی زیرِ غور ہے۔

حکومت کی تیاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد اور اٹک کے اہم مقامات پر دو ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچائے جاچکے ہیں، جبکہ پولیس نے اضافی اخراجات کے لیے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے بھی طلب کیے ہیں۔ حکام کے مطابق سکیورٹی پلان 26 ستمبر تک مکمل کیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد کو طویل احتجاج یا سڑکوں کی بندش کے ذریعے مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسی کشیدہ ماحول میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بحث نے سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت حکومت اس آپشن پر غور کر رہی ہے، جبکہ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بعد میں واضح کیا کہ فی الحال خیبر پختونخوا حکومت ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ یوں گورنر راج اس وقت حتمی فیصلہ نہیں بلکہ حکومتی سطح پر زیرِ بحث ایک آئینی آپشن ہے۔

تحریک انصاف اس تمام کارروائی کو سیاسی دباؤ قرار دے رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج پرامن اور آئینی ہوگا اور اسلام آباد جانے کی حتمی تاریخ کا فیصلہ پارٹی خود کرے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی گورنر راج کی بات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاق یہ قدم اٹھانا چاہتا ہے تو اٹھا لے۔

دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد پہنچنے کے لیے چار مختلف منصوبے اور متعدد راستے تیار کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان سے ملاقات ہوجائے اور وہ احتجاج روکنے کی ہدایت کریں تو مارچ روکا جاسکتا ہے۔ تاہم کارکنوں کی بڑی تعداد کے حوالے سے ان کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

صورتحال کو مزید حساس بنانے والا ایک واقعہ خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور کے مبینہ اغوا کا بھی ہے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے موٹروے کے قریب صوبائی وزیر، ان کے ڈرائیور اور ایک پولیس اہلکار کو گاڑی سے اتار کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جس کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

یوں 27 ستمبر سے پہلے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان صرف احتجاج کا نہیں بلکہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان سیاسی و آئینی کشمکش کا سوال بھی کھڑا ہوگیا ہے۔ ایک طرف حکومت نے اسلام آباد کے راستے بند کرکے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کرلیے ہیں، دوسری طرف پی ٹی آئی احتجاج پر قائم ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سیاسی کشیدگی مذاکرات کی طرف جاتی ہے یا مزید گرفتاریوں، رکاوٹوں اور تصادم کا باعث بنتی ہے۔

Back to top button