ڈیانا ڈاکٹر حسنات سے شادی کرکے جنوبی افریقہ کیوں جانا چاہتی تھیں؟

برطانوی شاہی خاندان کی تاریخ میں شہزادی ڈیانا کا نام ہمیشہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا رہے گا جن کی زندگی محبت، شاہی ذمہ داریوں، میڈیا کی غیر معمولی توجہ اور ذاتی مشکلات کے درمیان گزری۔ ان کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی نجی زندگی سے متعلق نئے دعوے اور انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب ڈیانا کے چھوٹے بھائی چارلس اسپینسر کی نئی کتاب نے ان کی زندگی کے ایک ایسے پہلو پر روشنی ڈالی ہے جس کے مطابق ڈیانا پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات خان سے شادی کرکے نہ صرف ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھیں بلکہ برطانیہ چھوڑ کر جنوبی افریقہ منتقل ہونے کے امکان پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی تھیں۔

چارلس اسپینسر کی کتاب Swan Song: Diana, My Sister میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق 1997 میں ڈیانا کی زندگی مسلسل میڈیا کی توجہ اور شاہی خاندان سے وابستہ دباؤ کے باعث انتہائی مشکل ہوچکی تھی۔ ایسے حالات میں وہ ایک ایسی جگہ کی تلاش میں تھیں جہاں وہ شہرت اور شاہی زندگی کے غیر معمولی دباؤ سے دور معمول کی زندگی گزار سکیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ مارچ 1997 میں اپنے بھائی سے ملنے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن گئیں۔ کتاب کے مطابق اس سفر کا ایک مقصد یہ جائزہ لینا بھی تھا کہ آیا جنوبی افریقہ ان کے اور ڈاکٹر حسنات خان کے لیے مستقبل میں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے مناسب جگہ بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر حسنات خان سے ڈیانا کے تعلقات اس وقت عالمی میڈیا میں بھی خاصی توجہ کا مرکز بنے تھے۔ اسپینسر کے مطابق ڈیانا اس تعلق کو محض ایک وقتی وابستگی نہیں سمجھتی تھیں بلکہ مستقبل کے حوالے سے بھی سنجیدہ خیالات رکھتی تھیں۔ ان کے مبینہ منصوبے میں یہ تصور شامل تھا کہ اگر ڈاکٹر حسنات کو جنوبی افریقہ میں مناسب پیشہ ورانہ موقع مل جائے تو دونوں وہاں نسبتاً پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈیانا نے معروف ماہر قلب ڈاکٹر کرسٹیان برنارڈ سے بھی رابطہ کیا، جو جنوبی افریقہ میں طب کے شعبے کی ایک معروف شخصیت تھے اور کیپ ٹاؤن کے گروٹ شور ہسپتال سے وابستہ رہے تھے۔

کتاب کے مطابق ڈیانا کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر حسنات خان کو اسی ہسپتال میں کام کا کوئی موقع مل سکے۔ اس طرح جنوبی افریقہ میں ان کے لیے ایک ایسا مستقبل تشکیل پانے کی امید پیدا ہوتی تھی جس میں وہ برطانیہ کے شاہی ماحول اور مسلسل میڈیا کوریج سے دور رہ سکیں۔ تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا، کیونکہ اسی سال اگست میں پیرس میں ایک کار حادثے کے نتیجے میں شہزادی ڈیانا کی زندگی اچانک ختم ہوگئی۔

چارلس اسپینسر نے اپنی کتاب میں ڈیانا کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے بھی کئی دعوے اور یادیں بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق 1981 میں شہزادہ چارلس سے شادی سے قبل ڈیانا کے ذہن میں یہ خدشہ موجود تھا کہ شاید چارلس ان سے محبت نہیں کرتے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے والد سے بھی اس حوالے سے بات کی اور ایک موقع پر منگنی ختم کرنے کے بارے میں سوچا، تاہم بالآخر یہ شادی ہوگئی۔ بعد کے برسوں میں دونوں کی ازدواجی زندگی شدید مشکلات سے دوچار ہوئی اور بالآخر ان کی علیحدگی اور پھر طلاق ہوگئی۔

اسپینسر کے مطابق ڈیانا نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ انگلینڈ کے ساحلی علاقے بیچی ہیڈ کا رخ بھی کیا، جہاں بلند چٹانیں واقع ہیں۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مواقع پر ڈیانا کے ذہن میں اپنی زندگی ختم کرنے کے خیالات بھی آئے تھے، تاہم اپنے بیٹوں سے گہری محبت نے انہیں اس انتہائی قدم سے روک دیا۔ یہ تفصیلات ڈیانا کی نجی زندگی میں موجود اس جذباتی دباؤ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس کا ذکر ان کے بارے میں شائع ہونے والی متعدد کتابوں اور یادداشتوں میں مختلف انداز سے کیا جاتا رہا ہے۔

اسپینسر نے ایک اور واقعہ بھی بیان کیا ہے جس کے مطابق ڈیانا نے ایک ملاقات کے دوران انہیں بتایا کہ وہ چارلس سے طلاق لینے والی ہیں۔ جب اسپینسر نے انہیں خبردار کیا کہ عوام شاید اس فیصلے کو آسانی سے قبول نہ کریں تو کتاب کے مطابق ڈیانا نے اپنے شوہر کے ایک ذاتی خادم سے متعلق ایک غیر معمولی بات کہی۔ اسپینسر کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ ڈیانا کس شخص کا ذکر کر رہی ہیں اور انہیں یہ بات غیر معمولی محسوس ہوئی۔

ڈیانا کی زندگی کے آخری دنوں سے متعلق ایک اور واقعہ بھی کتاب میں شامل ہے۔ یکم جولائی 1997 کو ان کی 36ویں سالگرہ تھی اور اس موقع پر ایک عزیز نے انہیں پھولوں کا گلدستہ بھیجا۔ اسپینسر کے مطابق ڈیانا نے اس پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی پھولوں سے بھرے گھر کو جنازہ گاہ سے تشبیہ دی۔ ان کی موت صرف دو ماہ بعد 31 اگست 1997 کو پیرس میں ایک کار حادثے میں ہوئی۔

کتاب کی اشاعت کے بعد شاہی محل کی جانب سے بعض یادداشتوں اور برسوں پرانے واقعات کو یاد کرنے کے حوالے سے احتیاط کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ محل کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ کسی قریبی عزیز کی موت کا غم انسان کی سوچ، فیصلہ سازی اور یادداشت پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور کئی برس گزرنے کے بعد ماضی کے واقعات کو یاد کرنے کا انداز بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔

شہزادی ڈیانا کی زندگی آج بھی دنیا بھر میں دلچسپی کا موضوع ہے۔ ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ ان کا تعلق، جنوبی افریقہ منتقل ہونے کا مبینہ منصوبہ، شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات اور زندگی کے آخری برسوں کے حالات ایسے موضوعات ہیں جن پر مختلف کتابوں اور یادداشتوں میں مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ چارلس اسپینسر کی نئی کتاب نے بھی ڈیانا کی زندگی کے انہی پوشیدہ پہلوؤں کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

Back to top button