ٹکراؤ یا مذاکرات؟ کیا حکومت PTIکیلئے بھی لچک دکھائی گی؟

اسلام آباد کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں احتجاج، لانگ مارچ اور سیاسی کشیدگی کے مقابلے میں مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ زیادہ اہمیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی یقین دہانی کے بعد پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے اعلان کردہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے نے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر حکومت ایک سیاسی جماعت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے احتجاجی راستہ روکنے اور کسی ممکنہ ریلیف پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو کیا یہی طرزِ عمل تحریک انصاف کے ساتھ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل اس بات کی مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اگر فریقین رابطے کا راستہ کھلا رکھیں تو کشیدگی کو کسی نہ کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دینے اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج اور لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی یقین دہانی اور حکومتی سطح پر مذاکرات کے بعد جماعت اسلامی نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ اس عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ سیاسی مطالبات کو سڑکوں پر لے جانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر بھی حل تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے سخت موقف اور بعض مواقع پر تلخ بیانات کے باوجود حکومت نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا۔ حکومتی ذمہ داران جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ مشاورت جاری رکھتے رہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے بھی یہ ہدایت سامنے آئی کہ اگر کوئی سیاسی جماعت عوامی مسئلے کو بنیاد بنا کر احتجاج کر رہی ہے تو اس کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ مذاکرات کے آخری مرحلے میں پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کے بجائے اس میں ممکنہ کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کے امکانات پر بھی بات ہوئی، جس کے بعد جماعت اسلامی نے اپنے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس پیش رفت نے تحریک انصاف کے حوالے سے بھی ایک نیا سوال پیدا کر دیا ہے۔ سیاسی معاملات میں ضد، مسلسل محاذ آرائی اور بڑھتا ہوا تناؤ بالآخر ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے جہاں فریقین کے لیے واپسی کا راستہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج اور مارچ کے حوالے سے پہلے ہی غیر معمولی سیاسی حساسیت موجود ہے اور ریاستی سطح پر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ دارالحکومت میں کسی قسم کی ہنگامہ آرائی یا طویل دھرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا جائے گا۔ ایسے ماحول میں سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کا راستہ تلاش کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
تحریک انصاف کے اندر بھی مکمل یکسانیت نظر نہیں آتی۔ پارٹی کے بعض سنجیدہ رہنما احتجاجی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور سیاسی رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اپوزیشن کی مختلف جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ سیاسی اختلافات کا مستقل حل طاقت کے استعمال یا سڑکوں پر کشمکش کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ اس صورتحال میں حکومت کے لیے یہ ایک موقع ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ان حلقوں سے رابطہ بحال کرے جو مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ عمل راستے کی تلاش کے حامی ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو احتجاجی دباؤ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اسے اپنی سیاسی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت اور پارٹی کی بعض قیادت بھی اپنے جیل میں موجود قائدین کے حوالے سے سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کے حق میں دکھائی دیتی ہے۔ یوں تحریک انصاف کے اندر بھی احتجاج اور مذاکرات، دونوں راستوں پر مختلف آراء موجود ہیں۔ یہی صورتحال حکومت کے لیے یہ امکان پیدا کرتی ہے کہ اگر وہ سنجیدہ اور قابلِ قبول تجاویز کے ساتھ آگے بڑھے تو مذاکرات کے لیے ایک راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے موجودہ مطالبات کو دیکھا جائے تو ان میں بعض بنیادی نوعیت کے سیاسی اور انسانی معاملات شامل ہیں۔ پارٹی کی جانب سے اپنے قائد کی صحت اور علاج کے حوالے سے سہولت، اہلِ خانہ اور پارٹی ذمہ داران کو جیل میں ملاقات کی اجازت اور دیگر متعلقہ معاملات پر ریلیف کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان موجود وسیع تر سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم ان مخصوص معاملات پر بات چیت کے ذریعے کسی قابلِ عمل انتظام کی گنجائش تلاش کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ دونوں جانب سے سیاسی لچک کا مظاہرہ ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف کے لیے بھی موجودہ صورتحال ایک اہم سیاسی امتحان ہے۔ حکومت اگر جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے احتجاجی صورتحال کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اسی تجربے کی روشنی میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی رابطے اور مذاکرات کا راستہ کھولنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ دونوں فریق اپنے فوری سیاسی مفادات سے آگے بڑھ کر ایسے نکات پر توجہ دیں جن پر کم از کم اتفاق رائے پیدا ہونے کا امکان موجود ہو۔
پاکستان کی سیاست میں ماضی بھی یہ دکھاتا ہے کہ طویل محاذ آرائی بالآخر مذاکرات کی میز تک پہنچتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ مذاکرات بحران کے مزید گہرا ہونے کے بعد ہوں یا اس سے پہلے؟ اگر سیاسی قوتیں پہلے ہی رابطے کا راستہ کھلا رکھیں تو احتجاج اور تصادم کی شدت کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت کے لیے بھی یہی چیلنج ہے کہ وہ ریاستی رٹ برقرار رکھتے ہوئے سیاسی رابطوں کو بھی مؤثر بنائے، جبکہ اپوزیشن کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے مطالبات کو سیاسی مذاکرات کے دائرے میں لانے کے لیے قابلِ عمل راستہ اختیار کرے۔
جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کے فیصلے نے بہرحال ایک سیاسی مثال قائم کی ہے کہ احتجاج اور مذاکرات ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ بعض حالات میں ایک ہی سیاسی عمل کے دو مختلف راستے بن سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت تحریک انصاف کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی سیاسی لچک کا مظاہرہ کرتی ہے یا نہیں۔ اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک اہم سیاسی فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بالآخر ملک میں سیاسی استحکام، پارلیمانی عمل اور جمہوری نظام اسی وقت مضبوط ہوگا جب اختلافات کے باوجود سیاسی قوتیں ایک دوسرے سے بات کرنے کا راستہ بند نہ کریں۔
