کیا ججز کی تعداد بڑھانے کا مقصد عمرانڈومنصفوں کو قابوکرناہے؟

حکومت نے پلان ٹو کے طور پر سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر عمرانڈو ججز کو قابو کرنے کی حکمت عملی طے کر لی ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف اپوزیشن حکومتی فیصلے پر سراپا احتجاج ہے وہیں دوسری جانب مبصرین بھی سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کے فیصلے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ خیال رہے پارلیمنٹ میں رواں ہفتے کے دوران سپریم کورٹ سے متعلق مجموعی طور چار بل پیش کیے گئے ہیں جن میں دو آئینی ترامیم بھی شامل ہیں۔پیر کو سینیٹ میں ججوں کی تعداد 17 سے 21 کرنے کا بل پیش ہوا جسے سینیٹ کی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے جب کہ قومی اسمبلی میں بھی اسی طرح کا بل حکومتی رکن کی جانب سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن وزیرِ قانون کی استدعا پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اس پر کارروائی مؤخر کر دی۔

حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کی وجہ زیر التوا مقدمات میں ریکارڈ اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 59,423ہوگئی ہے جبکہ دو درجن سے زائد ازخود نوٹسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے بل کا مقصد اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کھ مطابق حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے سخت نتائج یا اثرات کو سامنے رکھ کی جا رہی ہے۔

مخصوص نشستوں سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد پر آئینی ترمیم کے حوالے سے تجزیہ کار اور اینکر پرسن منیزے جہانگیر کہتی ہیں اصولی طور پر سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے لیکن بل پیش کرنے کا وقت اور نظر آنے والے ارادے سوالات پیدا کر رہے ہیں۔

پارلیمان میں ججوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق پیش ہونے والے بلوں پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے بل کی ساری کارروائی کا مقصد اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر کیسز کے التوا کا معاملہ ہوتا تو لاہور ہائی کورٹ میں 24 سے 25 ججوں کی خالی نشستوں پر جج لگائے جاتے۔ سندھ ہائی کورٹ میں بھی ججوں کی خالی نشستوں کی تعداد 11 سے 12 ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ہائی کورٹس میں بھی ججوں کی خالی پوسٹوں پر تعیناتی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ یہ خیال درست ہو سکتا ہے کہ اس طرح کے بل پیش کرنے والے اراکین کو بس ڈرافٹ تیار کر کے دے دیا گیا ہو۔

تاہم ججز کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے پیش کردہ بل۔کے حق میں دلائل دیتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین بنانے والوں نے ججوں کی تعداد آئین میں متعین نہیں کی تھی۔ پارلیمان کے ارکان کو قانون سازی کے تحت ججوں کی تعداد کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد عوام کو جلد انصاف کی فراہمی ہے تاکہ نئے ججز کی تعیناتی سے زیر التوا مقدمات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف سپریم کورٹ میں ہی ججوں کی تعداد کیوں بڑھائی جا رہی ہے؟‘

طویل عرصے سے سپریم کورٹ میں کیسز کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی مطیع اللہ جان کہتے ہیں قانون کے ذریعے پارلیمان کو سپریم کورٹ میں ججوں کے تعداد میں اضافہ کرنے کا اختیار ہے۔ مگر اہم سوال یہ ہے کہ اعلیٰ عدالت میں ججوں کی تعداد کیوں بڑھائی جا رہی ہے۔ اس سوال پر کئی منظرنامے تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ ایک رائے یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ججوں کی تعداد بڑھانے اور قانون سازی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے سخت نتائج یا اثرات کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہو، جس کا ایک مقصد یہ پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس بھی آپشن موجود ہیں۔

مطیع اللہ جان کامزید کہنا تھا کہ اس قانون سازی کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے حق میں مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے مکمل عمل درآمد نہ ہو، کچھ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دے کر باقی نشستیں حکمران اتحاد کو دی جائیں۔ تو ظاہر ہے یہ معاملہ سپریم کورٹ کی فل کورٹ میں جا سکتا ہے اس صورت میں سپریم کورٹ میں مقرر ہونے والے نئے ججوں کا کردار اہم ہوگا۔ان کے بقول سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے بعد ایک سوال یہ بھی سامنے آ سکتا ہے کہ جو دو ایڈہاک جج سپریم کورٹ میں لگائے گئے ہیں۔ وہ جج بھی 21 ججوں کے علاوہ عہدے پر موجود رہ سکتے ہیں یا نہیں؟مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ لگ رہا ہے کہ حکومت نے ممکنہ صورتِ حال کے لیے ہوم ورک کر رکھا ہے۔

کیا واقعی نئے عبوری سیٹ اپ کے لیے تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے؟

دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق حکومت سادہ اکثریت سے سپریم کورٹ میں آسانی کے ساتھ ججز کی تعداد میں اضافے میں کامیاب ہو جائے گی کیونکہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے حکومت کو دو تہائی کی بجائے سادہ اکثریت درکار ہے جو حکومت کے پاس موجود ہے۔

Back to top button