میاں منشا نے آئی پی پیز کے کھاتے میں کھربوں روپے کیسے حاصل کئے؟

آئی پی پیز سے کئے گئے عوام دشمن معاہدے ختم کرنے کے مطالبات میں شدت آنے کے بعد معاہدوں بارے تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزارت توانائی کے دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں یعنی سنہ 2015 سے 2024 تک 37 آئی پی پیز کو بجلی بنانے کے چارجز کے علاوہ کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں 34 کھرب، 52 ارب اور 41 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔صرف میاں منشا کے منشا گروپ کی 4 آئی پی پیز کو گزشتہ 10 سالوں میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر ایک کھرب 81 ارب 43 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں انڈیپنڈینٹ پاور پروڈیوسرز آئی پی پیز کو عوام کے بھاری بھرکم بجلی بلوں کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ معاشی ماہرین و سیاست دان بھی ان آئی پی پیز پر استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ملکی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے باعث ہر سال اربوں روپوں کی ادائیگی کا بوجھ بجلی کے بلوں کے ذریعے عوام پر ڈالا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے نیپرا نے ان آئی پی پیز کے ساتھ سنہ 2057 تک کے معاہدے کیے ہوئے ہیں یعنی آئندہ 33 برسوں تک بھی ان کمپنیوں کو ادائیگیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ آئی پی پیز کے استحصال کے خلاف پہلی آواز بلند کرنے کا سہرا سابق نگران وفاقی وزیر تجارت اور لیک سٹی کے روح رواں گوہر اعجاز کو جاتا ہے جو نہ صرف آئی پی پیز کے پاکستانی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حقائق سامنے لے کر آئے بلکہ انھوں نے اس بارے عوام میں شعور کی بیداری میں بھی دن رات کام کیا۔ گوہر اعجاز کی بدولت آج ملک بھر میں نہ صرف آئی پی پیز سے کئے جانے والے ان عوام دشمن معاہدوں کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے بلکہ حکومت نے چند ناکارہ آئی پی پیز کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
دوسری جانب دستاویزات کے مطابق صرف گزشتہ مالی سال 2023-24 میں کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں ان آئی پی پیز کو 9 کھرب 79 ارب روپے ادا کیے گئے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر اور سال 1999 تا سال 2002 جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں شامل عبد الرزاق داؤد روش پاکستان پاور لمیٹڈ نامی آئی پی پی کے مالک ہیں۔ ان کی کمپنی کو گزشتہ 10 سالوں میں 60 ارب 3 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر 2 آئی پی پیز کے مالک ہیں۔ ان کی کمپنی صبا پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کو گزشتہ 10 سالوں میں 17 ارب 24 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
ندیم بابر اس کے علاوہ ایک اور آئی پی پی اوریئنٹ پاور پروجیکٹ کے محمود گروپ کی شراکت دار بھی ہیں۔ اس کمپنی کو 22 جولائی 2005 کو لائسنس جاری کیا گیا اور 31 اگست 2032 تک 229 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ اس کمپنی کو گزشتہ 10 سالوں میں 39 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت میاں منشا کا منشا گروپ 4 آئی پی پیز کا مالک ہے۔ ان کی چاروں آئی پی پیز کو گزشتہ 10 سالوں میں صرف کیپیسٹی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر ایک کھرب 81 ارب 43 کروڑ روپے دیے گئے۔
میاں منشا کی کمپنی اے ای ایس لالپیر پرائیویٹ لمیٹڈ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 25 اگست 2027 تک 362 میگاواٹ بجلی کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کمپنی کو گزشتہ 10 سالوں میں 49 ارب 38 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
منشا گروپ کی دوسرے آئی پی پی اے ای ایس پاک جنریشن پرائیویٹ کمپنی کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 25 اگست 2026 تک 365 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کمپنی کو گزشتہ 10 سالوں میں 50 ارب 83 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
منشا گروپ کی تیسری آئی پی پی نشاط چونیاں پاور پراجیکٹ کو 6 ستمبر 2007 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 29 جون 2035 تک 200 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا۔ اس کمپنی کو گزشتہ 10 سالوں میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 41 ارب 42 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
منشا گروپ کے چوتھے آئی پی پی نشاط پاور پراجیکٹ کو 6 ستمبر 2007 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 30 دسمبر 2034 تک 200 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کمپنی کو گزشتہ 10 سالوں میں 39 ارب 80 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
چائنا پاور حب جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو مالی سال 2023-24 میں ایک کھرب 37 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 2022-23 میں ایک کھرب 18 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
ایک اور چینی آئی پی پی کو مالی سال 2023-24 میں ایک کھرب 13 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 2022-23 میں ایک کھرب 2 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔ْاسی طرح پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو گزشتہ مالی سال کے دوران ایک کھرب 20 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 2022-23 میں 77 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
