کیا ہمارے معاشرے میں بیوہ کی دوسری شادی جرم ہے؟

دنیا کے ہر معاشرے میں کچھ سماجی رکھ رکھاؤ اورروایات ہوتی ہیں، اور لوگ ان کو ساتھ لے کر چلتے ہیں،
پاکستانی معاشرے میں شادی شدہ خاتون کے بیوہ ہونے پر وہی قصور وار قرار پاتی ہے
اور اگر وہ طلاق کے بعد کم عمر لڑکے سے دوسری شادی کرے تو یہ یقینی طور پر’’آ بیل مجھے مار‘‘ کے مصداق ہی ہوگا۔
نجی انٹرٹینمنٹ چینل کا ڈرامہ ’’دوبارہ‘‘ اسی مرکزی خیال کے تحت ترتیب دیا گیا، ’’مہرالنسا‘‘ کا کردار حدیقہ کیانی نبھا رہی ہیں جن کی پہلی شادی کم عمری میں ایک بڑی عمر کے شخص (نعمان اعجاز) سے کر دی گئی تھی۔اس شادی کے بعد حدیقہ کو اپنے بچپن اور جوانی دونوں کا گلا گھونٹنا پڑا اور خود کو اس رنگ میں ڈھالنے پر مجبور ہوئیں جو اُن سے بیس سال بڑے شوہر چاہتے تھے، شوہر کی وفات کے بعد مہرالنسا اپنی زندگی دوبارہ جینے کا فیصلہ کرتی ہیں، مگر ایک بیوہ کے روایتی اور معاشرے میں رائج طور طریقے اختیار نہ کرنے پر وہ ذلت آمیز رویے کا نشانہ بنتی ہیں۔
’’مہرالنسا‘‘نے بالآخر اپنے سے کم عمر نوجوان سے دوسری شادی کر لی اور اب تو جیسے نفرت کو خود ہی دعوت دے دی، اب کی بار طعنے دینے والوں میں خود ان کے بچے بھی شامل ہیں، یہاں تک کہ اُن کی نند کہتی ہیں کہ مہرالنسا نے اپنے بیٹے کی عمر کے لڑکے سے شادی کر کے خاندان کی عزت نیلام کر دی۔
ڈرامے میں مہرالنسا کا ردعمل کیا ہوگا اور اُن کی زندگی کیا رُخ اختیار کرتی ہے، اس کا جواب آئندہ اقساط میں ہی ملے گا، لیکن نظر دوڑائیں تو ایسی کئی کہانیاں ہمارے اردگرد بھی موجود ہیں، اسی حوالے سے معاشرے کے جیتے جاگتے کرداروں میں سے ایک ’’سعدیہ‘‘ چار بچوں کی ماں ہیں اور پہلی شادی کے بعد انھیں طلاق ہو گئی تھی مگر سعدیہ نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا اور اُن کے شوہر کی عمر اُن کی عمر سے کچھ کم ہے، وہ بتاتی ہیں کہ شادی کے معاملے میں اُن کی زندگی کی کئی برس کانٹوں کی سیج ثابت ہوئی۔
سعدیہ نے بتایا کہ طلاق کے تین سال بعد موجودہ شوہر نے مجھے شادی کی پیشکش کی اور میں مان گئی مگر شوہر کے خاندان کو اس شادی پر شدید اعتراض تھا، ہمیں کورٹ میں نکاح کرنا پڑا کیونکہ میرے شوہر کے والدین اور بہن بھائی اس رشتے سے خوش نہیں تھے، میری ساس نے کہا کہ اس کو طلاق دے دو، ہم چالیس لاکھ روپے حق مہر دے دیں گے، میرے شوہر نے انھیں بتایا کہ میں نے ایک طلاق یافتہ عورت کو سہارا دیا ہے، میں اس کو دوباہ بے سہارا نہیں کروں گا۔
