جنک فوڈ انسانی صحت کیلئے کتنا نقصان دہ ہے؟

دوران سفر عام روایتی کھانوں کی بجائے چپس، بسکٹ، کولڈ ڈرنکس کا استعمال الٹرا پروسیسڈ فوڈز کے زمرے میں آتا ہے، کئی بار ہم انھیں صرف وقت گزارنے کے لیے یا منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے بھی کھاتے ہیں، اس کے باوجود کہ ہمارا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے، ان کا زیادہ استعمال صحت کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔یہی نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں اس طرح سے تیار کیا جاتا ہے کہ وہ کھانے میں لذیذ لگتے ہیں اور ہم ان کے عادی ہو جاتے ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور انڈین کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز (ICRIER) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 10 سالوں میں انڈیا میں الٹرا پروسیسڈ فوڈ کی مارکیٹ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اطفال کے امراض کے ماہر ڈاکٹر ارون گپتا کے مطابق الٹرا پروسیسڈ فوڈ کھانے کی وہ چیز ہے جسے آپ عام طور پر اپنے کچن میں نہیں بنا سکتے۔ یہ عام کھانے کی طرح نہیں لگتا ہے جیسے پیک شدہ چپس، چاکلیٹ، بسکٹ اور بڑے پیمانے پر تیار بریڈ اور بن وغیرہ۔وہ کہتے ہیں ’ہر برادری اپنے ذائقے اور پسند کے مطابق کھانا تیار کرتی ہے۔ اسے بھی فوڈ پروسیسنگ کہا جا سکتا ہے۔ اگر ہم دودھ سے دہی بناتے ہیں تو یہ پروسیسنگ ہے۔ لیکن اگر کسی بڑی صنعت میں دودھ سے دہی بنایا جائے اور اسے مزیدار بنانے کے لیے رنگ، ذائقہ، چینی یا کارن سیرپ ڈالا جائے تو یہ الٹرا پروسیسڈ فوڈ ہن جائے گا۔الٹرا پروسیسڈ فوڈ کو کاسمیٹک فوڈ بھی کہا جاتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق الٹرا پروسیسڈ فوڈز ایسے اجزا سے بنتی ہیں جو صنعتی تکنیک اور عمل کو استعمال کرتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں، ماہرین کے مطابق چینی، نمک، چکنائی یا ایملسیفائنگ (دو مختلف قسم کے مادوں کی آمیزش) ان تمام چیزوں میں صنعتی عمل کے ذریعے کیمیکلز اور پریزرویٹو شامل کیے جاتے ہیں، جنھیں ہم عموماً اپنے کچن میں استعمال نہیں کرتے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کے سابق سینیئر سائنسداں ڈاکٹر وی سدرشن راؤ کا کہنا ہے کہ تہذیب کے آغاز سے ہی چیزوں کو محفوظ رکھنے کا استعمال شروع ہو گیا تھا، اس کا بنیادی کام کھانے کو طویل مدتی استعمال کے لیے بیکٹیریا اور فنگس وغیرہ کے ذریعے خراب ہونے سے بچانا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کی اشیاء میں موجود پریزرویٹوز جن میں کئی قسم کے اینٹی مائیکروبیئلز، اینٹی آکسیڈنٹس، سوربک ایسڈ وغیرہ شامل ہیں، ہر کھانے کی اشیاء میں استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ کھانے کی اشیاء میں بیکٹیریا کو روکنے کے لیے بیکٹریا کش یا مخالف پریزرویٹو کا استعمال کیا جاتا ہے، پریزرویٹوز نہ صرف کھانے پینے کی اشیا میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ کریم، شیمپو، سن سکرین جیسی کاسمیٹکس میں بھی استعمال ہوتے ہیں تاکہ انھیں طویل عرصے تک استعمال کیا جا سکے۔انڈیا میں پراسیسڈ فوڈ بزنس سیکٹر کی مالیت اب 500 ارب ڈالر ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق الٹرا پروسیسڈ فوڈز پریزرویٹوز اور کیمیکلز سے بھرے ہوتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ فوڈز کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس کا کتنا استعمال کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر جیش واکانی کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی پریزرویٹو اشیا کا معیار سے زیادہ مقدار میں اور زیادہ عرصے تک استعمال کیا جائے تو یہ جسم میں کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔بعض اوقات کھانے پینے کی اشیا کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے ایسے پرزرویٹوز ڈالے جاتے ہیں جو نقصان دہ ہوتے ہیں۔2023 کی گلوبل ہنگر انڈیکس رپورٹ کے مطابق انڈیا 125 ممالک میں بھوک کے معاملے میں 111 ویں نمبر پر ہے اور وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ آبادی بھوک کا شکار ہے، ڈاکٹر ارون گپتا کہتے ہیں کہ ’انھیں کبھی کبھار کھایا جا سکتا ہے، لیکن جب ہم اپنی خوراک کے دس فیصد سے زیادہ میں ان کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، یعنی اگر 2000 کیلوریز میں سے 200 سے زیادہ کیلوریز الٹرا پروسیسڈ فوڈ سے آتی ہیں، تو پھرنقصان شروع ہوتا ہے۔ڈاکٹر ارون گپتا کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس حوالے سے زیادہ تر تحقیق بالغوں پر کی گئی ہے لیکن 2017 میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً پچاس فیصد بچوں کو الٹرا پروسیسڈ فوڈ سے نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ انھیں موٹاپے کی طرف دھکیل رہا ہے۔

Back to top button