جسٹس مسرت ہلالی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کیلئے مضبوط امیدوار

جسٹس مسرت ہلالی کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے لیے مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جا رہا ہے، نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال 13 اپریل کو جوڈیشل کمیشن اجلاس کی سربراہی کریں گے۔اجلاس میں جسٹس مسرت ہلالی کو پشاور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس بنانے پر غور کیا جائے گا، چیف جسٹس کی جانب سے 13 اپریل کو بلائے جانے والے اجلاس میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس مسرت ہلالی کو پشاور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نامزد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جسٹس مسرت ہلالی اس وقت قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داری ادا کر رہی ہیں، مسرت ہلالی پہلی خاتون ہوں گی جو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالیں گی، وہ جج بننے سے پہلے انسانی حقوق کی بھی سرگرم کارکن تھیں اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں بھی فرنٹ لائن پر رہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی کا تعلق مالاکنڈ ڈویژن کے قدرے پسماندہ علاقے پالئی سے ہے۔ وہ اٹھ اگست 1961 کو پیدا ہوئیں۔ قانون کی ڈگری خیبر لا کالج پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی اور 1983 میں ڈسٹرکٹ بار کے ساتھ بطور وکیل انرول ہوئیں اور وکالت کا باقاعدہ آغاز کیا، وہ 1988 میں ہائیکورٹ اور 2006 سپریم کورٹ میں انرول ہوئیں۔

مسرت ہلالی بار کی پہلی خاتون تھیں جو پشاور بار کی سیکریٹری منتخب ہوئیں اور اس عہدے پر 1988سے 1989 تک براجمان رہیں اور 1992 سے 1994 تک مسلسل دو بار نائب صدر بھی رہیں۔ 1997 میں دوسری بار سیکریٹری منتخب ہوئیں جبکہ وہ سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کی ایگزیکٹیو رکن منتخب ہونے والی بھی پہلی خاتون تھیں۔مسرت ہلالی بطور وکیل بھی مختلف اہم سرکاری عہدوں پر رہی ہیں، 2001 میں بطور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا تعیناتی ہوئی اور وہ یہ عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کی حیثیت سے 2004 تک کام کیا۔

انہوں نے چئیرپرسن انوائرمینٹل پروٹیکش ٹربیونل کے طور پر بھی خدمت انجام دیں اور اس عہدے پر بھی کام کرنے والی وہ پہلی خاتون تھیں، وہ صوبائی محتسب بھی رہیں اور پھر 26 مارچ 2013 کو پشاور ہائیکورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات ہوئیں جس کے ایک سال بعد ہی وہ پشاور ہائی کورٹ کی مستقل جج بن گئیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے یکم اپریل 2023 کو قائمقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ وہ پشاور ہائی کورٹ کی تاریخ میں چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز ہونے والی پہلی خاتون جج ہیں، یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس قیصر رشید 30 مارچ کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے جس کے بعد سینئر ترین جج جسٹس روح الامین کو قائم مقام چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔ وہ صرف ایک روز ہی چیف جسٹس رہنے کے بعد 31 مارچ کو ریٹائر ہو گئے تھے۔

 

کیا آزادکشمیر سے بھی تحریک انصاف کی چھٹی ہونے والی ہے؟

Back to top button