کیا آزادکشمیر سے بھی تحریک انصاف کی چھٹی ہونے والی ہے؟

وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے بعد حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے ۔جہاں تحریک انصاف کی قیادت نے اگلے وزیر اعظم کیلئے مشاورت شروع کر دی ہے وہیں پیپلز پارٹی بھی حکومت سازی کیلئے میدان میں آ چکی ہے اور اس نے پی ٹی آئی اراکین سے رابطے شروع کر دئیے ہیں مبصرین کے مطابق زمینی حقائق سے لگتا یہی ہے کہ وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے بے دخلی کے بعد اب آزاد کشمیر حکومت سے بھی تحریک انصاف کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔

آزادکشمیر کی ہائی کورٹ نے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت پر سزا دیتے ہوئے، انہیں عوامی عہدے سے محروم کر دیا ہے جبکہ آزادکشمیر سپریم کورٹ نے بھی سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے خلاف اپیل خارج کردی ہے۔آزادکشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم نے سردار تنویر الیاس کے وکلا پر سخت اظہار برہمی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے اس اپیل میں سابق وزیراعظم کو موجودہ وزیراعظم کیوں لکھا؟جب آپ کو رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہہ دیا تھا تو بات کیوں نہیں مانی گئی۔وکیل سردار تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ جناب عالی اس لفظ کو سابق وزیر اعظم ہی تصور کیا جائے۔چیف جسٹس راجہ سعید نےکہا کہ ہم کیسے اسے سابق پڑھیں، آپ سینئر وکیل ہیں، یہ سپریم کورٹ ہے کوئی مذاق نہیں، جب تک سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں ہوتا، ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہےگا وہ سابق وزیر اعظم ہی تصور ہوں گے، نئی اپیل دوبارہ جمع کرائیں دیکھیں گے اسے کب قبول کرنا ہے۔

 تنویر الیاس کی طرف سے معافی کی استدعا کو بھی مسترد کر دیا گیا اور انہیں آنا فانا گھر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ آزادکشمیر میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو ایک غیر منتخب عدالت نے اس طرح عہدے سے فارغ کیا ہے۔ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستانی عدالتوں سے اٹھنے والے توہین عدالت کے جراثیم اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی وجہ سے ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کیا گیا تھا جب کہ ن لیگ کر رہنما نوازشریف کو بھی سپریم کورٹ نے آئین کی آرٹیکل 62 اور63 کی روشنی میں عہدے سے ہٹایا تھا اور انہیں تا حیات نا اہل قرار دیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے کوششیں پہلے سے جاری تھیں اور ان میں سردار تنویر الیاس کے بیانات نے آسانی پیدا کردی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس کے نااہل ہونے کے بعد سینئر وزیر , وزیراعظم کے اختیارات استعمال کرے گا۔ خواجہ فاروق اس وقت سینئر وزیر ہیں اور وہی وزیراعظم کے اختیارات استعمال کر سکیں گے جب کہ موجودہ کابینہ بھی برقرار رہے گی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاسی معاملات پر نظر رکھنے والے صحافی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ کہتے ہیں کہ پاکستانی کشمیر کے عبوری ایکٹ 1974 کے مطابق وزیرِ اعظم کی بیماری یا نااہلی کی صورت میں سینئر وزیر کو وزیرِ اعظم بنا دیا جائے گا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں سینئر وزیر کو قائم مقام وزیراعظم بنایا جاتا تھا لیکن تین سال قبل ہونے والی قانون سازی کے بعد سینئر وزیر وزیراعظم تونہیں بنے گا البتہ بطور سینئر وزیر وہ حکومت چلاتے ہوئے تمام اختیارات استعمال کرسکتے ہیں۔اُن کے بقول نئے وزیرِ اعظم کے انتخاب تک سینئر وزیر کے بطور وزیرِ اعظم کام کرنے کا نوٹی فکیشن الیکشن کمیشن جاری کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں 53 ارکان اسمبلی ہیں جن میں سے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 19 اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے دو، تین مزید ارکان ہیں۔وزیراعظم کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہے ، لہذا اس معاملے میں بھی ایسا ہوسکتا ہے کہ سینئر وزیر کے اختیارات سنبھالنے کے بعد جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگا اور اپنا وزیراعظم بنانے کی کوشش کی جائے گی۔سابق ایڈووکیٹ جنرل چوہدری شوکت عزیز کہتے ہیں کہ اس معاملے میں چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے سینئر وزیر کو وزیراعظم کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کام کرنے کا کہا جائے گا جس کے بعد وہ اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں گے لیکن کابینہ فی الحال یہی برقرار رہے گی۔

دوسری جانب آزاد کشمیر کے سیاست دان اس رجحان کو خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس سے بہت سارے سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس طرح کسی منتخب وزیراعظم کو عدالتوں کے ذریعے نکلوانے کا عمل بہت خطرناک ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ، ”یہ عمل پاکستان سے شروع ہوا، جہاں دو منتخب وزرائے اعظم اور کچھ اراکین پارلیمنٹ کو عدالتوں نے عہدوں سے ہٹایا۔ اب یہ جراثیم ہمارے علاقے میں بھی آ گئے ہیں، جس کا اس خطے کی سیاست پر بہت گہرا اثر ہو گا۔‘‘ڈاکٹر توقیر گیلانی کے مطابق، "ابھی یہ عمل شروع ہوا ہے اور مستقبل میں بھی میں اگر طاقت ور وزیر اعظم سے کوئی شکایت ہو گی تو وہ عدالتوں کے ذریعے فارغ کروا دیے جائیں گے۔‘‘

دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ صدر سردار تنویر الیاس کا طرز حکمرانی بہت اچھا نہیں رہا، جس کی وجہ سے افسر شاہی میں کئی لوگ انہیں سخت ناپسند کرتے ہیں۔ وہ مختلف تنازعات کی زد میں بھی رہے ہیں۔ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کی طاقتور اشرفیہ سردار تنویر الیاس کے خلاف تھی، ”اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سردار تنویر الیاس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی بدتمیز آدمی ہیں، جنہوں نے افسر شاہی اور سیاستدانوں کو گالیاں دی ہیں۔ طاقتور حلقے بھی ان سے ناراض تھے لیکن سیاستدانوں کو ہٹانے کا طریقہ صرف جمہوری ہونا چاہیے۔‘‘

کئی مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت یا وزیر اعظم کو ہٹانے کا طریقہ کار بالکل مختلف ہے، جس میں عدالتوں کی کوئی مداخلت نہیں ہو سکتی ہے۔ یونائٹیڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین سردار شوکت علی کا کہنا ہے کہ اس متنازعہ علاقے کے آئین کی روشنی میں وزیر اعظم کو اس طرح فارغ نہیں کیا جا سکتا۔شوکت علی کشمیری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، نون لیگ اور دوسری جماعتوں کو اس پر شادیانے نہیں بجانے چاہیے، ”اس عدالتی فیصلے سے اب حکومتوں کی تبدیلی کا راستہ آزاد کشمیر میں کھل گیا ہے۔ کل کوئی بھی وزیر اعظم اگر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جائے گا، تو اسٹیبلشمنٹ عدالتوں کے ذریعے اسے فارغ کروا دے گی۔‘‘

خیال کیا جاتا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کا نہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاست پر اثر ہو گا بلکہ اس سے پاکستانی سیاست بھی متاثر ہو سکتی ہے، جہاں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت پہلے ہی یہ اشارے دے چکی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرے گی جس میں حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز اور سکیورٹی مہیا کرنے کے انتظامات کرے۔

وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر عدالت چاہے تو پوری کابینہ کو نااہل قرار دے دے۔ امکان ہے کہ اگر سردار تنویر الیاس سپریم کورٹ میں اپیل کرتے ہیں اوراگر سپریم کورٹ بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے، تو پاکستان تحریک انصاف پاکستانی سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ حکومت کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس لے اور وزیراعظم شہباز شریف کو نااہل کرے۔پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت نے اسے اکیس ارب روپے پنجاب کے انتخابات کے لیے نہیں دیے ہیں۔ اس تحریری جواب کے بعد ممکنہ طور پر پی ٹی آئی توہین عدالت کے مطالبے پر مزید زور دے گی۔

 

شمعون عباسی اور جویریہ عباسی کی بیٹی کی شادی کے چرچے

Back to top button