خواجہ آصف نے36ڈویژنزکوانتظامی یونٹس بنانےکی تجویزدیدی

وزیردفاع خواجہ آصف نےتجویز دی کہ ملک کے 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس بنایا جا سکتا ہے اور یہ بالکل ضروری نہیں کہ ان تمام ڈویژنز میں الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ ہوں۔
خواجہ آصف کانجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ نظام مفلوج ہو چکا ہے تاہم یہ ہم حکمرانوں کی ہی ذمہ داری ہے کہ اسے ٹھیک بھی کریں، ملک میں انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں تاہم ضروری نہیں ان میں الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ ہوں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مقامی حکومتوں کے قیام، نئے انتظامی یونٹس اور سفارتی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر بھارت نے دوبارہ کوئی ‘مس ایڈونچر’ کرنے کی کوشش کی تو پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ‘دمادم مست قلندر’ ہوگا، کیونکہ پاکستان نے ماضی میں بھی بھارت کو ‘پھینٹی’ لگائی تھی جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
انہوں نے پانی کو پاکستان کی ‘لائف لائن’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پانی کے تنازعات پر بے شمار جنگیں ہو چکی ہیں اور یورپ میں بھی طویل عرصے بعد پانی کے معاملے پر سیٹلمنٹ ہوئی تھی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں میں سے کوئی بھی ‘سندھ طاس معاہدے’ کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
ملک موجودہ نظام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ نظام مفلوج ہو چکا ہے اور یہ ہم حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم ہی اسے ٹھیک بھی کریں۔
وزیردفاع کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت تمام صوبوں کو گراس روٹ لیول پر بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
