جماعت اسلامی حکومت اور جماعت اسلامی کا مذاکراتی کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاقنے حکومتی وفدکےسامنے3مطالبات رکھ دیئے

وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مشترکہ طور پر سفارشات مرتب کرنے پر اتفاق کرلیا۔
لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت اور جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے الگ الگ ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دیں گی، جو قابلِ عمل تجاویز پر مذاکرات کریں گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں، حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے اور جماعت اسلامی کی بھی خواہش ہے کہ عوام کو آسانی فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے، حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور جتنا ممکن ہوسکا عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے گی۔ مذاکرات میں حکومت اپنا موقف جماعت اسلامی کے سامنے رکھے گی۔
احسن اقبال نے بتایا کہ حکومتی وفد نے لاہور میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں پیٹرولیم لیوی سمیت عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔ حکومت ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے گی جبکہ جماعت اسلامی سے بھی ایسی ہی کمیٹی بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدامنی ہو جس سے دشمن ملک فائدہ اٹھائے، اس وقت ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں عوامی اجتماعات کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ملک میں امن کے لیے کوشش کریں۔
وفاقی وزیر نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومتی وفد کی گفتگو بڑے اچھے انداز میں سنی۔ جماعت اسلامی نے یقین دلایا ہے کہ کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا جائے گا جس سے ملکی مفاد کو نقصان پہنچے۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں کہ اس نے حکومتی وفد کا اچھے طریقے سے استقبال کیا اور ہماری بات سنی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا موقف بھی یہی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے، وزیراعظم شہباز شریف بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکا، ایران جنگ کی وجہ سے آنے والی مہنگائی کے سیلاب سے عوام کو کیسے ریلیف دیا جائے۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے وفد سے متعدد امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو آج 19واں دن ہے، پاکستان میں ابتدا میں تین مقامات سے دھرنے شروع کیے گئے تھے جو اب بڑھ کر تقریباً 15 سے 20 مقامات تک پہنچ چکے ہیں اور ان میں لوگوں کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
