خراسانی کی موت سے TTP اور حکومت مذاکرات خطرے میں


تحریک طالبان پاکستان کے اہم ترین کمانڈر عمر خالد خراسانی کی افغان صوبے پکتیکا میں ایک پراسرار دھماکے میں ہلاکت کے بعد پاکستانی عسکری حکام اور ٹی ٹی پی کے مابین افغان حکومت کی ثالثی سے ہونے والے امن مذاکرات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ خراسانی کا تحریک طالبان پاکستان اورحکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران یوں پُراسرار حملے میں مارا جانا یقیناً ان مذاکرات کے مستقبل پرسوالیہ نشان ہے۔ لہذا اگر خراسانی کے ساتھیوں کی جانب سے ان کے قتل کا مدعا پاکستانی سکیورٹی اداروں کی معاونت پر ڈالا جاتا ہے تو اس صورتحال میں مذاکرات جاری رکھنا تحریک طالبان میں اندرونی خلفشار اور تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان اکتوبر 2022 میں مذاکرات شروع ہوئے تھے جو دوطرفہ جنگ بندی اور ملاقاتوں کے تسلسل کی وجہ سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے تھے۔ عمر خالد خراسانی طالبان کی اس کمیٹی کے رکن تھے جو پاکستانی فوجی حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی اور خراسانی کے مطالبے پر ہی پاکستانی حکام نے درجنوں گرفتار طالبان جنگجوؤں کو حال ہی میں رہا کیا تھا۔

ماضی میں بھی جب 2013 میں حکومت اور پاکستانی طالبان کے درمیان اسی قسم کے امن مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو ایک امریکی ڈرون میں حکیم اللہ محسود کے مارے جانے سے مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا کیونکہ تحریک طالبان نے پاکستانی فوج پر اس ڈرون حملے کی معاونت کا الزام لگایا تھا۔ اگرچہ پاکستانی حکومت نے اب تک خراسانی کے مارے جانے کے حوالہ سے کوئی بیان نہیں دیا مگر ایک عرصے سے افغانستان میں ایسی کارروائی میں حکومت کو مطلوب سرکردہ کمانڈر نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس پر ان کے ساتھی پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ یاد رہے کہ افغانستان کے جنوب مشرقی صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں پاکستانی طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے مارغہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سینئر کمانڈر عبدالولی مہمند عرف عمر خالد خراسانی 7 اگست کی شام ایک پراسرار بم دھماکے میں ہلاک ہوئے۔دھماکے کے حوالے سے متضاد رپورٹس مل رہی ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق خراسانی کی موت ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ہوئی جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسکی کار کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ خراسانی کی گاڑی مارغہ سے قریبی ضلع ارگون کے سفر کے دوران رات کے وقت ایک بڑے دھماکہ کی زد میں آئی۔ خراسانی کے داماد علی حسان مہمند اور دو طالبان کمانڈر مفتی حسن سواتی اور حافظ دولت خان اورکزئی بھی اُن کے ساتھ گاڑی میں موجود تھے۔

ٹی ٹی پی کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک پیغام میں عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ خراسانی ٹی ٹی پی کے بانی ارکان میں سے تھے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان میں اسلامی شدت پسندوں کی ریاست مخالف جنگ اور ٹی ٹی پی کو منظم کرنے میں ان کا اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔ ان کا شمار ٹی ٹی پی کے طاقتور اور بااثر رہنماؤں میں ہوتا تھا جو ریاست مخالف سخت ترین موقف کا اظہار کرتے تھے۔

خراسانی تحریک طالبان پاکستان کے وہ واحد کمانڈر تھے جن کی موت یا گرفتاری میں مدد پر امریکی حکومت نے 30 لاکھ ڈالرز کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔ اس لیے خراسانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے قبل اس فہرست میں موجود تمام پاکستانی طالبان کمانڈر امریکی ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں جس میں بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، قاری حسین محسود اور مولانا فضل اللہ خراسانی وغیرہ شامل تھے۔خراسانی بھی ماضی میں امریکی ڈرون حملوں سمیت کئی امریکی، افغان اور پاکستانی فورسز کے زمینی حملوں کا نشانہ بنے مگر وہ ہر بار بچ نکلنے میں کامیاب رہتے تھے۔

عمر خالد خراسانی کا اصل نام عبدالولی مہمند تھا جو 18 جولائی 1980کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل صافی کے گاؤں قندھاروں میں پیدا ہوئے تھے۔ خراسانی کے اپنے مطابق انھوں نے اپنی عسکری زندگی کا آغاز سنہ 1996 میں جہادی تنظیم ’حرکت المجاہدین‘ سے کیا جس کے ذریعے افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی، حرکت المجاہدین کے پلیٹ فارم سے وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین افواج کے خلاف لڑائی میں بھی شریک ہوئے۔ خراسانی کے بقول 2003 کے بعد ریاست پاکستان کے خطے میں بدلتے حالات کے دباؤ اور کشمیر میں جہادی تنظیموں پر پابندی کی وجہ سے وہ افغانستان میں امریکی و اتحادی افواج کے خلاف پاکستانی اور افغان طالبان کے نئے منظم ہونے والے نیٹ ورکس کے ساتھ شمولیت کے لیے جنوبی وزیرستان منتقل ہوئے اور یہیں پر ان کی ملاقات و دوستی تحریک طالبان پاکستان کے مستقبل کے بانی بیت اللہ محسود سے ہوئی اور یوں وہ دسمبر 2007 میں تحریک طالبان پاکستان کا حصہ بن گئے۔

پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت میں خراسانی اور ان کے ساتھیوں کا اثر و رسوخ 2012 کے دوران حکیم اللہ محسود کی تنظیم کی سربراہی میں نمایاں ہو گیا۔

خراسانی تحریک کے اجرائی کمیشن کے امیر، ان کے دست راست ساتھی قاری شکیل تنظیم کے سیاسی کمیشن کے سربراہ اور دوسرے قریبی ساتھی احسان اللہ احسان تنظیم کے مرکزی ترجمان مقرر ہوئے۔ حکیم اللہ محسود کی نومبر 2013 میں امریکی ڈرون حملہ میں مارے جانے کے بعد تنظیم کے اندر قیادت اور دیگر مسائل خصوصاً تنظیم کے پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر شدید تحفظات کی وجہ سے خراسانی نے درجنوں کمانڈروں کے ساتھ اگست 2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدگی کا اعلان کر کے جماعت الاحرار کے نام سے الگ تنظیم قائم کی۔ جماعت الاحرار جلد ہی پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں کی تعداد و شدت کی وجہ سے مرکزی تحریک طالبان کو پیچھے چھوڑ گئی جو جماعت الاحرار کے علیحدگی، داعش خراسان میں اہم کمانڈروں کی شمولیت سمیت مزید ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے نہایت کمزور ہو گئی تھی۔

اسی دوران خراسانی امریکی حکومت کے مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہوئے اور ان کے قتل یا گرفتاری میں معاونت پر امریکی حکومت کی جانب سے بڑا انعام مقرر کیا گیا۔ خراسانی نے اگست 2020 میں اپنے ساتھیوں سمیت تحریک طالبان پاکستان میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا۔ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے خراسانی کی تنظیم میں دوبارہ شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھیں تحریک طالبان پاکستان کی تقویت اور ریاست کے خلاف جنگ کو منظم کرنے کے لیے انتہائی مفید قرار دیا تھا۔

Back to top button