خیبر پختونخوا: وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ، اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار لانے پر مشاورت

خیبر پختونخوا میں وزارت اعلیٰ کے لیے انتخابی عمل جاری ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے اپنے امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اپوزیشن کی مختلف جماعتیں متفقہ امیدوار میدان میں اتارنے کے لیے مشاورت کر رہی ہیں، تاہم تاحال کسی ایک نام پر مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ن) نے وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کے لیے اپنے اپنے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ جے یو آئی (ف) کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی یا مولانا لطف الرحمان کے نام زیر غور ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ڈاکٹر عباداللہ مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
جے یو آئی (ف) خیبرپختونخوا کے امیر مولانا عطا الرحمان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے امیدوار لائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ متفقہ امیدوار کے لیے مشاورت جاری ہے اور تمام جماعتیں مل کر فیصلہ کریں گی۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ خان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اپوزیشن جماعتیں کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائیں گی اور کوشش ہے کہ وزارت اعلیٰ کے لیے ایک مشترکہ امیدوار میدان میں اتارا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد علی امین نے استعفیٰ دے دیا اور پارٹی کی جانب سے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کل (پیر) صبح 10 بجے طلب کیا گیا ہے جس میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔
