پنجاب سے غیر قانونی افغان شہریوں کی ملک بدری کا تیسرا مرحلہ شروع

پنجاب حکومت نے غیر قانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرحلے میں مزید 123 افغان شہریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہیں ملک بدر کرنے کے لیے مختلف ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یکم اپریل 2025 سے اب تک پنجاب سے مجموعی طور پر 42 ہزار 913 افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔ ان افراد کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں یا وہ اپنی ویزا مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔
پنجاب میں اس وقت 46 فعال ہولڈنگ سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن میں صرف لاہور میں پانچ مراکز شامل ہیں۔ ان مراکز میں غیر قانونی افغان باشندوں کو عارضی طور پر رکھا جاتا ہے، جنہیں بعد ازاں طورخم سرحد کے راستے افغانستان منتقل کر دیا جاتا ہے۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق، پولیس غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو عالمی قوانین کے تحت مکمل کر رہی ہے اور اس دوران انسانی حقوق اور وقار کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس اب تک 21 ہزار 805 غیر قانونی افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کو ملک بدر کر چکی ہے۔
دوسری جانب، پنجاب کے سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے تصدیق کی کہ میانوالی کے مشہور افغان مہاجر کیمپ "کوٹ چاندنا” کو بند کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب صوبے میں کوئی بھی فعال افغان مہاجر کیمپ موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کو ضلعی سطح پر قائم ہولڈنگ سینٹرز میں رکھا جاتا ہے، جہاں انہیں خوراک، رہائش اور دیگر سہولیات حکومت کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر قاضی کے مطابق، پاکستان میں صرف وہ افغان شہری قیام کر سکتے ہیں جن کے پاس درست ویزے یا قانونی حیثیت موجود ہو۔ باقی تمام افراد کو وطن واپسی یقینی بنانا ہوگی۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق، اس وقت پاکستان میں 35 لاکھ سے زائد افغان شہری موجود ہیں، جن میں سے تقریباً سات لاکھ وہ ہیں جو 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان منتقل ہوئے۔ ان میں سے تقریباً نصف کے پاس کوئی قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کی تعداد میں اضافہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور ملکی وسائل پر دباؤ کا سبب بن رہا ہے، جس کے پیشِ نظر ملک گیر سطح پر ان کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
