اغواء کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال، کچے کے ڈاکو بھی جدید ہوگئے

سندھ پنجاب سرحدی کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں نے عملاً اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ڈاکوئوں کے سامنے انتظامیہ اور پولیس بے بس ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ملک بھر سے لوگوں کو اغوا کرکے کچے کے علاقے میں یرغمال بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ اغوا کی ان وارداتوں میں خواتین کو بطور ’’ہنی ٹریپ‘‘ استعمال کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کرکے ڈاکوئوں نے اپنے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ دریا کے پانی کو شہروں میں جانے سے روکنے کے لئے دریا کے دونوں اطراف مٹی کے بند باندھے گئے ہیں۔ ان مٹی کے بندوں کے درمیانی علاقے کو ’’کچا‘‘ کہا جاتا ہے۔ سندھ سے لے کر پنجاب تک ان بندوں کے درمیان لاکھوں ایکڑ کی زمین ہے۔ جہاں کئی مقامات پر گھنے جنگلات اور دشوار گزار راستے ہیں۔ لہٰذا یہ ڈاکوئوں کی محفوظ پناہ گاہیں یا کمین گاہیں ہیں۔ جہاں وہ تاوان کے لئے اغوا کئے گئے افراد کو رکھتے ہیں۔ کچے کے علاقے میں زیادہ تر کانٹے دار کیکر کے درختوں کے گھنے جنگلات ہیں۔ جن میں آدمی چھپ جائے تو نظر نہیں آتا۔ بنیادی طور پر کچے کا علاقہ پانی اور جنگلات سے گھرا ایریا ہے۔

پچھلی کئی دہائیوں سے کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کی اجارہ داری ہے۔ اس عرصے کے دوران درجنوں بار آپریشن کئے گئے۔ لیکن خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کے نیٹ ورک کس طرح کام کرتے ہیں اور کس طرح ان کرمنلز نے کچے کے علاقے میں اپنی الگ ریاست قائم کر رکھی ہے۔

کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔  ماضی کے مقابلے میں ڈاکو اب کارروائیوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ڈاکوئوں نے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں پر فوکس رکھا ہوا ہے کیونکہ یہ پیسے کے حصول کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ مغویوں کے اہل خانہ سے ان کے پیاروں کی رہائی کے عوض بھاری تاوان مانگا جاتا ہے۔ تاوان کی رقم کی وصولی کو یقینی بنانے کے لئے مغویوں پر تشدد کی ویڈیوز اہل خانہ کو بھیجی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اغوا کی وارداتوں کا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلانے کے لئے ڈاکوئوں نے دو طریقے اختیار کر رکھے ہیں۔ ان میں سے ایک مہنگی گاڑیوں کی انتہائی سستے داموں فروخت کا ہے۔ لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لیے نئے ماڈل کی قیمتی گاڑیوں کے انتہائی کم قیمت پر فروخت کے لئے اشتہار دیئے جاتے ہیں۔ ان اشتہاروں کے جھانسے میں آکر جب کوئی رقم کے ساتھ مطلوبہ مقام پر پہنچتا ہے تو نہ صرف اس سے پیسے چھین لئے جاتے ہیں۔ بلکہ گاڑیوں کے ایجنٹ کا روپ دھارنے والے ڈاکو انہیں اغوا کرکے کچے کے علاقے میں لے جاتے ہیں اور پھر نئی کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔

ان مغویوں کی رہائی کے لیے ان کے اہل خانہ سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے اور رہائی کے بدلے میں بھاری رقوم مانگی جاتی ہیں۔ انکار پر مغویوں پر انسانیت سوز مظالم کی ویڈیوز اہل خانہ کو بھیجی جاتی ہیں۔ اس نوعیت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل کی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیشتر کیسوں میں اہل خانہ تاوان ادا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اگر کسی مغوی کے گھر والے تاوان ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔

ملک بھر سے لوگوں کو اغوا کرنے کے لئے دوسرا طریقہ ’’ہنی ٹریپ‘‘ کا ہے۔ سب سے زیادہ ’’شکار‘‘ اسی طریقے سے کئے جارہے ہیں۔ کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں نے مختلف قومیتوں کی لڑکیوں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ تاکہ ہر زبان بولنے والے شہری کو جال میں پھنسانے میں آسانی رہے۔ یہ لڑکیاں اپنے ’’شکار‘‘ سے موبائل فون اور زیادہ تر واٹس ایپ یا فیس بک کے ذریعے رابطہ کرتی ہیں۔ ابتدائی بات چیت کے بعد جب ’’دوستی‘‘ کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے اور بات شادی تک جا پہنچتی ہے تو پھر یہ لڑکیاں شکار کو ملاقات کے لئے بلاتی ہیں اور ’’سرکار کچے دھاگے‘‘ سے بندھے چلے آتے ہیں۔ ’’ہنی ٹریپ‘‘ میں آنے والا کوئی فرد جب لڑکی کے بتائے گئے مقام پر پہنچتا ہے تو اسے اغوا کرکے کچے کے علاقے میں پہنچادیا جاتا ہے۔

نسوانی آواز کا سحر شیخوپورہ کے رہائشی محمد دلاور ولد دوست محمد اور اوکاڑہ کے رمضان ولد ولایت علی کو سندھ کھینچ لایا تھا۔ ایک کو اوباڑو اور دوسرے کو ماچھکہ سے اغوا کرکے کچے کے علاقے میں پہنچایا گیا۔ جبکہ بازیاب ہونے والے تیسرے مغوی صوبہ خیبرپختونخوا کے رہائشی فضل الرحمن ولد سردار خان پٹھان سستا ٹریلر خریدنے کے لئے آئے تھے اور اس جھانسے میں پھنس کر اغوا ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کی ناکامی کا ایک بڑا سبب پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کی موجودگی بھی ہے۔ ایسے پولیس اہلکاروں کے ڈاکوئوں کے ساتھ خفیہ رابطے ہوتے ہیں۔ پیشگی اطلاع ملنے پر ڈاکو اپنے ٹھکانے تبدیل کرلیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپریشن کامیاب نہیں ہوپاتے۔

کچے کے علاقے میں اب تک کئے جانے والے آپریشنز کی ناکامی کا ایک اور بڑا سبب ڈاکوئوں کا جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ہونا بھی ہے۔ اس کے مقابلے میں پولیس کے پاس محض رائفلیں ہیں اور وہ بھی اکثر ناکارہ ہوتی ہیں۔ جبکہ ڈاکوئوں کے پاس مارٹر اور راکٹ سمیت دیگر بھاری ہتھیار اور جدید اسلحہ ہے۔ جبکہ پولیس کے پاس صرف ناکارہ گنیں ہیں، جن کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

شوبز انڈسٹری میں پرفارمنس کی بجائے سوشل میڈیا پر زور

Back to top button