عمران کی KPKمیں لوٹ مار کا ایک اور سکینڈل بے نقاب

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دورحکومت میں گلیات کے ریسٹ ہاؤسز کو من پسند افراد کے ہاتھوں کوڑیوں کے مول لیز پر دینے کے عمل سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے جنگ میں شائع ہونے والی سینئر صحافی سلیم صافی کی رپورٹ کے مطابق  تحریک انصاف کے دور حکومت میں کے پی کے میں وزیراعلیٰ کے رشتہ داروں، عمران کے قریبی ساتھیوں اور چہیتوں کو کوڑیوں کے دام پر ریستس ہاؤسزکی لیز دی گئی ۔

دستاویزات کے مطابق من پسند افراد کو نوازنے کے لئے 2015میں سیاحتی مقامات گلیات میں واقع سرکاری ریسٹ ہاوسز اور عمارتوں کو پہلے مرحلے میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے لے کر ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے زیرانتظام دیا گیا کیونکہ اس وقت عمران خان کے چہیتے بیوروکریٹ اعظم خان سیکرٹری ٹورزم تھے اور بعد ازاں اس ڈیپارٹمنٹ میں نے بورڈ کو بائی پاس کرکے یا پھر اسے بائس پاس کر انہیں اونے پونے واموں سرکاری ریسٹ ہاوسز اور دیگر عمارتیں وزیراعلیٰ کے رشتہ داروں،عمران خان کے قریبی ساتھی، پی ٹی آئی کے وابستگان اور دیگر چہیتوں میں اونے پونے داموں لیز پر الاٹ کروایا۔تمام ریسٹ ہاؤسز کو مارکیٹ ریٹ کے بجائے نہایت ہی سستے داموں لیز پر دیا گیا اور یہاں تک کہ علاقے کے ڈی سی ریٹ کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔

ریٹریٹ ہاؤس نتھیاگلی اور ونڈیا کاٹج کو انضمام الحق نامی شخص کو 33لاکھ اور 10لاکھ سالانہ کرائے پر دیا گیا جس کی مارکیٹ ویلیو 665ملین اور165ملین بنتی تھی۔ ریٹریٹ ہاؤس13کنال6مرلے اور ونڈیا کاٹج 3کنال6مرلے پر محیط ہے۔ایڈیشنل کاٹج، سیکریٹریٹ کاٹج اور رئیس خانہ نتھیا گلی کو آئی وی ٹورز کو 5سال کے لئے دیا گیا جس کی مدت مزید 5سال کے لئے بڑھائی جا سکتی تھی جبکہ اسے غیر قانونی طور پر بعد میں 15سال کر دیا گیا۔ریٹریٹ ہاؤس نتھیاگلی کا رقبہ 1کنال 8مرلے ہے۔ اس کو صرف 12لاکھ سالانہ پر دیا گیا جس کی مارکیٹ ویلیو 98ملین بنتی ہے۔ معاہدے کی خلاف وزری کرتے ہوئے یہاں 2020میں گرے کیفے کے نام سے کیفے بھی تعمیر کیا گیا۔ یہ کیفے 8مرلے کی جگہ پر 2گیراج کو غیر قانونی طور پر مسمار کر کے تعمیر کیا گیا۔2 سیکریٹریٹ کاٹج کو سالانہ 10لاکھ روپے پر دے دیا گیا۔ اس جگہ کی مارکیٹ ویلیو 105ملین بنتی تھی۔رئیس خانہ کو لاکھ سالانہ پر دیا گیا جبکہ اس کی مارکیٹ ویلیو 558ملین بنتی تھی۔

پرائیوٹ پارٹیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے معاہدے میں یہ شق بھی رکھی گئی کہ اگر معاہدے کو منسوخ کرتا ہے تو جی ڈی اے کنٹریکٹ کی نہ صرف مکمل فیس واپس کرے گا بلکہ آپریٹرنے اضافی تعمیرات پر جو خرچ کیا ہے وہ بھی ادا کرے گا۔ اسی طرح معاہدوں میں کرائے کے ضمن میں بھی حکومت کی بجائے پرائیویٹ پارٹیوں کو فائدے کی شقیں رکھی گئیں۔دستاویزات کے مطابق ٹھنڈپانی میں 8کنال رقبے کے فارسٹ ریسٹ ہاؤس کو 232ملین مارکیٹ ریٹ کے برعکس صرف 21لاکھ سالانہ لیز پر دیا گیا۔ باڑیاں کے 2کنال رقبے کے ریسٹ ہاؤس کو 76ملین کی مارکیٹ ریٹ کے بجائے 16لاکھ سالانہ لیز پر دیا گیا۔ ٹھنڈیانی میں سی اینڈ ڈبلیو کے 6کنال13مرلے کے ریسٹ ہاؤس کو 15لاکھ کی سالانہ لیز پر دیا گیا جبکہ اس کی مارکیٹ ویلیو186ملین بنتی تھی۔معاہدے کی شقوں میں بولی کی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا جبکہ مبینہ طور پر بورڈ کے سامنے معاہدوں کی تصیلات کو بھی منظوری کے لئے بھی نہیں رکھا گیا۔ پرائیویٹ پارٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لئے ٹی او آرز میں بھی ردوبدل کیا گیا۔اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں اور سب سے بڑے پروجیکٹ حاصل کرنے والوں میں عمران خان کے ایک قریبی ساتھی اور اس وقت کے وزیراعلیٰ کے قریبی عزیز قابل ذکر ہیں۔بعدازاں یہ عمارتیں حاصل کرنےو الوں نے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف گلیات کے نقشے کو تبدیل کیا بلکہ کئی جگہ جنگلات بھی عمارتوں میں تبدیل ہوگئیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ سابقہ نیب نے اس معاملے کانوٹس لیا اور نہ موجودہ نیب نے ابھی تک اس بڑے سکینڈل کے

ورلڈ کپ 2023کے شیڈول کااعلان ،پاک بھارت ٹاکرا15اکتوبر کو ہوگا

ملزمان پر ہاتھ ڈالا ہے۔

Back to top button