سکندرمرزاکی پاکستان میں تدفین کیوں نہ ہو سکی؟

پاکستان میں 7 اکتوبر 1958 کو پہلا مارشل لا نافذ کرنے والے صدر جنرل سکندر مرزا کو تاریخ نے ایسا نشان عبرت بنایا کہ نہ صرف اس نے کسمپرسی کی حالت میں طویل جلاوطنی کاٹی بلکہ مرنے کے بعد اسے پاکستان کی مٹی میں دفن ہونا بھی نصیب نہ ہوا۔
کسی زمانے میں صدر سکندر مرزا اتنے مضبوط تھے کہ ملک کی سیاست ان کی انگلیوں پر ناچتی تھی، انکے اشاروں سے حکومتیں بنتی اور بگڑتی تھیں اور لوگ ان کی نظر عنایت کے منتظر رہا کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ پھر اتنا طاقتور حکمران کسمپرسی کا شکار کیسے ہو گیا۔ اس کا دو لفظی جواب ہے مارشل لا لگانے کی وجہ سے کیونکہ اس کے نفاذ کے تین ہفتوں بعد ہی ان کے اپنے لگائے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان نے انہیں صدر کے عہدے سے فارغ کر دیا۔ جنرل سکندر مرزا افسر شاہی اور فوج کی پروردہ شخصیت تھے اس لیے ملک کو جمہوریت سے آمریت کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انکی کوشش تھی کہ وہ صدر کے عہدہ پر ہمیشہ فائز رہیں اس لیے انہوں نے سیاست دانوں کا ایسا گروہ تیار کیا جس نے سازشوں کے تانے بانے تیار کیے۔ سکندر مرزا کے اشاروں پر حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں لیکن پھر ان کے اقتدار کو بھی آگ لگی اسی گھر کے چراغ سے۔
جب وقت نے پلٹا کھایا تو یہی سکندر مرزا اپنے یار غار فیلڈ مارشل ایوب خان کے ہاتھوں ملک سے جلا وطن کر دیے گئے اور پھر انہیں پاکستان میں قبر کے لئے دو گز زمین بھی نہ مل سکی۔ تقریباً دو سو برس قبل انگریزوں کی مدد سے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال میں اپنے اقتدار کا راستہ ہموار کرنے والے میر جعفر کی اولاد سکندر مرزا کے مزاج میں بوئے سلطانی ابھی تک موجود تھی۔ پاکستان کے گرد و پیش میں اس زمانے میں دو بادشاہتیں موجود تھیں، ایک افغانستان کی اور دوسری ایران کی۔ سکندر مرزا جب ان بادشاہوں کے جاہ وجلال کو دیکھتے تو ان کے دل میں بھی ایسی ہی خواہشات سر اٹھاتیں۔ اس نوعیت کے کچھ آنکھوں دیکھے واقعات قدرت اللہ شہاب نے بیان کیے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ کابل کے شاہی محل دل کشا کا ہے جس کی چکا چوند دیکھ کر سکندر مرز کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور دوسرا واقعہ ایران کا ہے۔ سکندر کہ اہلیہ بیگم ناہید مرزا نے ایک شاہی ضیافت کا منظر یاد دلاتے ہوئے شہاب سے کہا کہ ان دعوتوں میں دو دو جرنیل شاہ ایران کے پیچھے کھڑے رہتے ہیں اور یہاں دیکھو، میجر کے رینک کے اے ڈی سی ہمارے برابر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، اس پر تم لوگوں کو کچھ سوچنا چاہیے۔
پاکستان کی ابتدائی سیاست کی اس الف لیلہ میں کسے کیا سوچنا چاہیے تھا، بس سوچ کے اسی بحران نے اس ملک ہی نہیں بلکہ اچھے بھلے طاقتور حکمران کو زوال سے دوچار کر دیا۔ سکندر مرزا کے زوال کا جو سفر آٹھ اکتوبر کو مارشل لا سے شروع ہوا تھا، 27 اکتوبر کو صدارت کے منصب سے ان کی معزولی اور دو نومبر 1958 کو ان کی ملک بدری کا باعث بنا اور اسی دربدری میں ہی وہ موت کے منہ تک جا پہنچا۔
سکندر مرزا کی پیدائش 13 نومبر 1899ء کو مرشد آباد، مغربی بنگال میں ہوئی۔ انہوں نے الفنسٹن کالج بمبئی میں تعلیم پائی۔ وہ قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کی وزارت دفاع کے پہلے سیکرٹری نامزد ہوئے۔ مئی 1954ء میں مشرقی پاکستان کے گورنر بنائے گئے۔ پھر وزیر داخلہ بنے۔ ریاستوں اور قبائلی علاقوں کے محکمے بھی ان کے سپرد کیے گئے۔ ملک غلام محمد نے اپنی صحت کی خرابی کی بنا پر انھیں 6 اگست 1955 کو قائم مقام گورنر نامزد کیا۔ سخ6ندر مرزا 5 مارچ، 1956ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور 7 اکتوبر 1958ء کو سیاسی بحران کی آڑ میں انہوں نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ یوں انکا زوال شروع ہوا کیونکہ انہوں نے وہ شاخیں کاٹ دی جس پر وہ خود بیٹھے تھے۔ 27 اکتوبر کو چیف ایڈمنسٹریڑ فیلڈ مارشل ایوب خان نے انھیں برطرف کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ اگر آئین ہی نہیں رہا تو پھر صدر کا عہدہ بھی نہیں رہا؟ یعنی جب آئینی شاخ ہی نہیں رہی تو پھر صدارتی آشیانہ کیسا؟
27 اکتوبر کی رات جرنل برکی، جنرل اعظم اور جنرل خالد شیخ اسکندر مرزا کے گھر پہنچ گئے۔ ملازموں نے بہتیرا کہا کہ صاحب اس وقت آرام کر رہے ہیں لیکن جرنیل اتنی آسانی سے کہاں ٹلتے ہیں۔ انھوں نے سلیپنگ گاؤن ہی میں صدر سے پہلے سے ٹائپ شدہ استعفے پر دستخط لے لیے اور پھر کہا کہ اپنا سامان اٹھا لیں کیونکہ آپ کو ابھی اسی وقت ایوانِ صدر سے نکلنا ہو گا۔ اسکندر مرزا نے اپنے عہدے کے بارے کچھ بحث کرنے کی کوشش کی لیکن بیگم ناہید ایک بار پھر زیادہ معاملہ فہم ثابت ہوئیں اور انھوں نے صرف اتنا پوچھا، ‘مگر میری بلیوں کا کیا ہو گا؟’
یوں ملک کے سیاہ و سفید کے مالک سمجھے جانے والے سکندر مرزا کسمپرسی کی حالت میں اپنی بلیاں ملازموں کے حوالے کر کے ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ ایوب خان ہوں یا سکندر مرزا، آئین کی منسوخی اور مارشل لا کے نفاذ کے بارے میں دونوں کے خیالات میں کوئی فرق نہ تھا۔ دونوں نے یہ مہم اکٹھے ہی سر کی تھی لیکن صرف تین ہفتے کے دوران ایسے اختلافات پیدا ہو گئے جن کے باعث مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کو یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔
آئینی اور قانونی نظام کو لپیٹ کر ملک کو ایک نئی اورانجانی منزل تک پہنچا دینی والی ان دونوں شخصیات کے درمیان نفاق کا پہلا بیج ایوب خان ہی کے ایک مطالبے سے پھوٹا، جب انھوں نے سکندر مرزا سے کہا کہ وہ دو خط تحریر کریں۔ ایک وزیر اعظم فیرز خان نون کے نام جس میں بتایا جائے کہ یہ ماورائے آئین قدم کیوں اٹھایا گیا اور دوسرا خود ایوب خان کے نام جس میں مارشل لا کے تمام اختیارات بلاتردد ان کے سپرد کر دیے جائیں۔ سکندر مرزا نے پہلا خط تو فوری طور پر لکھ دیا لیکن دوسرا خط لکھنے میں انھیں تامل تھا لیکن تین دن کی مزاحمت کے بعد یہ کام بھی انھوں نے بالآخر کر دیا۔ سکندر مرزا تادم مرگ یہ شکوہ کرتے رہے کہ مارشل لا کے نفاذ کے فوراً ہی بعد ایوب خان کے تیور بدل گئے تھے۔ اُن کے بقول ایوب خان اتنے شاطر تھے کہ میکاولی بھی ان سے دھوکا کھا جاتا۔ ان دو خطوط کے لکھے جانے کے بعد معاملات درست ہونے کی امید تھی لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ سکندر مرزا کے بقول ایوب خان نے ان سے نگاہ ملا کر بات کرنا بند کر دی تھ۔ دوسری جانب ایوب خان الزام لگاتے ہیں کہ اپنی بیوی کی باتوں میں آ کر سکندر مرزا مطلق العنان شہنشاہ بننا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لئے وہ مجھے قتل کرنے کامنصوبہ بھی بنا چکے تھے۔ ایوب خان کے بقول سکندر مرزا نے انٹیلی جنس کے ذریعے فوجی دستوں کی نقل و حرکت اور ان کی پوزیشن کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش کی جب کہ ایئر فورس کے اعلیٰ افسر مقبول رب کے ذریعے کئی اہم جرنیلوں کر گرفتار کرانے کی کوشش کی۔ ایوب خان کے بقول یہ ایک ایسی خطرناک کوشش تھی جس کے نتیجے میں مسلح افواج کے درمیان تصادم ہو جاتا۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ سکندر مرزا نے ایئر کموڈور مقبول رب کو ٹیلیفون پر ہدایت دی تھی کہ وہ بری فوج کے تین جرنیلوں جنرل یحییٰ خان، جنرل شیر بہادر اور جنرل حمید کو گرفتار کر لیں۔ ان گھبیر حالات میں ایک ہی راستے کے مسافروں یعنی مارشل لگانے والی دو طاقتور شخصیات کے درمیان تیزی سے بڑھنے والی یہ دوریاں سکندر مرزا کے لئے زندگی بھر کا روگ بن کر رہ گئیں اور یہیں سے ایوب خان کے عروج کا سورج طلوع ہوا۔
اصل بات یہی تھی کہ ایک نیام میں دو تلواروں کا سمانا چونکہ ممکن نہ تھا، اس لیے کسی ایک کو جانا ہی تھا اور جانا اسی کو تھا جو طاقت سے محروم تھا۔ زوال کا جو سفر آٹھ اکتوبر 1958 کو مارشل لا سے شروع ہوا تھا، 27 اکتوبر کو صدارت کے منصب سے ان کی معزولی اور دو نومبر 1958 کو ان کی ملک بدری کا باعث بنا اور اسی دربدری میں ہی موت کے منہ تک جا پہنچا۔ پاکستان سے جلا وطنی کے بعد انہوں نے اپنی بقیہ زندگی لندن میں گزاری۔ انہیں 3000 پاؤنڈ پنشن ملتی تھی جس میں ان کا گزر بسر ممکن نہ تھا تاہم ان کے ایرانی اور برطانوی رفقا نے ان کی مالی اور معاشی مدد جاری رکھی جس کے باعث انہوں نے چند سال بہترزندگی گزاری۔ اپنی بیماری کے ایام میں انہوں نے اپنی بیوی ناہید مرزا کو مخاظب ہو کر یہ تک کہہ دیا کہ ہم بیماری کے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اس لیے مجھے مر جانے دو۔ ایوب خان کی اقتدار سے معزولی کے بعد سکندر مرزا نے وطن واپس آنے کی کوشش کی لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں ملی ۔ بالآخر 13 نومبر 1969ء کو ان کی 79 ویں سالگرہ کے دن لندن ہی میں دل کے عارضے کے باعث ان کا انتقال ہوگیا اور وصیت کے مطابق ایران میں دفن ہوئے۔ خیال رہے کہ صدر یحیٰ خان نے ان کی میت پاکستان لانے اور یہاں دفن کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور انکے رشتہ داروں کو بھی جنازہ میں شرکت سے سختی سے روک دیا گیا تھا۔ ایران کے بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی نے خصوصی طیارے کے ذریعے سکندر مرزا کی میت تہران لانے کا حکم دیا یہاں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں تاہم ملک کی بنیادیں ہلانے والے طالع آزماوں کے لئے اس واقعے سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ کئی برسوں تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہنے والے سکندر مرزا کو اگر پاکستان میں قبر کے لئے دو گز زمین بھی نہ مل سکی تو شاید ان کا انجام اس سے بھی برا ہوسکتا ہے۔
