گورنرراج لگتے ہی دہشتگردی کاشورمچنا کیوں بند ہوگیا؟فضل الرحمان

جےیوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے بیانیے کی بنیاد پر کیے گئے، لیکن جیسے ہی گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہوئی، دہشت گردی کا شور بھی ختم ہوگیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کو طویل عرصے سے تجربہ گاہ بنایا گیا ہے، اب انضمام ختم کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں، تاہم قبائلی علاقوں کا اصل مسئلہ آئینی نہیں بلکہ وہاں موجود معدنی وسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے بھی وہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں اصل مسئلہ معدنی ذخائر کا ہے ہمیں معدنیات کی تلاش اور ترقی پر کوئی اعتراض نہیں تاہم وسائل سے متعلق معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قیمتی پتھر امریکی حکام کے دفاتر میں پیش کیے گئے اور امریکی اس بات کا اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ وہ اس معاملے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے صدر مملکت کو بھجوا دیے گئے، لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ والے دن کابینہ میں ان کی بات تک پیش نہیں کی گئی۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں اور حکمرانوں پر اعتماد کیسے کیا جائے؟ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قبائلی عوام کے خدشات دور کرے اور ان کے وسائل کے حوالے سے کیے گئے معاہدے منظرعام پر لائے۔

سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ الزام تراشی اور کردار کشی کی مہم سے سیاسی ماحول خراب کیا جا رہا ہے ہم اختلاف رائے رکھنے والے لوگ ہیں اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں ان کے خلاف تشہیری مہم چلانے کے بجائے سیاسی بات چیت کی جائے، انہیں گالیاں دینے اور ان کے گھر، کچن اور جنریٹر کے پیچھے پڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، وہ اپنے گھر آنے والے تمام لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔

 

Back to top button