سہیل وڑائچ نے PTI کے یوٹیوبرز کا رگڑا کیوں نکالا؟

 

 

 

 

معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ببیرون ملک بیٹھے بھگوڑے یوٹیوبرز نے اپنی ہی جماعت اور اس کی تنظیم کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، اتنا اس کے مخالفین بھی نہیں پہنچا سکے۔ ان کے بقول مشکل وقت میں ملک چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہو جانے والے یہ یوٹیوبرز ڈالر کمانے کی خاطر کبھی بیرسٹر گوہر، کبھی اسد قیصر، محمود اچکزئی، علی امین گنڈاپور اور کبھی سہیل آفریدی کو ذلت آمیز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جس سے تحریک انصاف کو سیاسی فائدے کے بجائے نقصان پہنچ رہا ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی اپوزیشن سیاست کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے دائرے سے باہر نکلنے، دوسرے سیاسی و سماجی حلقوں کو ساتھ ملانے اور اپنی سابقہ غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پی ٹی آئی کو اپنی مقبولیت پر اس قدر ناز تھا کہ وہ نہ مخالف سیاست دانوں کو خاطر میں لاتی تھی، نہ اختلافی رائے برداشت کرتی تھی اور نہ ہی جمہوری مشوروں کو اہمیت دیتی تھی، لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ مذاکرات کا آغاز رہائی کے مطالبے سے ہونا تھا مگر بات رسائی تک بھی نہ پہنچ سکی اور بالآخر معاملات دوائی تک محدود ہو کر رہ گئے۔

 

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے دور اقتدار میں مخالف سیاست دانوں کو جیلوں میں بند رکھنے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی پالیسی اختیار کیے رکھی، جبکہ میڈیا کی آزادی پر بھی اعتراضات اٹھائے جاتے رہے۔ اس وقت جماعت کو بار بار سمجھایا گیا کہ اقتدار ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا اور سیاسی حالات بدلتے دیر نہیں لگتی، لیکن تحریک انصاف نے ان مشوروں پر توجہ نہیں دی۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک صفحے پر ہونے کے باعث اس کی قیادت میں بھی وہی سیاسی تکبر پیدا ہوگیا تھا جو آج حکمران جماعتوں میں دکھائی دیتا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف کی موجودہ مشکلات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنے اور ان پر معذرت کرنے کے بجائے اپنے سوشل میڈیا بیانیے اور مقبولیت کو ہی اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھ لیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اقتدار سے باہر آنے کے بعد ماضی کی بعض غلطیوں پر معذرت کرتی رہی ہیں، لیکن تحریک انصاف آج تک اپنی کسی سیاسی غلطی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ صحافیوں، وکلا، تاجروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ اپنے سابقہ رویے پر بھی نظرثانی کرنے سے گریزاں ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی تنہائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی طبقہ یا شخصیت خلوص نیت سے اس کے کسی موقف کی حمایت بھی کردے تو جماعت کے بعض حامی ہوٹنگ اور تنقید کے ذریعے اسے اپنی صفوں سے دور کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ خوف ہے کہ کہیں مستقبل میں دوبارہ اقتدار ملنے پر ایسے لوگ سیاسی یا حکومتی معاملات میں حصہ دار نہ بن جائیں۔ سہیل وڑائچ کے بقول مقبولیت کے نشے میں قبولیت کی اہمیت کو نظرانداز کرنے والی تحریک انصاف اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اس کے بیانیے پر خود اس کے حامیوں اور عوامی حلقوں میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

 

سوشل میڈیا کو تحریک انصاف کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے سہیل وڑائچ نے اسے بوتل سے باہر نکلنے والے جن سے تشبیہ دی، جو اپنے خالق کے لیے ہی خطرہ بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق بیرون ملک بیٹھے تحریک انصاف کے یوٹیوبرز نے جماعت کی قیادت اور تنظیم کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا کر اس کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ انکے مطابق اس سے جماعت کے اندر انتشار اور بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔

کے پی میں عمران کی مقبولیت کی متھ کیسے ٹوٹی؟

سہیل وڑائچ نے کہا کہ اپوزیشن کی بنیادی ذمہ داری اپنی سیاسی قوت کو مجتمع کرنا اور مختلف طبقات کو اپنے ساتھ ملانا ہوتی ہے، لیکن تحریک انصاف کی حکمت عملی اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ماضی کی کامیاب سیاسی تحریکوں میں دوسری جماعتوں کے علاوہ صحافیوں، وکلا، تاجروں، دانشوروں، کسانوں، مزدوروں اور سماجی کارکنوں کو بھی ساتھ ملایا جاتا رہا ہے اور عوام کے معاشی مسائل، غربت اور بنیادی حقوق کو سیاسی جدوجہد کا حصہ بنایا گیا، جبکہ تحریک انصاف ابھی تک اس سمت میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کرسکی۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کا متبادل کسی دوسرے ہائبرڈ نظام کے بجائے ایک خالص جمہوری اور آئینی نظام ہونا چاہیے۔ سہیل وڑائچ نے تحریک انصاف کے موجودہ سیاسی طرزعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کا بنیادی نعرہ وراثتی سیاست اور شخصی بتوں کو توڑنا تھا، لیکن اب اس کے بعض شدت پسند حامی ایک ہی شخصیت کی غیر مشروط حمایت میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ جماعت اپنے ہی بنیادی نظریے سے دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر تحریک انصاف کی پوری سیاسی حکمت عملی صرف رہائی، رسائی اور دوائی کے گرد گھومتی رہے گی تو اس میں عوامی اور قومی مسائل کا رنگ کہاں سے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے کسی کرشمے، انقلاب یا مسلم لیگ (ن) اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تصادم کا انتظار کرنے کے بجائے پارٹی قیادت کو ایک ملک گیر سیاسی تحریک کی تیاری کرنا ہوگی۔

Back to top button