نون لیگ بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کروانا چاہتی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود مسلم لیگ نون کی وفاقی اور پنجاب حکومتیں بلدیاتی الیکشن کے راستے میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بلدیاتی الیکشن کرانے کے لیے بیک وقت وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور کنٹونمنٹ بورڈز کے ساتھ قانونی اور انتظامی محاذ آرائی کا سامنا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں گزشتہ پانچ برس کے دوران کمیشن چار مرتبہ انتخابی شیڈول جاری کر چکا ہے جب کہ پانچ بار نئی حلقہ بندیاں بھی کر چکا ہے، لیکن ہر مرتبہ وفاق اور پنجاب کی حکومتوں کی جانب سے قانون میں تبدیلیوں کے بعد انتخابی عمل روکنا پڑ گیا۔ بظاہر اس تاخیری حربے کے ذریعے الیکشن لٹکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں آخری بلدیاتی الیکشن نومبر 2015ء میں ہوئے تھے اور منتخب مقامی حکومتوں کی پانچ سالہ مدت 14 فروری 2021ء کو ختم ہو گئی تھی۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت نئی مقامی حکومتوں کے انتخابات 120 روز کے اندر، یعنی 15 جون 2021ء تک ہونا ضروری تھے، لیکن وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان قانونی معاملات اور انتخابی تاریخ پر اختلافات کے باعث پانچ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انتخابات نہیں ہو سکے۔ اس دوران وفاقی حکومت بار بار قانون میں تبدیلی کرتی رہی، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کو اپنا انتخابی شیڈول واپس لینا پڑا۔
اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں تازہ ترین بڑی تبدیلی 10 جنوری 2026ء کو جاری ہونے والے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی، جس کی مدت ستمبر میں ختم ہو گئی۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ آرڈیننس ختم ہونے کے بعد 2015ء کا پرانا قانون دوبارہ نافذ ہو گیا ہے، چنانچہ اس نے 25 اکتوبر کو انتخابی شیڈول جاری کرتے ہوئے 20 دسمبر کو پولنگ کی تاریخ مقرر کر دی۔ تاہم وفاقی حکومت آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانون کی شکل دلوانے کی تیاری کر رہی ہے اور اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو الیکشن کمیشن کو ایک بار پھر انتخابی شیڈول واپس لے کر نئی تیاری کرنا پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کے تحت بلدیاتی انتخابات کی تمام قانونی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ انتخابات پہلے مئی 2022ء میں ہونا تھے، لیکن مختلف قوانین اور ترامیم کے باعث مسلسل تاخیر ہوتی رہی، جس کے نتیجے میں پنجاب میں تقریباً 11 سال بعد بلدیاتی انتخابات ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے۔
پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء تک تین مراحل میں انتخابات کرانے پر اتفاق ہو گیا تھا، تاہم صوبائی حکومت نے بعدازاں دھند اور اسکولوں کے امتحانات کو جواز بناتے ہوئے انتخابات اپریل 2027ء تک ملتوی کرنے کی درخواست کر دی۔ الیکشن کمیشن نے نئی تاریخوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سیکریٹریٹ کو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق انتخابی پروگرام تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں کون فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹتا ہے۔
اسی طرح ملک بھر کے 43 کنٹونمنٹ بورڈز میں بھی بلدیاتی الیکشن نہیں کروائے جا رہے حالانکہ ان بورڈز کی منتخب حکومتوں کی چار سالہ مدت 11 اپریل 2026ء کو ختم ہو گئی تھی اور نئے انتخابات 8 اگست تک ہونا ضروری تھے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے کی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔ قانون کے تحت مدت ختم ہونے کے 120 روز کے اندر انتخابات کرانا لازم ہے، تاہم وفاقی حکومت کی درخواست نہ ملنے کے باعث یہ انتخابات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں بھی مقامی حکومتوں کی مدت ابھی مکمل نہیں ہوئی، البتہ کوئٹہ میں سابقہ مقامی حکومت کی پوری مدت نئے انتخابات کے بغیر گزر گئی۔
مولانا فضل فوجی قیادت سے ناراض کیوں ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نون لیگ کی جانب سے وفاق اور پنجاب میں الیکشن نہ کروانے کی بڑی وجہ حکومتی اداروں اور قانون ساز اسمبلیوں کے اختیارات کے درمیان موجود تضاد ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے، لیکن بلدیاتی الیکشن سے متعلق قوانین بنانے اور ان میں تبدیلی کرنے کا اختیار وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ان کی اسمبلیوں کے پاس ہے۔ اس نظام کی خامی یہ ہے کہ حکومتیں انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد بھی حتیٰ کہ پولنگ سے چند روز پہلے قانون تبدیل کر سکتی ہیں، جس سے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور دیگر انتظامات پر کی جانے والی تمام محنت ضائع ہو جاتی ہے۔
ایسے میں ناقدین کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کر کے یہ پابندی عائد کرے کہ مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد متعلقہ بلدیاتی قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی، انکے مطابق یوں الیکشن کمیشن بلا رکاوٹ بروقت انتخابات کرانے میں کامیاب ہو پائے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز اور اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کے اعلان نے بھی بلدیاتی نظام کا مستقبل مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، کیونکہ حکومت ان تبدیلیوں کو انتخابات میں مزید تاخیر کے جواز کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔
