مولانا فضل فوجی قیادت سے ناراض کیوں ہیں؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ناراضی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں ’’بھائی لوگوں‘‘ نے کچھ نہیں دیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کو سب کچھ دے دیا گیا۔ ان کے مطابق مولانا کی ناراضی کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ہمیشہ ان کے سیاسی حریف رہنے والے فیصل کریم کنڈی پہلے گورنر بنے اور اب گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے چیف ایگزیکٹو بھی بن گئے ہیں، جس سے مولانا کے لیے اپنے حلقے میں سیاسی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی تحریک انصاف سے مخاصمت کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی تاریخ خاصی پرانی اور گہری ہے۔ 2011ء میں جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کو سیاسی طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تو مولانا فضل الرحمان کو بھی اس جماعت کے ساتھ اتحاد پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں مختلف ترغیبات اور فوائد کا لالچ بھی دیا گیا لیکن مولانا نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کسی بھی جماعت سے اتحاد کر سکتے ہیں مگر تحریک انصاف سے نہیں۔

 

سلیم صافی کے مطابق مولانا اس جماعت کے بارے میں بیرونی سازشوں کے نظریات پر محض زبانی نہیں بلکہ دلی طور پر یقین رکھتے تھے اور ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں مشرقیت، دوسروں کو عزت دینے اور عزت برداشت کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔ صافی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ گزشتہ انتخابات کے بعد اپوزیشن میں ہونے کے باوجود مولانا تحریک انصاف سے الگ رہے۔ ان کے بقول تحریک انصاف کے پاس عوامی حمایت تو موجود ہے لیکن سیاسی حکمت عملی اور مؤثر قیادت کا فقدان ہے، جس کے باعث وہ ڈھائی سال میں حکومت کے خلاف کوئی قابل ذکر مشکل کھڑی نہیں کر سکی۔ دوسری طرف مولانا کے پاس سیاسی تجربے، ذہانت اور سٹریٹ پاور کی صلاحیت موجود ہے، اسی لیے تحریک انصاف کے رہنما بار بار ان کے پاس اتحاد کی درخواست لے کر جاتے رہے لیکن وہ آمادہ نہیں ہوئے۔

 

تاہم ایک متنازع فوج مخالف بیان کے بعد حکومتی وزرا کی جانب سے مولانا کے خلاف یکے بعد دیگرے سخت بیانات نے انہیں بددل کر دیا اور وہ تحریک انصاف کے قریب جانے پر مجبور ہو گئے حالانکہ ماضی میں عمران خان مولانا کو ڈیزل کا خطاب دیا تھا۔ سلیم صافی کے مطابق فی الحال مولانا اور عمران کی جماعتوں کا اتحاد صرف پارلیمنٹ تک محدود ہے اور مولانا نے یہ فیصلہ بھی دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے۔

 

سلیم صافی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی حکومت سے ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے عمران خان کے دور حکومت میں اپوزیشن کی وہ لڑائی لڑی جس کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی نہیں اٹھا سکی تھی۔ اس وقت دونوں جماعتوں کی قیادت جیلوں میں تھی لیکن مولانا عمران خان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے، جلسے کیے اور بالآخر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی کیا۔ اس دوران عمران بھی جلسوں میں مولانا کو ڈیزل کہہ کر ان کی توہین کرتے رہے۔ سلیم صافی کے مطابق مولانا کی اس جدوجہد کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو پہنچا، لیکن جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی اور شہباز شریف کی سربراہی میں پی ڈی ایم حکومت قائم ہوئی تو اگرچہ مولانا کو بھی اہم وزارتیں ملیں، تاہم بعد کے انتخابی مراحل میں انہیں وہ سیاسی تعاون نہیں ملا جس کی انہیں توقع تھی۔

 

تجزیہ کار کے مطابق مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مسلم لیگ (ن) کے لیے بھرپور کردار ادا کیا لیکن ان کی جماعت کو اس نوعیت کی کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ وہ اسے صرف اسٹیبلشمنٹ کی بے وفائی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی وعدہ خلافی تصور کرتے ہیں۔ سلیم صافی کے مطابق بلوچستان میں مولانا کے ایک مخالف جماعت کے رہنما کو نواز شریف کی سفارش پر کامیاب کرایا گیا جبکہ مولانا کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کی نشستوں پر بھی انہیں کامیابی دلوانے کے بجائے پشین سے قومی اسمبلی پہنچنا پڑا۔ سلیم صافی کا کہنا ہے کہ مولانا اگرچہ اس معاملے کو کھل کر بیان نہیں کرتے لیکن مسلم لیگ (ن) کی مبینہ بے وفائی نے انہیں شدید بددل کیا ہے۔

 

سلیم صافی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ناراضی کی ایک اور وجہ دونوں کے تعلقات میں آنے والا اتار چڑھاؤ بھی ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں جب فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کی سرپرستی کر رہی تھی تو مولانا اور فوجی قیادت کے تعلقات کشیدہ تھے اور وہ اپنے جلسوں میں اشاروں کنایوں میں اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ تاہم عمران حکومت کے خاتمے اور فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد ان تعلقات میں بہتری آئی، مولانا افغانستان بھی گئے اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے خیرسگالی کے پیغامات بھی ملتے رہے۔ لیکن انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر تعلقات میں تلخی پیدا کر دی۔ مولانا کا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ان کی جماعت کو شکست نہیں ہوئی بلکہ اسے ہرایا گیا، جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے حلقے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر انہیں ہرانا مقصود تھا تو پھر بلوچستان میں وہ کامیاب کیسے ہوئے؟

آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں: وفاقی آئینی عدالت

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مولانا کو وہ سرپرستی اور انتخابی تعاون نہیں ملا جو مسلم لیگ (ن) کو فراہم کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ مولانا وقتاً فوقتاً اپنی تقاریر میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ناراضی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق مولانا اس بات پر بھی شاکی ہیں کہ ماضی میں انکے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کے باوجود انتخابی نتائج کے موقع پر ان کی جماعت کو نظرانداز کیا گیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچایا گیا۔ یہی احساس محرومی ان کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور تحریک انصاف کے ساتھ پارلیمانی اتحاد کے فیصلے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 

صافی کے مطابق مولانا کی ناراضی کا ایک اہم اور نسبتاً ذاتی سیاسی پہلو خیبر پختون خوا کے موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی سے ان کی پرانی انتخابی مخاصمت بھی ہے۔ علی امین گنڈاپور کے سیاسی میدان میں آنے سے پہلے فیصل کریم کنڈی اور ان کے والد ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں انتخابات لڑتے رہے ہیں۔ اب پہلے فیصل کریم کنڈی کو گورنر بنایا گیا اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو بھی بن گئے ہیں۔ سلیم صافی کے مطابق مولانا کے لیے یہ صورت حال خاصی پریشان کن ہو سکتی ہے کیونکہ پہلے ان کے ایک سیاسی حریف علی امین گنڈاپور صوبے کے وزیراعلیٰ تھے اور اب دوسرے پرانے حریف فیصل کریم کنڈی کو صوبائی انتظامی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جس سے ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا کی سیاسی پوزیشن متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

Back to top button