کے پی میں عمران کی مقبولیت کی متھ کیسے ٹوٹی؟

 

 

 

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف حکومت کے خاتمے پر پارٹی کارکنان اور قیادت کے سڑکوں پر نہ نکلنے سے صوبے میں عمران خان اور انکی جماعت کی مقبولیت کی متھ ٹوٹ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے پر مکمل خاموشی کی بنیادی وجوہات میں کمزور تنظیمی ڈھانچہ، قیادت کے آپسی اختلافات اور صوبے میں حکومت کی مایوسی ترین کارکردگی شامل ہیں۔ سیاسی

 

ناقدین کا کہنا ہے کہ پارٹی کی مقبولیت کا بھرم بیچ چوراہے کے پھوٹ چکا ہے چونکہ 13 برس تک صوبے میں برس اقتدار رہنے والی تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے پر قیادت اپنے ووٹرز اور کارکنوں کو احتجاج کے لیے متحرک نہیں کر سکی۔ پارٹی قیادت نے اس صورت حال کی وضاحت یہ کہہ کر کی ہے کہ اگر اس کے کارکنان سڑکوں پر نکلتے تو 9 مئی جیسا ایک اور سانحے رونما ہو سکتا تھا، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی ردعمل نہ آنے کی وجوہات محض ریاستی دباؤ یا گرفتاریوں کا خوف نہیں بلکہ خود تحریک انصاف کی سیاسی اور تنظیمی مشکلات بھی ہیں۔

 

اس صورت حال کے پیچھے ایک اہم پہلو یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ انتخابی کامیابی اور عوام کو کسی سیاسی جدوجہد کے لیے سڑکوں پر لانے کی صلاحیت دو مختلف چیزیں ہیں۔ تحریک انصاف نے 2024 کے انتخابات میں خیبرپختونخوا میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی، لیکن حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آنے والے ردعمل نے ظاہر کیا کہ پارٹی کی انتخابی حمایت کو لازماً اس کے ہر سیاسی فیصلے اور ہر رہنما کے اقتدار کے دفاع کی حمایت نہیں سمجھا جا سکتا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد فوری تصادم کے بجائے قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کے حق میں دکھائی دی۔

 

کے پی حکومت کی معطلی کے بعد سے صوبے بھر میں احتجاجی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور بڑے شہروں میں تحریک انصاف اپنے کارکنوں کو جمع کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے۔ صوبے میں بعض مقامات پر مظاہرے اور گرفتاریاں ہوئیں، لیکن وہ عوامی تحریک کی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔ مبصرین کے مطابق اس کی ایک وجہ ریاستی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا خوف ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ پارٹی کی قیادت میں انتشار، کارکنوں میں مایوسی اور حکومت کی کارکردگی سے متعلق عوامی تحفظات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

انگریزی روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال اعجاز گیلانی نے اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ کے پی میں حکومت کی تبدیلی کے بعد گیلپ پاکستان نے ملک بھر میں فوری سروے کروایا، جس میں تقریباً 80 فیصد جواب دہندگان نے احتجاج کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے کی حمایت کی۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی پر عوامی ناراضی کے باوجود سڑکوں پر احتجاج کے لیے لوگوں میں توقع کے مطابق آمادگی موجود نہیں تھی۔

 

بلال اعجاز گیلانی کے مطابق اس کی پہلی بڑی وجہ عمران خان کی عدم موجودگی میں تحریک انصاف کی قیادت کا عوام کو متحرک کرنے میں ناکام رہنا ہے۔ پارٹی کا بیشتر ووٹ بینک عمران خان کی ذاتی مقبولیت سے وابستہ ہے اور دوسرے رہنما، حتیٰ کہ صوبائی وزرائے اعلیٰ بھی اپنی الگ سیاسی کشش اور عوامی وفاداری پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ حادثہ یہ ہوا ہے کہ اس کی صوبائی قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ لے کر سڑکوں پر نکلی تھی لیکن نہ صرف مارچ ناکام ہوا بلکہ اس کی صوبائی حکومت بھی ختم ہو گئی اور وزیراعلی بھی گرفتار ہو گیا۔

 

انہوں نے دوسری بڑی وجہ تحریک انصاف کی اندرونی تقسیم کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی قیادت مختلف دھڑوں اور بااثر شخصیات کے گرد تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف سابق اور موجودہ وزرائے اعلیٰ اور ان کے حامیوں کا گروپ ہے تو دوسری طرف عمران خان کی بہنوں اور اہلیہ کے قریب سمجھے جانے والے لوگوں کا گروپ ہے، جبکہ قومی اور صوبائی قیادت کے درمیان بھی مختلف معاملات پر اختلاف موجود ہیں۔ ان اختلافات نے ایک ایسی جماعت کے لیے اجتماعی حکمت عملی اختیار کرنا مشکل بنا دیا ہے جس کا ووٹ بینک 2024 کے الیکشن میں بظاہر بہت بڑا نظر آتا تھا۔

 

بلال اعجاز گیلانی نے تیسری وجہ آئین، قانونی طریقہ کار اور ریاستی اداروں کے حوالے سے عوامی رویے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی اقدامات کا اعلان صدر کی آئینی منظوری اور پارلیمانی کارروائی کے ذریعے سامنے آیا، جس سے بعض سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کو یہ تاثر ملا کہ اقتدار کی تبدیلی ایک باضابطہ آئینی طریقہ کار کے تحت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق گیلپ کے سروے میں عوام کی رائے تقسیم نظر آئی، بعض افراد نے ان اقدامات کی حمایت کی، کچھ نے مخالفت کی جبکہ ایک قابل ذکر تعداد نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ تاہم تقریباً 80 فیصد افراد نے احتجاج کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی۔

 

ان کے مطابق گیلپ سروے سے پتہ چلا کہ چوتھی وجہ تحریک انصاف کی انتخابی نشستوں اور حقیقی عوامی حمایت کے درمیان فرق ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو 2024 کے انتخابات میں خیبرپختونخوا کے مجموعی ووٹوں کا تقریباً 45 فیصد ملا تھا جبکہ جمعیت علمائے اسلام تقریباً 18 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پورا صوبہ کسی جماعت کے ساتھ کھڑا ہے۔ دوسری جماعتوں کو ووٹ دینے والے تمام افراد لازماً تحریک انصاف کے مخالف نہیں، لیکن انہیں تحریک انصاف کے حامی بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل فوجی قیادت سے ناراض کیوں ہیں؟

بلال اعجاز گیلانی کہتے ہیں کہ حکومت کے خاتمے پر احتجاج کی ناکامی کی وجوہات میں گرفتاریوں کا خدشہ اور ریاستی دباؤ بھی شامل ہیں، تاہم ان وجوہات کو عوامی خاموشی کی بنیادی وجہ قرار دینا درست نہیں ہو گا۔

Back to top button