ٹک ٹاکر پتلو کی شادی لوگوں کے لیے بربادی کیسے بنی؟

معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی شادی کی تقریب ڈسکہ کے باسیوں کے لیے بربادی کا باعث بن گئی، ہوا کچھ یوں کہ پتلو کی جانب سے اپنی مہندی کی تقریب میں کروڑوں روپے کے نقد انعامات، ایک کار اور 50 موٹر سائیکلیں بانٹنے کے اعلان پر ہزاروں افراد جمع ہو گئے اور گراؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے 6 کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن اس سانحے کا ذمہ دار مسٹر پتلو شادی والا گھر چھوڑ کر فرار ہو گیا ہے اور پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پتلو سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر لوگوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرتا ہے اور اس کا شمار اس وقت پاکستان کے چند سب سے زیادہ پیسے کمانے والے ٹک ٹاکرز میں ہوتا ہے ۔ ڈسکہ پولیس کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ ہفتے کی شام ڈسکہ روڈ پر واقع فراز سپورٹس گراؤنڈ میں پیش آیا، جہاں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔ شادی کی تقریبات کئی روز سے جاری تھیں اور مسٹر پتلو نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مداحوں اور عام شہریوں کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس موقع پر دو کروڑ روپے نقد، ایک کار، 50 موٹر سائیکلیں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی تحائف تقسیم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جس کے باعث سیالکوٹ اور گردونواح کے اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ گراؤنڈ پہنچ گئے۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق تقریب کے دوران مسٹر پتلو سٹیج پر آیا اور اس نے شرکا کو فوری طور پر گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہہ دیا۔ چنانچہ وہاں موجود ہزاروں لوگوں نے بیک وقت سٹیڈیم کے اندر گھسنے کی کوشش کی جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران عقیل اور ریحان نامی دو نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے ۔
واقعے میں زخمی ہونے والے محمد رفیق کے مطابق لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ رات 9 بجے کے بعد پتلو کی مہندی میں شریک لوگوں میں مہنگے انعامات تقسیم کیے جائیں گے، جس کے باعث شام ڈھلنے کے ساتھ ہی ہجوم بڑھتا چلا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اچانک فراز سٹیڈیم کی گراؤنڈ کے دروازے کھولے گئے تو لوگ اس خیال سے اندر کی طرف دوڑے کہ جو پہلے پہنچے گا اسے انعام ملے گا اور باہر رہ جانے والے تحائف سے محروم ہو جائیں گے۔ رفیق خود بھی بھگدڑ کے دوران زخمی ہوا سے انعام کی بجائے زخم ملے۔
ظفروال سے پتلو کی مہندی میں شرکت کے لیے آنے والے عبدالرشید نے الزام لگایا کہ منتظمین اور سکیورٹی گارڈز کے پاس ہجوم کو قابو میں رکھنے کا کوئی مؤثر انتظام نہیں تھا اور انعامات کی تقسیم کے حوالے سے بار بار بدلتے اعلانات نے لوگوں میں بے چینی اور غصہ پیدا کیا۔
عبدالرشید کے مطابق کبھی شرکا کو بتایا جاتا کہ انعامات چند گھنٹوں بعد تقسیم ہوں گے اور کبھی پروگرام منسوخ ہونے کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ ان کے بقول بعدازاں لاؤڈ سپیکر پر سب کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کے لیے کہا گیا، جس سے بھگدڑ شروع ہوئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سکیورٹی گارڈز نے لوگوں کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا تو شرکا نے ڈنڈوں سے بچنے کے لیے واپس بھاگنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں دوبارہ افراتفری پھیل گئی اور متعدد افراد ہجوم کے پیروں تلے روندے گئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مسٹر پتلو کی ٹیم نے سوشل میڈیا پر انعامات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی تھی، جس کے نتیجے میں صرف سیالکوٹ ہی نہیں بلکہ گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد، منڈی بہاؤالدین اور نارووال سے بھی لوگ تقریب میں پہنچے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی کی، جبکہ ہجوم کو سنبھالنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔ واقعے کے دوران مین ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی اور ہنگامہ آرائی کے دوران شہری املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
سہیل وڑائچ نے PTI کے یوٹیوبرز کا رگڑا کیوں نکالا؟
دوسری جانب ڈسکہ کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسٹر پتلو کو فراز سپورٹس سٹیڈیم میں چار دیواری کے اندر نجی تقریب اور محفلِ سماع کے انعقاد کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا، تاہم اس کی شرائط کی خلاف ورزی پر تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق پروگرام رات نمازِ عشا کے بعد شروع ہونا تھا، لیکن منتظمین کی جانب سے شام تقریباً چار بجے ہی انتظامات میں خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے این او سی منسوخ کر دیا۔ اس کے باوجود تقریب کے لیے لوگوں کی آمد اور اجتماع کا سلسلہ جاری رہا۔ واقعے کے بعد مسٹر پتلو نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی کی تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں اور لوگ مزید کسی پروگرام میں شرکت کے لیے نہ آئیں بلکہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک روز قبل اپنے گھر میں گرنے کے باعث زخمی ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے تقریبات میں شریک نہیں ہو رہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے بھی وضاحت کی کہ مسٹر پتلو اپنے مداحوں اور مہمانوں کو خوشی کے موقع پر تحائف دینا چاہتے تھے، تاہم ہجوم ان کے قابو سے باہر ہو گیا، سٹیڈیم کا گیٹ جلد کھلنے اور سکیورٹی گارڈز کی کمی کے باعث حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے مقدمے میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق دفعات شامل کی ہیں۔ مسٹر پتلو کا اصل نام انصر محمود ہے اور اس کے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں فالوورز ہیں۔
