ٹرمپ کی ایران پرایٹمی حملے کی تیاری،امریکی صحافی نےتاربخ بتادی

امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دباؤ کے باعث ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملہ کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ چند روز میں متوقع ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں ٹکر کارلسن نے لکھاٹرمپ آئندہ ہفتے کے اختتام، یعنی 7 نومبر تک، جوہری ہتھیار استعمال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرسکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ فی الحال اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہیں اور نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی بات سن رہے ہیں، جو ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کے حامی ہیں۔
کارلسن کے مطابق مجوزہ حملے کا ہدف وسطی ایران میں واقع پیک ایکس ماؤنٹین ہو سکتا ہے، جہاں اسرائیلی انٹیلی جنس کے دعوے کے مطابق ایران نے اپنا جوہری افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کردیا ہے۔
ٹکر کارلسن نے لکھا کہ امریکی روایتی ہتھیار 300 فٹ گہری ٹھوس گرینائٹ چٹان کو عبور کرکے پہاڑ کے اندر موجود سرنگوں کو تباہ نہیں کرسکتے، اس لیے ان کے بقول فوجی کارروائی کے لیے واحد آپشن جوہری حملہ رہ جاتا ہے۔
کارلسن نے ایک باخبر مبصر کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر ٹرمپ سے روزانہ رابطہ کرتے ہیں۔
ٹکر کارلسن کے مطابق گزشتہ ہفتے کے انتخابی نتائج کے بعد نیتن یاہو کو نئی حکومت بنانے کے لیے کنیسٹ میں 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے ٹرمپ کو اسرائیلی سیاست میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے دوسری جماعتوں کے ساتھ معاہدہ کرانا پڑ سکتا ہے۔
کارلسن نے دعویٰ کیا کہ وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کی صورت میں نیتن یاہو کو سیاسی رسوائی، تحقیقات اور ممکنہ طور پر جیل جانے جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مستقبل کے لیے ٹرمپ کی حمایت درکار ہے اور اسی وجہ سے وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
