50ہزاربیلو پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیوں ہوا؟

پاکستان میں بلیو پاسپورٹ حاصل کرنا بااثر سرکاری و سیاسی شخصیات کے لیے محض سرکاری سفر کی سہولت نہیں بلکہ ایک ایسی خصوصی مراعت بن چکا ہے جس کے حصول کے لیے ہر بااثر شخص کوشاں دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں قواعد و ضوابط میں نرمی اور سرکاری عہدوں کی بنیاد پر اس پاسپورٹ کے اجرا کے نتیجے میں اس کی تعداد 75 ہزار تک پہنچ گئی، تاہم اب وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسے محدود کرکے 25 ہزار تک لانے کا فیصلہ کیا ہے لہذا 50 ہزار بلیو پاسپورٹ منسوخ کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ بلیو پاسپورٹس کی بے تحاشا تقسیم پاکستان کے عام گرین پاسپورٹ کی عالمی ساکھ، درجہ بندی اور ویزا فری سفری سہولتوں کے حصول میں رکاوٹ بن رہی ہے، لیکن دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ اس اقدام کو اپنے استحقاق اور قانونی حقوق میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ بلیو یا آفیشل پاسپورٹ بنیادی طور پر ان سرکاری عہدیداروں کو جاری کیا جاتا ہے جنہیں سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں بیرون ملک سفر کرنا پڑتا ہے۔ عام شہریوں کو جاری ہونے والے سبز پاسپورٹ کے برعکس اس کی اہمیت یہ ہے کہ متعدد ممالک میں اس کے حامل افراد کو ویزا کے حصول میں نسبتاً آسانی، خصوصی سفری سہولتیں اور بعض صورتوں میں ویزا فری داخلے کی اجازت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری حیثیت کے باعث بیرون ملک امیگریشن کے مراحل اور سفارتی معاملات میں بھی انہیں نسبتاً سہولت مل سکتی ہے۔
یہی خصوصیات اسے پاکستان میں سیاسی رہنماؤں، ارکان پارلیمنٹ، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر بااثر شخصیات کے لیے ایک پرکشش مراعت بناتی ہیں، چنانچہ ہر وہ شخص جو کسی سرکاری عہدے یا بااثر منصب پر فائز ہو، اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا خواہش مند نظر آتا ہے۔پاکستان میں بلیو پاسپورٹس کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ماضی میں اس کے اجرا کے دائرے میں مسلسل توسیع اور مختلف سرکاری عہدوں کو اس سہولت کے لیے اہل قرار دینا ہے۔ اس کے نتیجے میں صرف وفاقی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ اعلیٰ سرکاری افسران، ججز، بیوروکریسی کے مختلف عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ تک کو یہ پاسپورٹ جاری کیے جاتے رہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ پاکستان کے بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار تک پہنچ گئی تھی، جسے اب کم کرکے تقریباً 49 ہزار کر دیا گیا ہے اور 24 ہزار پاسپورٹ مزید منسوخ کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق اس وقت بھی 49 سے 50 ہزار کے قریب آفیشل پاسپورٹس جاری ہیں اور عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان نے اتنی بڑی تعداد میں سرکاری پاسپورٹس کیسے جاری کر دیئے۔
طلال چوہدری کے مطابق بالخصوص خلیجی ممالک نے پاکستان میں آفیشل پاسپورٹس کی غیر معمولی تعداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، کیونکہ اس صورت حال سے عام پاکستانیوں کے لیے ویزا فری معاہدوں اور سفری سہولتوں کے امکانات متاثر ہو رہے تھے۔ وزارت داخلہ کا موقف ہے کہ دنیا میں کسی ملک کے پاسپورٹ کی قدر صرف اس کی سفری دستاویز کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے حامل افراد کی تعداد، استعمال اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ سے بھی جڑی ہوتی ہے، اس لیے بلیو پاسپورٹس کی بے تحاشا تقسیم کو روکنا ضروری ہے۔
محسن نقوی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وہ بلیو پاسپورٹس کے غیر ضروری اجرا کو روکنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کر رہے ہیں اور اس معاملے میں کئی رکاوٹیں دور کرنا پڑ رہی ہیں۔ ان کے بقول حکومت کا مقصد کسی مخصوص طبقے سے سہولت چھیننا نہیں بلکہ پاسپورٹ کے اجرا کا ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جس کے تحت صرف مستحق اور متعلقہ سرکاری ذمہ داریاں انجام دینے والے افراد ہی اس کے اہل ہوں۔ اسی پالیسی کے تحت اب ارکان پارلیمنٹ کو دس سال کے بجائے تین سال کی مدت کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت ایک سے تین سال کے درمیان مدت اور تجدید کے نظام کے ذریعے اس کے اجرا پر کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ ارکان پارلیمنٹ کے بلیو پاسپورٹ ختم نہیں کیے جا رہے بلکہ ان کی مدت کم کرکے اجرا اور تجدید کو وزارت داخلہ کے ضابطوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔
تاہم حکومت کی اس پالیسی پر پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ ایکٹ میں پانچ سے دس سال تک کی مدت کے پاسپورٹ کا تصور موجود ہے، اس لیے وزارت داخلہ کے انتظامی قواعد قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق جب ارکان پارلیمنٹ کو ہر دو یا تین سال بعد پاسپورٹ کی تجدید کے لیے وزارت داخلہ سے رجوع کرنا پڑے گا تو اس سے پاسپورٹس کی مجموعی تعداد میں کمی نہیں ہوگی بلکہ منتخب نمائندوں کو بار بار سرکاری اجازت اور منظوری کا محتاج بنا دیا جائے گا۔ ان کا اعتراض یہ بھی ہے کہ اگر حکومت بلیو پاسپورٹس کی تعداد کم کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کے اجرا کے بنیادی معیار اور اہل افراد کی فہرست پر نظرثانی کرنی چاہیے، نہ کہ پہلے سے اہل ارکان پارلیمنٹ کے لیے تجدید کا عمل مشکل بنانا چاہیے۔
قائمہ کمیٹی کے دیگر ارکان نبیل گبول اور چوہدری نصیر احمد عباس نے بھی وزارت داخلہ اور بیوروکریسی کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر گریڈ 18 کے سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ کو بلیو پاسپورٹ جاری کیے جا سکتے ہیں تو عوام کے منتخب نمائندوں کو اس سہولت کے حصول اور تجدید کے لیے وزارت داخلہ کے چکر کیوں لگانے پڑتے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت پہلے یہ واضح کرے کہ کس قانون اور معیار کے تحت بیوروکریسی کے افسران اور ان کے اہل خانہ کو یہ سہولت حاصل ہے اور اس کے بعد ارکان پارلیمنٹ کے معاملے میں یکساں پالیسی اختیار کی جائے۔
