نئے صوبے: سالانہ 750 ارب روپے اخراجات کون دے گا؟

پاکستان میں گورننس بہتر بنانے کے لیے نئے صوبوں کی مجوزہ تشکیل کی صورت میں قومی خزانے پر سالانہ 750 ارب روپے تک کا سالانہ اضافی بوجھ پڑے گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی؟

اسلام آباد کے تحقیقی ادارے پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب کو تین صوبوں میں تقسیم کرنے سے سالانہ 47 سے 57 ارب روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ ملک کے تمام 30 ڈویژنوں کو الگ صوبوں کا درجہ دینے کی صورت میں یہ لاگت بڑھ کر 610 سے 750 ارب روپے سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام پر اٹھنے والے انتظامی اخراجات اگر مناسب منصوبہ بندی کے بغیر بڑھتے رہے تو ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور عوامی سہولتوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہر نئے صوبے کے قیام کے لیے ایک مکمل سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا، جس میں گورنر، وزیراعلیٰ، صوبائی اسمبلی، سیکریٹریٹ، سرکاری محکمے اور ہائی کورٹ شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، دفتری اخراجات، سرکاری رہائش گاہوں اور دیگر انتظامی ضروریات کے لیے بھی مستقل وسائل درکار ہوں گے۔ تحقیقی رپورٹ کے تخمینے کے مطابق ایک نئے صوبے کا بنیادی انتظامی ڈھانچہ چلانے پر سالانہ 22 سے 26 ارب روپے خرچ ہو سکتے ہیں، جبکہ اسمبلی ہالز، سیکریٹریٹس اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر پر آنے والی ابتدائی لاگت اس کے علاوہ ہوگی۔

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی کی تحقیقی رپورٹ میں نئے صوبوں کی تشکیل کے دو مختلف منصوبوں کا مالی جائزہ لیا گیا ہے۔ پہلے منصوبے کے تحت پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرکے بہاولپور، جنوبی پنجاب اور باقی ماندہ پنجاب کے نام سے الگ صوبے قائم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس طرح ملک میں صوبوں کی تعداد چار سے بڑھ کر چھ ہو جائے گی اور سالانہ اضافی اخراجات کا تخمینہ 47 سے 57 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ دوسرے منصوبے کے تحت ملک کے تمام 30 ڈویژنوں کو الگ صوبوں کا درجہ دینے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا ہے، جس پر سالانہ 610 سے 750  ارب روپے تک خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل کے ساتھ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کا معاملہ بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صوبوں کی تعداد بڑھانے سے وفاقی محاصل میں صوبوں کا مجموعی حصہ خودبخود نہیں بڑھے گا بلکہ موجودہ وسائل ہی زیادہ انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنا ہوں گے، جب تک این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ موجودہ فارمولے میں وسائل کی تقسیم کے لیے آبادی کو 82 فیصد، غربت اور پسماندگی کو 10.3 فیصد، محاصل جمع کرنے کی صلاحیت کو 5 فیصد اور آبادی کے مقابلے میں رقبے کو 2.7 فیصد وزن دیا جاتا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے بعد اسی فارمولے کے تحت وسائل کی تقسیم اور ہر صوبے کی مالی ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

تحقیق میں اس خدشے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے چھوٹے اور کم وسائل رکھنے والے علاقوں پر انتظامی اخراجات کا تناسب کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بلوچستان کے لورالائی ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے کی صورت میں این ایف سی کے تحت سالانہ تقریباً 46 ارب روپے ملنے کا تخمینہ ہے، لیکن اس رقم کا تقریباً 49 فیصد صرف صوبائی انتظامی ڈھانچہ چلانے پر خرچ ہو سکتا ہے۔ ژوب کے لیے یہ تناسب 45 فیصد جبکہ رخشان کے لیے 37 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کو الگ صوبوں کا درجہ دینے کی صورت میں انتظامی اخراجات ان کے متوقع مالی وسائل کے مقابلے میں صرف 3 سے 4 فیصد رہ سکتے ہیں۔ یوں ایک ہی نوعیت کے انتظامی ڈھانچے کا خرچ چھوٹے صوبوں کے ترقیاتی وسائل کا کہیں زیادہ حصہ نگل سکتا ہے۔

تاہم نئے صوبوں کے قیام حامیوں کا کہنا ہے کہ مالی اخراجات کو بنیاد بنا کر ان علاقوں کی محرومیوں اور انتظامی مسائل کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا جو طویل عرصے سے وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور صوبائی دارالحکومتوں سے دوری کی شکایت کرتے آ رہے ہیں۔ پنجاب کی غیر معمولی آبادی، جنوبی پنجاب میں ترقیاتی عدم مساوات اور بہاولپور کی تاریخی و سیاسی شناخت الگ صوبوں کے مطالبے کی اہم وجوہات ہیں۔ نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے قیام سے عوام کی سرکاری اداروں تک رسائی آسان ہوگی، فیصلے مقامی سطح پر ہوں گے اور ترقیاتی وسائل کی تقسیم میں بہتری آئے گی۔ تاہم تحقیق کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر نئے صوبوں کے قیام اور ان کے انتظامی ڈھانچے پر ہی قومی وسائل کا بڑا حصہ خرچ ہو جائے تو ان علاقوں کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟

تحقیق کے مطابق اگر بلدیاتی اداروں کو مستقل مالی وسائل، منتخب نمائندے اور واضح انتظامی اختیارات فراہم کر دیئےجائیں تو عوام کے بیشتر مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ہر علاقے میں الگ گورنر، وزیراعلیٰ، اسمبلی اور ہائی کورٹ قائم کرنے کے بھاری اخراجات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر تحقیق کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے پہلے ہر مجوزہ صوبے کے مالی وسائل، اپنی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت، انتظامی اخراجات اور ترقیاتی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی واضح کرنا ہوگا کہ وہ نئے صوبوں کے قیام اور ان کے مستقل اخراجات کے لیے وسائل کہاں سے فراہم کریں گی۔ اصل مقصد انتظامی نقشے پر نئی لکیریں کھینچنا نہیں بلکہ عوام کو بہتر حکمرانی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولتیں اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے، کیونکہ اگر نئے صوبوں کا قیام عوامی سہولتوں کے بجائے انتظامی اخراجات میں اضافے کا باعث بن گیا تو بہتر گورننس کا یہ منصوبہ قومی خزانے پر ایک مستقل مالی بوجھ بن سکتا ہے۔

Back to top button