شاہد خاقان کی پارٹی میں کون کون سے لوٹے شامل ہوں گے؟

مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جلد اپنی نئی سیاسی پارٹی کو لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے قریبی ذرائع کے مطابق ’نئی جماعت ’پاکستان ریفارمز پارٹی‘ کا باضابطہ اعلان آئندہ ماہ کیا جائے گا۔‘شاہد خاقان عباسی کی جانب سے نئی جماعت بارے جلد اعلان کرنے کے حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد یہ سوال زیر بحث ہے کہ ان کی قیادت میں بننے والی نئی سیاسی پارٹی میں کون کون سے سیاست دان شامل ہو رہے ہیں؟ذرائع کے مطابق ’موجودہ سیاسی جماعتوں سے ناراض اور نکالے گئے سیاست دان نئی سیاسی پارٹی کا حصہ ہوں گے۔‘

ابتدائی معلومات کے مطابق لوٹوں کی تشکیل پانے والی اس پارٹی کے نمایاں چہروں میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل، سابق وزیراعلٰی و گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان اور بلاول بھٹو زرداری کے سابق ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر شامل ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بننے والی نئی سیاسی جماعت میں ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی شمولیت کے قومی امکانات ہیں۔مفتاح اسماعیل ’پاکستان ریفارمز پارٹی‘ کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ مفتاح اسماعیل مسلم لیگ ن کے ناراض رہنماؤں میں شامل ہیں۔وہ پی ڈی ایم کی حکومت میں وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے، تاہم جب اُنہیں ہٹا کر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنایا گیا تو مفتاح اسماعیل اور ان کی پارٹی کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئیں۔

مفتاح اسماعیل کے بعد شاہد خاقان عباسی کی سیاسی جماعت میں ایک اور لیگی رہنما سردار مہتاب احمد خان عباسی بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت سے ناراضی کے بعد عام انتخابات 2024 میں سردار مہتاب عباسی نے اپنی ہی پارٹی کے سیاسی حریف سابق وفاقی وزیر امان اللہ خان جدون کے بیٹے اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی خان جدون کی حمایت کی تھی۔سردار مہتاب احمد خان کے اس اعلان کے بعد مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت اُن سے سخت ناراض ہو گئی اور شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا

شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بننے والی نئی سیاسی جماعت میں ایک اور ناراض سیاست دان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر اور بلاول بھٹو زرداری کے سابق ترجمان مصطفی نواز کھوکھر کی شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل کے معاملے پر شاہد خاقان عباسی سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔وہ اس پارٹی کی تشکیل کے لیے حالیہ کچھ عرصے سے خاصے متحرک بھی رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 2022 میں پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی راہیں جُدا کر لی تھیں۔ ان کا تعلق ملک کے ایک اہم سیاسی گھرانے سے ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں مصطفیٰ نواز کھوکھر کے والد نواز کھوکھرقومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رہ چکے ہیں۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر 2018 کے سینیٹ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سندھ سے جنرل نشست پر ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ماضی میں وزیراعظم کے معاون خصوصی اور مسلم لیگ ق کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے قریب سمجھے جانے والے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے دسمبر 2022 میں پیپلز پارٹی سے راہیں جُدا کر لی تھیں۔ انہوں نے پارٹی سے کنارہ کشی کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پارٹی قیادت کے عدم اعتماد کی وجہ سے بطور سینیٹر اور پارٹی کی ذمہ داریوں سے مستعفی ہوا تھا۔‘

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ احسان فراموش سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نئی سیاسی پارٹی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟شاہد خاقان عباسی کے مطابق انھوں نے یہ فیصلہ طویل مشاورت اور سوچ بچار کے بعد کیا ہے۔ ’نئی سیاسی جماعت مشاورت سے بن رہی ہے۔ راتوں رات نمودار نہیں ہو رہی، مئی میں نئی سیاسی پارٹی کا قیام عمل میں آجائے گا۔‘

شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نئی پارٹی محض الیکشن جیتنے کے لیے نہیں بنا رہے۔ ہم خفیہ ہاتھ والے لوگ نہیں ہیں، اور نہ ہی ہم اقتدار برائے اقتدار چاہتے ہیں۔‘ ’ملک کی تینوں بڑی جماعتیں اقتدار میں رہ چکی ہیں یا اقتدار کا حصہ ہیں۔ موجودہ بڑی جماعتوں میں وہ سوچ نظر نہیں آتی جو ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکے۔‘سابق وزیراعظم کے مطابق ’لوگ چاہتے ہیں کہ اب نئی سیاسی پارٹی آنی چاہیے جو ان کے مسائل کا حل تلاش کر سکے۔ملک میں رائج نظام اب نتائج نہیں دے رہا۔یہ عوام کے دُکھوں کا مداوا نہیں کر سکتا۔‘ اس لئے انھوں نے ساتھیوں کے ساتھ ملکر نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم اب دیکھنا ہے کہ لوٹوں اور باغیوں کو شامل کر کے تشکیل پانے والی نئی سیاسی جماعت عوام کو کسی قسم کا ریلیف دلانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

Back to top button