خیبرپختونخوا میں کرپشن کے تازہ الزامات نے ایک بار پھر سیاسی اقتدار، سرکاری ٹھیکوں اور مبینہ فرنٹ مین نیٹ ورک پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چند سال پہلے پشاور میں پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کرنے والا ایک شخص مختصر عرصے میں ارب پتی بن گیا اور صوبے کے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کمیشن کے نظام کا مرکزی کردار بن گیا۔ یہ کہانی عبدالہادی عرف ہادی پتنگ کی ہے، جسے سہیل آفریدی کا مبینہ فرنٹ مین قرار دیا جا رہا ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہادی پتنگ کی مالی حیثیت میں غیر معمولی تبدیلی اس وقت شروع ہوئی جب اس کے کزن محمد سہیل آفریدی تحریک انصاف کے دور میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے معاون خصوصی بنے۔ الزام ہے کہ اس کے بعد ہادی پتنگ نے محکمے کے معاملات میں اثرورسوخ حاصل کر لیا اور پشاور کے ایک پوش علاقے میں کرائے کے بڑے بنگلے کو مبینہ طور پر ٹھیکوں، تبادلوں اور کمیشن کی ڈیلز کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً 10 فیصد کمیشن وصول کرنے کا ایک منظم نظام قائم تھا۔ الزامات کے مطابق سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد اس مبینہ نیٹ ورک کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا اور صوبے کے مقامی ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے بڑے منصوبے بھی اس کی زد میں آ گئے۔ ان منصوبوں میں مالی معاملات کی نگرانی کرنے والے فنانس منیجر محمد طلحہ کو بھی مبینہ نیٹ ورک کا اہم کردار قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بیک وقت چار منصوبوں کے مالی امور دیکھ رہے تھے، جس پر ایشیائی ترقیاتی بینک نے اعتراضات اٹھائے اور مستقل فنانس منیجر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 24 اگست کو پشاور میں ایک بڑی تعمیراتی کمپنی کے دفتر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مارا، جہاں مبینہ طور پر بین الاقوامی منصوبوں سے وابستہ بعض عہدیدار بھی موجود تھے۔ اس کارروائی کے دوران فنانس منیجر محمد طلحہ کا لیپ ٹاپ ضبط کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تحریر میں کہا گیا ہے کہ اس لیپ ٹاپ سے مبینہ مالی لین دین اور کمیشن کے نیٹ ورک سے متعلق معلومات سامنے آئیں، جبکہ بعد ازاں محمد طلحہ کو عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا۔ اسی سلسلے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہونے سے قبل ہادی پتنگ کو مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے ذریعے دبئی فرار کرایا گیا۔

اس معاملے نے مزید اہمیت اس وقت اختیار کی جب خیبرپختونخوا کے گورنر کے مشیر اطلاعات شمر ہارون بلور نے ایک پریس کانفرنس میں ہادی پتنگ پر پوسٹنگز، تبادلوں اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے۔ ان کے مطابق ہادی پتنگ نے 4 ارب روپے کی کرپشن کی، جبکہ بلدیات، اعلیٰ تعلیم اور محکمہ مواصلات و تعمیرات میں بھی ریکارڈ کی مبینہ خوردبرد ہوئی۔ شمر ہارون بلور نے یہ بھی بتایا کہ ہادی پتنگ سمیت سہیل آفریدی کی ٹیم کے دیگر افراد کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر کسی سرکاری محکمے میں واقعی کمیشن اور غیر قانونی مالی لین دین کا منظم نظام موجود تھا تو اس کی ذمہ داری صرف مبینہ فرنٹ مین تک محدود نہیں رہ سکتی۔ یہ بھی جانچنا ہوگا کہ ٹھیکوں کی منظوری کس نے دی، ادائیگیوں کی نگرانی کس کے پاس تھی، سرکاری افسران کا کردار کیا تھا اور مبینہ مالی فوائد کن افراد تک پہنچے۔ ہادی پتنگ کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے سابقہ مثال فرح گوگی کی بھی دی جا رہی ہے، جنہیں پنجاب میں عثمان بزدار حکومت کے دور کا مبینہ فرنٹ پرسن قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس تقابل کا مقصد یہ سوال اٹھانا ہے کہ بیرون ملک موجود مبینہ ملزمان کو پاکستان واپس لانے کے لیے حکومت اور تحقیقاتی ادارے کتنے مؤثر اقدامات کر سکتے ہیں۔ تاہم دونوں معاملات کی قانونی نوعیت اور دستیاب شواہد الگ الگ ہیں، اس لیے انہیں یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہادی پتنگ کو دبئی سے واپس لا کر مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں گی، یا یہ معاملہ بھی ماضی کے کئی ہائی پروفائل مقدمات کی طرح طویل قانونی کارروائیوں میں الجھ جائے گا؟ اگر ان الزامات میں حقیقت ہے تو صرف مبینہ فرنٹ مین کی گرفتاری کافی نہیں ہوگی؛ اس پورے انتظامی اور مالیاتی نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہوگا جس کے ذریعے سرکاری منصوبوں کے فنڈز کا غلط استعمال ہوا۔ عوام کو سیاسی بیانات نہیں بلکہ دستاویزی ثبوت، شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق احتساب درکار ہے۔

Back to top button