مولانا پر پیپلز پارٹی کی تنقید سےPMLNمشکل میں کیوں؟

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مسلسل سخت ہوتے بیانات نے حکومتی حلقوں میں ایک نئی سیاسی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ کبھی اسی سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر تحریک چلانے والے مولانا آج مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ماضی میں حکومتوں کے خلاف سیاسی تحریکوں کی قیادت کرنے والے مولانا کے معاملے میں موجودہ حکومت بظاہر کوئی واضح اور متفقہ حکمت عملی اختیار نہیں کر پا رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت سیاسی دباؤ کے ذریعے انہیں خاموش کرانا چاہتی ہے یا ان کے سخت مؤقف کا جواب سیاسی مکالمے سے دینے پر مجبور ہے؟

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کے لہجے میں شدت اور اسٹیبلشمنٹ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے کے عمل نے حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔ حکومتی وزرا کی جانب سے مولانا اور ان کے صاحبزادے کے خلاف نیب نوٹسز کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے طرزِعمل پر تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب رانا ثنا اللہ کا نسبتاً نرم رویہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کے اندر بھی مولانا کے معاملے پر مکمل یکسوئی موجود نہیں۔ اس غیر واضح حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ سیاسی دباؤ مولانا کو کمزور کرنے کے بجائے انہیں مزید سیاسی فائدہ پہنچائے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں موجودہ صورت حال کا ایک اہم پہلو ماضی اور حال کا تضاد ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور مسلم لیگ (ن) و پیپلز پارٹی کی قیادت نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ان کی سربراہی میں سیاسی جدوجہد کی تھی۔ آج وہی مولانا ان جماعتوں کی حکومت کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ جس سیاسی قوت نے ماضی میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کی، موجودہ حکمران اس کے سخت مؤقف کا سامنا کرنے میں کیوں محتاط دکھائی دیتے ہیں؟

پیپلز پارٹی کی جانب سے مولانا کے بیانات پر تنقید ضرور سامنے آ رہی ہے، لیکن سلمان غنی کے تجزیے کے مطابق اصل امتحان مسلم لیگ (ن) اور اس کی حکومت کا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت مولانا کے قریبی حلقوں کے ذریعے انہیں یہ پیغام پہنچا رہی ہے کہ وہ اپنے بیانات اور سیاسی مؤقف میں اس حد تک آگے نہ بڑھیں کہ حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں۔ تاہم مولانا کی جانب سے پسپائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ وہ اپنے مؤقف کو آئین، قانون اور جمہوریت کی روح کے مطابق قرار دے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے معاملے کو محض دباؤ، تنقید یا قانونی نوٹسز کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کے سیاسی مضمرات کو بھی سمجھا جائے۔ اگر حکومت کے اندر مختلف آوازیں سامنے آتی رہیں اور کوئی واضح پالیسی اختیار نہ کی گئی تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ دوسری طرف مولانا کا سخت مؤقف حکمران اتحاد کے لیے ایک نئی سیاسی آزمائش بن سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب حکومت کو پہلے ہی مختلف سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی مولانا پر کتنی تنقید کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی سابقہ سیاسی اتحادی قیادت کے ساتھ موجودہ اختلافات کو کس طرح سنبھالتی ہے۔ کیا حکومت مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرے گی یا کشیدگی بڑھنے دے گی؟ فی الحال مولانا پسپائی کے لیے تیار نظر نہیں آتے، اور یہی صورت حال آنے والے دنوں میں حکومت کی سیاسی حکمت عملی کا اصل امتحان بن سکتی ہے۔

Back to top button