بابر اعظم کا اعتراف، مداح میری کارکردگی کے منتظر ہیں، بہتری کے لیے مسلسل محنت کر رہا ہوں

قومی ٹیسٹ کپتان کا کہنا ہے کہ نوجوان کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر ٹیم میں آئے ہیں، غلطیوں سے سیکھنا اور اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہی ان کی توجہ ہے۔

راولپنڈی: پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ مداح ان کی کارکردگی کے منتظر ہیں، تاہم کوئی بھی کھلاڑی مکمل نہیں ہوتا اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ سب یہ سوال کر رہے ہیں کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی تعداد زیادہ کیوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں ہی فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ آگے بڑھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کے کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر آ رہے ہیں اور اچھی فارم میں ہیں۔ ان کی سوچ ہمیشہ مثبت رہتی ہے اور وہ بطور سینئر کھلاڑی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا، بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ کھیلیں گے، اتنی ہی بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں تبدیلی سب کے سامنے ہے اور ٹیم میں سات سے آٹھ کھلاڑی نوجوان ہیں۔ ٹیم کا انتخاب سلیکٹرز اور کوچ نے کیا ہے۔ جو کچھ گزر چکا ہے، اس پر بات کرنے کے بجائے غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ میں کبھی کارکردگی اچھی ہوتی ہے اور کبھی نہیں، جبکہ ہر روز ایک جیسی غلطیاں بھی نہیں ہوتیں۔

قومی کپتان نے کہا کہ ان کے پاس پریکٹس اور محنت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ دورۂ انگلینڈ میں جو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے، تاہم ہر بات بتانا ضروری نہیں۔ سلیکٹرز اپنا کام کرتے ہیں اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

بابر اعظم نے مزید کہا کہ جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہ سلیکٹرز کے سامنے اپنی بات رکھتے ہیں۔ ان کے لیے ہر سیریز اہم ہوتی ہے اور وہ ہر میچ میں ٹیم کو کامیابی دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ مداح ان کی کارکردگی دیکھنے کے منتظر ہیں۔ بطور سینئر کھلاڑی وہ جونیئرز کو تجاویز اور مشورے دیتے ہیں، جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کو خود پر اعتماد ہے۔

محمد یوسف کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ وہ ایک لیجنڈ اور پاکستان کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ ان کا محمد یوسف سے تاحال رابطہ نہیں ہوا، تاہم اگر وہ رابطہ کریں گے تو بابر ان سے ضرور سیکھیں گے۔

Back to top button