عمران کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح کی خواہش صرف ڈرامہ ہے؟

عمران خان کا ایک بہت سنجیدہ مسئلہ یہ ھے کہ وہ نہ اپنے غصہ پر قابو پا سکتے ہیں نہ اپنی زبان پر اُن کو کوئی کنٹرول ہے۔ اسی غصہ اور لایعنی باتوں نے اُن کو اس حال میں پہنچا دیا۔ جو باتیں اُنہوں نے گزشتہ روز کیں اُنہیں پڑھ کر عمران خان کی اپنی ہی خواہش کہ اُن کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں ، کیسے پوری ہو سکتی ہے۔ عمران خان خود جو کچھ چاہتے ہیں اُس کے حصول کے لیے وہ خود سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کل ایک طرف وہ فوج کی اعلیٰ قیادت پر حملے کر رہے تھے تو دوسری طرف یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اگر اپنی حکومت کے خاتمہ کے باوجود وہ جنرل باجوہ سے دو بار ملاقات کر سکتے تھے تو وہ اب بھی کسی سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک ہی گفتگو میں عمران خان موجوہ آرمی چیف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اُن پر الزامات کی بوچھاڑ بھی کر دیتے ہیں۔ یہ کیا پالیسی ہے؟ ایسے بیانات سے عمران خان، تحریک انصاف یا پاکستان کا کیا فائدہ ہو گا؟ یہ سب سمجھ سے بالاتر ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے غصہ اور زبان پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے تو کچھ عرصہ خاموشی اختیار کر لیں۔ معاملات کو ٹھنڈا ہونے دیں۔ اپنی توجہ عدالتوں سے ریلیف لینے پر مرکوز کریں تاکہ خود اور اپنی اہلیہ کو جیل کی سلاخوں سے باہر لاسکیں۔ اس دوران اپنی پارٹی کی قیادت اور ذمہ داروں کو فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوشش کرنے دیں۔
انصار عباسی بتاتے ہیں کہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور اُن کی کابینہ کے پشاور کور کمانڈر ہائوس میں اجلاس اور افطاری کی خبروں پر پی ٹی آئی کو کئی لوگوں کی طرف سے طعنوں کا سامنا ہے کہ لاہور کور کمانڈر ہائوس کو آگ لگانے والے پشاور کور کمانڈر ہائوس میں خاموشی سے اجلاس اور افطاری کے لیے پہنچ گئے۔ حالانکہ سوچنا یہ چاھئے کہ ایک طرف پاکستان کی فوج ہے جس کی پاکستان کے دفاع اور سالمیت کے لیے اہمیت سے انکار ممکن نہیں جبکہ دوسری طرف ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جس کی عوام میں مقبولیت دوسری سیاسی جماعتوں سے بہت زیادہ ہے لیکن اُس سے تعلق رکھنے والا ایک گروہ فوج پر 9 مئی کے حملوں میں شریک تھا۔9 مئی کو جو ہوا اس میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ کے بعد عمران خان کے فوج مخالف بیانیہ کا بنیادی کردار تھا۔ ویسے تو فوج اور تحریک انصاف کے درمیان رابطے 9 مئی سے پہلے مکمل طور پر ختم ہوچکے تھے لیکن 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کیلئے حالات بہت خراب ہو گئے اور پی ٹی آئی لیڈرشپ بار بار اس خواہش کا اظہار کرتی رہی کہ اُن کے فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے رابطے بحال ہونے چاہئیں تاکہ دونوں کے درمیان تلخ ماحول کو ختم کیا جا سکے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ بار بار عمران خان بھی یہ شکایت کرتے رہے کہ اسٹیبلشمنٹ اُن سے بات ہی نہیں کر رہی۔ بانی چیئرمین تحریک انصاف نے یہ بات اپنی گرفتاری اور انتخابات کے بعد بھی ایک سے زیادہ مرتبہ کی۔ اس تناظر میں خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ کی کابینہ سمیت کور کمانڈر ہائوس پشاور اجلاس اور افطاری میں شرکت ایک بریک تھرو سے کم نہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اس میٹنگ کا فوکس صوبے کے سیکورٹی معاملات تھے جو اگر ایک طرف خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت اور فوج کے درمیان بہتر ورکنگ ریلیشن شپ اور دونوں کے درمیان ماضی کی تلخیاں ختم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور فوج کے درمیان ان رابطوں میں اضافہ ہوگا جس میں سب کی بہتری ہے۔ لیکن عمران خان کی پالیسی کی سمجھ نہیں آتی۔ اُنہوں نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر فوج کی اعلیٰ قیادت کو نشانے پر رکھ لیا۔ اب ایسے میں فوج اور تحریک انصاف کے درمیان جس خلیج میں کمی اور خاتمہ کی بات کی جارھی ھے اور جو عمران خان اور تحریک انصاف خود بھی چاہتے ہیں وہ کیسے ممکن ہے۔
